صفر+ صفر =صفر

مولانا فضل الرحمن حکومت کیخلاف احتجاج کیلئے دوبارہ تیار ہیں۔ جماعت اسلامی کو اب اس احتجاج میں شامل ہونے کی حاجت نہیں رہی، سو وہ جمعیت اور مولانا کے اس ایجنڈے سے فاصلہ رکھ رہے ہیں، لگتا ہے کہ جماعت اسلامی کو اب مولانا فضل الرحمن کے سیاسی ایجنڈے کے حوالے سے کچھ بصیرت حاصل ہوگئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی سیاست کو پی ٹی آئی دور میں شدید دھچکا لگا ہے، اس دھچکے کی شدت ایسی ہے کہ قریب قریب مولانا فضل الرحمن کی سیاست کو مے کی حالت میں ہے۔ وہ باربار کوششیں کرتے ہیں کہ معاملات میں کوئی بہتری آئے۔ احتجاج کے ذریعے اپنی سیاست کے اس نیم مردہ جسم کو جگانے اور اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی کوششیں بھی کرتے ہیں لیکن افسوس کہ طبیعت میں کوئی افاقہ دکھائی نہیں دیتا۔ مولانا فضل الرحمن نے اس سے پہلے بھی احتجاج کا آغاز کیا تھا۔ دھرنے کیلئے اسلام آباد میں دکھائی بھی دیئے پھر خاموشی سے لوٹ گئے اور اسی لوٹ جانے میں ان کی سیاست کی رہی سہی زندگی بھی لٹ گئی۔ اب وہ خود ایک بہت بڑا سیاسی زیرو بنے ہوئے ہیں اور ان کیساتھ شامل سیاسی جماعتیں بھی محض زیرو ہی ہیں۔ جتنے بھی زیرو جمع کر لئے جائیں نتیجہ صفر ہی رہتا ہے، سو جس احتجاج کی تیاری مولانا فضل الرحمن کیلئے مسئلہ بقاء کی طرح اہم ہے اس کے نتائج سے ہم پہلے ہی بخوبی واقف ہیں۔ ہاں ذرا ان کی سیاست کے جسم کو کچھ ڈرپ لگ جائے گی۔ معاملات میں دیر ہوسکتی ہے، کچھ سہارا ہو سکتا ہے، بہتری نہیں ہوسکتی۔ میں سمجھتی ہوں کہ اس حقیقت کا ادراک خود مولانا فضل الرحمن کو بھی ہے مگر ان کی بھی مجبوری ہے، سیاست نہ کریں تو کیا کریں، ساری زندگی بس یہی کام کیا ہے، اس کے علاوہ کوئی اور کام آتا بھی نہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے ساڑھے گیارہ ہزار سے بھی زائد مدارس ہیں، ان کی طاقت میں بھی کمی سی ہے۔ ایک جانب حکومت ان مدرسوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے، دوسرے افغانستان میں معاملات قدرے بہتر ہیں، امریکہ کی موجودگی کے باعث جہادکی خواہش میں کچھ کمی سی ہے۔ کشمیر کا معاملہ یوں ہی مودی نے ایسے بگاڑ رکھا ہے اور ہمارا مؤقف ایسا ہے کہ ادھر بھی خاموشی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کشمیر کمیٹی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اب بے چارے بہت سے صفر کبھی اکرم درانی کے گھر اکٹھا ہو کر ڈرائنگ روم کی سیاست کرتے ہیں اور کبھی کہیں اور بیٹھ کر پلان بناتے ہیں۔ دونوں بڑی جماعتوں سے بھی وہ ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں ہی اپنی اپنی پریشانیوں کا شکار ہیں۔ وہ اس وقت مولانا فضل الرحمن کی نیم مردہ سیاست کے جسم میں جان ڈالنے کیلئے استعمال نہیں ہونا چاہتیں۔ احتساب نے ان کی عقل خبط کر رکھی ہے۔ یوں بھی اپنے گزشتہ احتجاج میں جب مولانا فضل الرحمن نے مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کی مدد مانگی تو میاں شہباز شریف نے اس حوالے سے بہت کھل کر میاں نوازشریف کو مشورہ دیا اور انہیں مولانا فضل الرحمن کے زیرادارت احتجاج سے دور رہنے کا کہا، یہ بھی کہا کہ مولانا فضل الرحمن مسلم لیگ(ن) کو استعمال تو کرلیں گے لیکن کسی بھی بہتری یا فتح کے نتیجے میں سارا کریڈٹ خود ہی لینے کی کوششیں کریں گے جو مسلم لیگ(ن) کیلئے کسی طور بھی فائدہ مند نہ ہوگا۔ اس وقت تو میاں نوازشریف نے شہباز شریف کی بات نہ مانی لیکن اب کی بار ظاہر ہے کہ صورتحال سمجھ آہی چکی تھی سو اب احتجاج میں نہ مسلم لیگ(ن) شامل ہے اور نہ ہی پیپلزپارٹی نے پلو پکڑایا ہے۔ پیپلزپارٹی تو اس احتجاج میں بھی کہتی رہی کہ آپ احتجاج کریں ہم آپ کو خوش آمدید کہیں گے۔ اس وقت بہرحال جماعت اسلامی ان کیساتھ تھی۔ جانے کیوں انہوں نے شہباز شریف کے اپنے بھائی کو دیئے مشورے کو بھی نہ سنا ورنہ حقیقت تو تب بھی ان کیلئے وہی تھی جو مسلم لیگ(ن)کیلئے تھی، وہ اس احتجاج میں مولانا فضل الرحمن کیساتھ شامل رہے اور یقیناً انہوں نے انتہائی شدت سے یہ محسوس کیا کہ انہیں اس شمولیت کی قطعی ضرورت نہیں تھی۔ سو اب کی بار وہ ان کیساتھ شامل نہیں ہورہے۔جماعت اسلامی والے یوں بھی سادہ لوح لوگ ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمن کے پائے کے سیاستدان اس ملک میں کم ہی ہیں۔ وہ جس طرح سیاست کرسکتے ہیں اس کا اندازہ ان سادہ لوگوں کو کرنا انتہائی مشکل ہے۔ اگرچہ مولانا خود کوئی کسر نہیں چھوڑتے نہ ہی کسی سے اپنے رویئے چھپاتے ہیں۔ پھر تاریخ بھی کئی حقائق کی دلیل ہوا کرتی ہے لیکن اس سب کے باوجود جماعت اسلامی کی جانب سے کئی باتوں میں انتہائی سادگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے جو کئی بار خاصا حیرت انگیز بھی ہوتا ہے۔
بہرحال یہ سب باتیں اپنی جگہ مولانا فضل الرحمن کی سیاست کے رنگ ہمیشہ ہی بہت انوکھے بہت نرالے ہوتے ہیں۔اسی لئے ہر ایک کو اپنی جگہ متوجہ کرتے ہیں۔ ہم سب بھی خوشی خوشی ان کی سیاسی کار گزاریوں پر نظر رکھیں۔ملک کو ان کی سیاست کا فائدہ ہو نہ ہو تجزیہ نگاروں کا دل لگا رہتاہے۔ ہماری کیفیت اب بھی ایسی ہے بس اس وقت مولانا فضل الرحمن کی سیاست کی کیفیت اچھی نہیں۔ ان کے بعد کوئی قدآور شخصیت بھی نہیں جو جمعیت علمائے اسلام کو سنبھال سکے۔بہرحال اس وقت اس احتجاج نے ایک ننھی مُنی سی جھنڈی تو اُٹھائی ہے اور یہ اس سے زیادہ بڑھنے والی بھی نہیں لیکن چند دن دل خوش رہے گا۔