شکر ہے خان صاحب ”گھبرا” ہی گئے!

جب سے عمران خان حکومت میں آئے ہیں انہوں نے عوام کو جو تسلی سب سے زیادہ دی وہ یہی ہے کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ وہ یہ تسلیاں دیتے رہے اور ہم اپنے اردگرد لوگوں کی عزت نفس کے جنازے اُٹھتے دیکھتے رہے لیکن اچھے دنوں کی آس میں خود کو گھبرانے سے بھی روکتے رہے۔ ایسے ایسے سفید پوشوں کو گلیوں میں ہاتھ پھیلاتے دیکھا جو خود زکوة نکالا کرتے تھے۔ پہلے صرف انتہائی غریب لوگ ہی بچیوں کی شادیوں کیلئے مانگا کرتے تھے لیکن اس عرصے کے دوران ”اچھے اچھوں” کو ناصرف عام لوگوں کے سامنے منہ کھولتے دیکھا بلکہ جہیز فراہم کرنے والی تنظیموں کے دفاتر کے چکر لگاتے بھی دیکھا۔ معاشرے میں جرائم اور خصوصاً گلی محلوں کے جرائم کی شرح میں جو اضافہ ہوا اس کی گواہی ہر چھوٹا بڑا ایماندار پولیس افسر اور وہ جو جرائم کی رپورٹنگ کرتے ہیں وہ دیدیں گے۔ ہاں جرائم میں جہاں کمی ہوئی ہے وہ ہے پولیس کا ریکارڈ، جسے بہت ہوشیاری کیساتھ ”برابر” رکھا جاتا ہے کہ لٹنے والے کو مال برآمد کرنے کا دلاسہ دیکر جس طرح سے پرچہ کٹوانے سے روکا جاتا ہے اس میں تو ہماری پولیس کے لوگ یدطولٰی ہے اور یوں بہت سارے جرائم ریکارڈ کا حصہ ہی نہیں بن پاتے۔
اس عرصے میں ایک اور اخلاقی جرم جس نے سوسائٹی میں دوبارہ سے سر اُٹھا لیا ہے وہ ہے جسم فروشی، جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ میں اس سب کچھ کو دیکھنے اور محسوس کرنے کے باوجود اس فعل کی زیادتی کو اپنا وہم سمجھتا رہا لیکن تین دن پہلے ایک سابق صوبائی وزیر نے جس طرح سے اس عمل میں اضافے کی گواہی دی ہمیں اپنی آنکھوں پر اعتبار کرنا ہی پڑا۔
یہ تو وہ امور تھے جن کا بار کسی نہ کسی پر ڈالاجاسکتا ہے لیکن کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جو خالص عوامی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کو معمول میں اشیاء خورد ونوش مہنگے داموں بیچتے رہے، امیر طبقہ خصوصاً حکومتوں میں جگہ بنانے والوں نے منصوبہ بندی کرکے ایک ایک اشیائے ضروریہ کے بحران کے دنوں میں اربوں روپے کمائے لیکن گلی محلوں میں ریڑھیوں پر سامان بیچنے والوں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ حکومت کے کچھ ادارے روزانہ کی بنیاد پر چھاپوں اور حکومتی کنٹرول کی کہانیاں سناتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی یہ نہیں بتاتا کہ بازار میں گوشت اور سبزی سے لے کر ہر چیز حکومت کے مقررکردہ ریٹ پر کیوں دستیاب نہیں؟ جب ہم ابھی چھوٹے تھے تو ایک ہی مجسٹریٹ پورے شہر کیلئے کافی ہوتا تھا جس کا رعب ہی اتنا ہوتا تھا کہ اس کا نام سننے والے فوری اپنے تول کو پورا کر دیتے تھے۔اس پوری تمہید کا مقصد یہی ہے کہ ہم صرف تنقید ہی نہ کریں بلکہ کچھ اصل حقائق کو بھی سامنے لائیں اور یہ بھی احساس دلائیں کہ ہمیں خان کے گھبرانے کا کس بے چینی سے انتظار تھا۔ گزشتہ اتوار کی صبح اخبارات میں سب سے بڑی خبر پر نظر پڑی تو جان میں جان آگئی کہ شکر ہے آخرکار عوام کو دلاسے اور تسلیاں دینے والا عمران خان خود بھی عوام کی خراب ہوتی حالت کو دیکھ کر حکومتی کارگزاری سے کسی حد تک ناراض ہوگیا ہے اور اسی لئے انہوں نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ کچن آئٹمز کو ہر صورت سستا کیا جائے اور اگر ان کی حکومت ایسا نہیں کرسکی تو انہیں مزید حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
”چوروں” کے پیٹ سے پیسے نکالنے سے لے کر تسلیوں کے معاملے پر ہمت ہارنے تک کا سفر آخرکار اختتام پذیر ہو ہی گیا۔ وزارت خزانہ کو یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ وہ باقی جس مد میں بھی پیسے کاٹتے ہیں کاٹ لیں لیکن عوام کے کچن کو چلنے دیں۔
ایک ایسے دور میں جب عمران خان کے اردگرد مافیاز کا راج ہے اور عوام کو جس طریقے سے حال ہی میں ٹماٹر، آٹے، چینی اور دیگر اشیا کے نام پر لوٹا گیا اور خود وزیراعظم نے بیان دیا کہ انہیں معلوم ہے کہ مافیاز کہاں ہیں؟ ایسے میں یہ کام مشکل لگتا ہے کہ عام آدمی کو کوئی ریلیف مل سکے اور ایک ایسے وقت میں جب شبرزیدی بیماری کا بہانہ بناکر سائیڈ لائن ہوگئے ہوں اور حفیظ شیخ بھی ”اڑنے” کیلئے پر تول رہے ہوں تو عوام کیلئے اچھی خبر کہاں سے آئے گی۔ یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ہمیں حکومت سے اچھے اقدامات کی توقع نے گھبرانے سے روکے رکھا اور ہم یہی دعا کرتے رہے کہ کاش حکمرانوں کو خود احساس ہو جائے۔
ایک ایسے وقت میں جب عمران خان کی جانب سے کچن آئٹمز یعنی آٹا، گھی، چینی، دودھ، دہی وغیرہ وغیرہ کی قیمتیں کم کرنے کا اعلان حکومت کر ہی چکی ہے، اولاً حکومت کو سب سے پہلے بڑے مافیاز کیخلاف کچھ نہ کچھ اقدامات کرکے عوام کو اس معاملے پر اپنی سنجیدگی کا احساس دلانا ہوگا۔ ثانیاً بازاروں میں بڑھتے فقیروں کی تعداد کو کم کرنا ہوگا، جرائم کی بنیادی وجوہات پر نظر رکھنا ہوگی جبکہ سب سے زیادہ زور اس پر دینا ہوگا کہ وزیراعظم کو بروقت لوگوں کی حالت کی مکمل معلومات دینی ہوگی تاکہ وہ اس پر بروقت ”گھبرا کر” مناسب احکامات جاری کرسکیں۔ ایسے میں ملک کے سول خفیہ ایجنسیوں کو خود حکومتی راہداریوں میں مٹرگشت کرنے والے مافیا ممبران کی نشاندہی کرنی ہوگی۔ مختصر یہ کہ یہ ایک شخص کے کرنے کا کام نہیں ہے اس میں حکومت، اس کے اداروں اور اس سے بھی زیادہ معاشرے کا کردار شامل ہے کہ وہ ایسے عناصر پر نظر رکھے جو اجتماعی مفاد کیلئے کام کرنے کی بجائے اپنی جیبوں پر نظر رکھتے ہیں۔
اس حکومت کے بننے کے بعد سے اب تک مختلف بحرانوں کے دوران عوام کی جیبوں سے اربوں روپے لوٹے جاچکے ہیں اس لئے جب تک ان بحرانوں کے مجرم بے نقاب نہیں ہوں گے مستقبل میں بھی یہ سلسلہ نہیں روکا جاسکتا۔