عوام فوری ریلیف کے منتظر ہیں

وفاقی حکومت کی جانب سے عوام کو سستی اشیاء اور روزگار کی فراہمی کا منصوبہ جس کے تحت ملک میں50ہزارپرچون کی دکانیں کھولی جائیں گی، سرکاری طور پر ایک اور اچھی کوشش ضرور ہے لیکن اس کی کامیابی پہلی سکیموں کی طرح ہی غیر یقینی ہے۔ اس امر کے بھی جائزے کی ضرورت ہے کہ ملک میں پہلے ہی گلی گلی محلہ محلہ پرچون کی دکانوں کی موجودگی میں مزید دکانیں کھولنے کی گنجائش کتنی ہے اور مزید کھولے جانے والے دکانوں کی کامیابی اور ان کے پہلے سے چلنے والی دکانوں پر اثرات کس حد تک مرتب ہونگے۔ہم سمجھتے ہیں کہ عوام کو ابتدائی طور پر ریلیف کا احساس دلانے کیلئے یوٹیلیٹی سٹورز کے پیکج کو رمضان المبارک تک جاری رکھنے کا منصوبہ حکومت کی ایک ممکنہ کوشش کے طور پر تو احسن ہے لیکن حکومت نے اس کیلئے جتنی رقم مختص کرنے کا عندیہ دیا ہے وہ ملکی آبادی کے تناسب سے تقریباً پنتیس روپے فی کس بتایا جاتا ہے، اس اقدام سے جہاں سرکاری خزانے پر آٹھ سے دس ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا وہاں اس سے عوام کو اتنا ریلیف نہیں ملے گا کہ ان کو مہنگائی میں کمی کا احساس ہو۔ مشکل امر یہ ہے کہ ملک میں ذخیرہ اندوزی اور دیگر حربوں کے ذریعے جنوری میں جو ریکارڈ توڑ مہنگائی کی گئی ہے اور عوام کی جیبوں سے جو اربوں روپے نکالے گئے ہیں ان کی واپسی کاکوئی ذریعہ نہیں۔ وزیراعظم اور مشیر اطلاعات نے ان عناصر کے نام معلوم ہونے اور ان کو نشان عبرت بنانے کا جو عندیہ دیا ہے اگر حکومت واقعی یہ امر یقینی بنا سکے اور عوام ان عناصر اور ذخیرہ اندوز مافیا کو نشان عبرت بنتا دیکھیں تو اس قسم کی مزید کوششوں کی روک تھام ممکن ہوگی اور عوام کو بھی ایک گونا اطمینان ہوگا کہ حکومت نے ٹھوس اقدامات کئے ۔ ہمارے تئیں مہنگائی میں کمی لانے کیلئے حکومت جو بھی اقدامات کرے اس میں سر فہرست اس تجارتی وسرکاری مافیا کیخلاف سخت ترین اقدامات ہونے چاہئیں۔ وزیراعظم نے طور خم اور چمن سرحد پر سمگلنگ سے چشم پوشی اختیار کر کے ملک میں آٹا بحران میں کردار ادا کرنے والے اور قومی خزانے کو کروڑوں روپے سے محروم کرنے والے جن عناصر کو نشان عبرت بنانے کا عندیہ دیا تھا اس حوالے سے نظر آنے والے اقدامات کی ضرورت ہے۔ یوٹیلیٹی سٹورز کے ذریعے عوام کو ریلیف دینے اور پرچون سٹورز کے ذریعے عوام تک اس کا دائرہ وسیع کرنے کے اقدامات کی تحسین کے باوجود ہم اسے ناکافی امر اسلئے سمجھتے ہیں کہ ملک بھر میں اور خاص طور پر پسماندہ علاقوں میں یوٹیلیٹی سٹورز کا نیٹ ورک موجود نہیں اور جو مجوزہ پرچون کی دکانیں ہوں گی ان کا بھی ان علاقوں میں قیام کی اس لئے کم ہی گنجائش ہے کہ پانچ لاکھ روپے قرض لیکر پرچون کی دکانیں کھولتے ہوئے خود روزگاری کیساتھ ساتھ قرضے کی رقم کی واپسی کا بندوبست مشکل امر نظر آتا ہے۔ عام آدمی کو ریلیف کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے راشن کارڈ کا جتنا جلد اجراء ہوسکے بہتر ہوگا۔ اس ضمن میں بینظیرانکم سپورٹ پروگرام اور وزیراعظم کے احساس پروگرام کی صورت میں حکومت کے پاس جو مستند ڈیٹا موجود ہے اس سے اور نادرا کے ریکارڈ سے مزید تصدیق اور نادار خاندانوں کا تعین ہوسکے گا۔ راشن کارڈ کے اجراء کیلئے کم آمدنی کے حامل خاندانوں اور پسماندہ علاقوں کے مکینوں کو رمضان المبارک سے قبل راشن کارڈوں کے ذریعے رعایتی نرخوں پر اشیائے خوردنی کی بہم رسانی شروع ہونی چاہئے اس سہولت کو کم آمدنی والے سرکاری ونجی اداروں کے ملازمین تک دوسرے مرحلے میں بڑھا یا جائے۔ وزیراعظم نے وزارتوں سے کٹوتی کر کے محولہ اقدامات کیلئے وسائل کی فراہمی کی جو ہدایت جاری کی ہے اس پر عملدرآمد میں نہ صرف وقت درکار ہوگا بلکہ وزارتوں کی جانب سے مطلوبہ فنڈز کی فراہمی کی گنجائش نہ ہونے کے جواب ملنے کا بھی امکان ہے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ آئی ایم ایف مزید شرائط عائد کر رہا ہے حکومت کو مزید آمدن، ٹیکس اور محصولات اکٹھی کرنے کیلئے تگ ودو کرنی ہوگی، ایسے میں عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات کس حد تک کامیاب ہوں گے اور مہنگائی میںکمی آنے کی بجائے کہیں اضافہ نہ ہو جیسے خدشات مافیا کیخلاف کارروائی کے مشکل کام کی انجام دہی جیسے معاملات حکومت کیلئے بڑے امتحان سے کم نہیں۔ حکومت نے مہنگائی میں کمی کیلئے آج جن اقدامات کا عندیہ دیا ہے اس پر حکومت کی معاشی ٹیم کتنی کامیابی سے عمل کرتی ہے اور کیا تجاویز اور اقدامات سامنے آتے ہیں عوام ان اقدامات کی نتیجہ خیزی اور مہنگائی میں کمی آنے کے شدت سے منتظر ہیں۔