سر عام پھانسی کی سزا اورشریعت و آئین

پاکستان کے قیام سے لیکر آج تک یہ بحث جاری وساری ہے کہ آخر اس ملک کے قیام کے مقاصد کیا تھے اور کیا ہیں؟ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ 1973ء کے آئین کی تشکیل کے بعد بھی یہ طے نہ ہوسکا کہ یہاں قانون سازی اور اس کے نفاذ کے اداروں کے درمیان اختیارات کی صورت کیا ہوگی۔ کہنے کو تو پارلیمنٹ ملک کا قانون ساز ادارہ ہے اور عدالت عالیہ (سپریم کورٹ) آئین کی تشریح اور تحفظ اور مقدمات کے فیصلوں کیلئے اعلیٰ ترین ادارہ ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں آئین و قانون اور عدلیہ پر جو گزری ہے سو گزری ہے۔ قانونی موشگافیاں اور نظریات ضرورت نے ہمیں پارلیمان و عدل و انصاف کے شعبے میں جو نقصان پہنچایا ہے وہ صاحبان نظر سے پوشیدہ نہیں لیکن جب کبھی پاکستان میں قانون سازی کے حوالے سے کوئی ایسی کوشش ہوئی ہے جس میں ایک طرف شریعت مظہرہ کے تقاضوں کی تکمیل کے امکانات ہوتے ہیں اور دوسری طرف غریب عوام کے بنیادی حقوق اور بالخصوص جان ‘ مال’ آبرو کی حفاظت کی ضمانت نظر آتی ہو تو ہمارے ہاں کے لبرل’ سیکولر اور نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں کے دلوں میں ان لوگوں کیلئے ( جنہیں درندہ کہنا بھی درندے کی توہین ہے کیونکہ درندہ بھی اپنے ہم جنسوں کیساتھ ان جیسا سلوک نہیں کرتا) انسانیت کے جذبات اُمڈ آتے ہیں۔ درحقیقت اس قسم کے لوگ ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ زینب بی بی جیسے معصوم کلیوں کو بیدردی کیساتھ پائوں تلے مسلنے والوں سے ہمدردی کے پیش نظر سرعام پھانسی کی سزا کی مذمت ومخالفت کرتے ہیں لیکن یہ بات بہرحال طے ہے کہ ان کے اسلامی سزائوں کی مخالفت کی پشت پر بڑے دور رس اور اپنے مفادات وغیرہ اور ذاتی سافٹ امیج پر مبنی ارادے اور اندازے ضرور ہوتے ہیں جو بہرحال افسوسناک ہے۔
انسانیت کیخلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کیخلاف قرآن وسنت میں سزائوں کا واضح بیان اور حکم ہے۔ بدکاری کا ارتکاب کرنے والوں پر شرعی گواہی اور قانونی لوازمات کی تکمیل کے بعد سرعام سو کوڑے لگانا سورہ نور میں بہت واضح طور پر بیان ہوا ہے اور ساتھ ہی یہ حکم بھی ہے کہ لوگوں کی ایک جماعت (گروہ) اس سزا کو نافذ ہوتا دیکھنے کیلئے موجود ہو اور ان ناظرین کیلئے ہدایت ہے کہ ان کے دلوں میں ان مجرموں کیلئے کوئی نرمی اور ترحم کا جذبہ پیدا نہ ہونے پائے کہ یہ ایمان کے تقاضوں کیخلاف ہے۔ سعودی عرب میں جو امریکہ اور مغرب کا مضبوط اتحادی ہے قتل کے بدلے قصاص کی سزا کو جمعتہ المبارک کے دن نماز کے بعد کھلے عام لوگوں کے سامنے نافذ کیاجاتا ہے اور شادی شدہ زانی کو بھی جمعتہ المبارک کی نماز کے بعد متعلقہ شہرکی جامع مسجد کیساتھ ملحقہ میدان میں رجم کیا جاتا ہے اور اس سلسلے میں وہ کسی کی پرواہ بھی نہیں کرتے اور نہ ہی کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو احکام مسلمانوں اور انسانیت کیلئے نازل فرمائے ہیں اس میں انسانیت کی خیر وفلاح ہی مضمر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات رحمن و رحیم ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمتہ للعالمین ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر انسانیت کاکوئی خیرخواہ ہو ہی نہیں سکتا۔ لہٰذا پاکستان کی پارلیمنٹ اور اس کے اراکین اور بالخصوص ہمارے ممدوح علی محمد خان مبارکباد اور خراج تحسین کے مستحق ہیں کہ دیر آید درست آید کے مصداق آخرکار غریبوں اور عوام کے معصوم بچوں کی حفاظت کیلئے وہ قرارداد اکثریت کی رائے سے پاس کروائی جس کے تحت ایسے گھنائونے جرائم کہ ایک تو پانچ چھ برس سے دس پندرہ برس تک کے بچوں کیساتھ اس فصل مذموم کا ارتکاب کیا جائے جس کو فطرت سلیم تصور ہی نہیں کرسکتی اور پھر ان کو بہیمانہ’ ظالمانہ اور سنگدلانہ انداز میں قتل کرکے ویرانوں میں جانوروں کے بھنبھوڑنے کیلئے پھینک دیا جاتا ہے’ کو سرعام پھانسی کی سزا دی جاسکے گی۔ ہمارے وزیر قانون صاحب نے فرمایا ہے کہ پاکستان کے آئین اور شریعت میں سرعام پھانسی دینا قانون کے منافی ہے، فواد چودھری اور شیریں مزاری جیسے ماڈرنسٹ افکار واذہان کے مالکوں نے اس کی مذمت کی ہے۔ ایک طرفہ تماشا ہے کہ قومی اسمبلی میں جو قرارداد اکثریتی رائے سے پاس ہوتی ہے اس کیخلاف اپنی ہی پارٹی کے مخصوص افراد کھلے عام مذمت و مخالفت کرتے ہیں۔ وزیر اعظم کو چاہئے کہ بات بات پر سروے کرانے والے اداروں بالخصوص گیلپ اور جیو وغیرہ پارلیمان کی اس قرارداد پر بے لاگ عوامی سروے کراکر عوام اور حکومت کے سامنے پیش کرے۔ زینب بی بی اور دیگر بچے جو ان درندہ صفت لوگوں کی درندگی کا شکار ہو کر شہادت کے مرتبے پر فائز ہو چکے ہیں، ان بچوں کے والدین سے پوچھا جائے کہ وہ اس بارے کیا رائے رکھتے ہیں۔ ایسے والدین نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ وہ انصاف چاہتے ہیں اور انصاف یہی ہے کہ ان کو پھانسی ایسی عبرت ناک دی جائے تاکہ آئندہ کوئی شیطان اور ہوس پرست اس قسم کے ارادے سے پہلے سو بار سوچے اور اس کے سامنے ان درندوں کو دی گئی سزا آنکھوں کے سامنے مجسم ہو کر آئے اور یوں ان انسانیت سوز جرائم کو لگام دیا جاسکے۔ سعودی عرب میں شریعت مطہرہ کے ان ہی قوانین کے نفاذ کی برکت سے دنیا میں سب سے کم جرائم وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ پاکستان میں اپنے قیام کے مقاصد (اسلامی فلاحی ریاست کا قیام) جلد ازجلد پایہ تکمیل کو پہنچے۔ آمین۔