مگر اس دودھ میں پانی بہت ہے

وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری بھی کمال کے آدمی ہیں’ بعض اوقات بڑی دور کی کوڑی لے آتے ہیں۔ گزشتہ روز ایک بیان میں شریف فیملی کو فلم نگری کیساتھ جوڑتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر شریف فیملی فلموں میں ہوتی تو ہر فرد بڑے ایوارڈ جیت چکا ہوتا۔ یوں وزیر موصوف نے نہ صرف شریف فیملی کی بقول حکومتی حلقوں کے ڈرامے بازیوں کے بارے میں وضاحت کو طنزیہ انداز میں پیش کیا’ یعنی شریف فیملی سیاست سے لے کر بیماریوں تک ڈرامے بازی کر رہی ہے۔ اس حوالے سے میاں شہباز شریف کی وہ تقاریر پیش کی جاتی ہیں جو انہوں نے 2013ء کے انتخابات سے پہلے آصف زرداری سے قومی دولت بقول چھوٹے میاں صاحب (زرداری کا پیٹ پھاڑ کر) نکلوانے کے حوالے سے بڑے ڈرامائی انداز میں کی تھیں جبکہ اب شریف فیملی بڑے میاں صاحب کی بیماری کے حوالے سے مبینہ طور پر مسلسل ڈرامے بازی کرکے بالآخر انہیں جیل کی سلاخوں سے آزاد کرانے اور لندن میں اپنے متنازعہ ایون فیلڈ فلیٹس میں پناہ لینے میں کامیاب ہو چکی ہے اور اب مریم نواز کو بھی بیرون ملک منگوانے کیلئے جس طرح بین کر رہی ہے’ یہ شریف فیملی ہی کا حصہ ہے۔ ایک جانب تو فواد چوہدری صاحب نے شریف فیملی کو ڈرامے باز قرار دیا ہے جیساکہ اکثر میاں شہباز شریف کو شوباز کے نام سے ان کے سیاسی مخالفین موسوم کرتے ہیں تو دوسری جانب چوہدری صاحب نے پاکستان میں تقسیم ہونے والے فلمی اور ڈرامہ ایوارڈز پر بھی سوال اُٹھا دئیے ہیں۔ اس حوالے سے خود فواد چوہدری نے حال ہی میں سول ایوارڈز کے حوالے سے بھی یہ انکشاف کرکے لوگوں کو حیران کر دیا تھا کہ مہوش حیات کو تمغہ امتیاز ان کی سفارش پر دیا گیا تھا حالانکہ مہوش حیات کا نام اس لسٹ میں سرے سے موجود ہی نہیں تھا جو صوبائی حکومتوں کے متعلقہ اداروں کی جانب سے اس سال ایوارڈز کیلئے مرتب کیا گیا تھا گویا موصوف نے سرکاری ایوارڈ پر بھی سوال اُٹھا دئیے ہیں۔ تاہم اس سے قطع نظر یہ جو فلمی ایوارڈز کا سلسلہ جاری ہے اس کی ابتدا اور پھر پاکستان میں اس کی آمد کی اپنی ایک تاریخ ہے اور سارے معاملے کو ازہر درانی کے اس شعر کے آئینے میں آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے کہ
گوالا لاکھ کھائے جائے قسمیں
مگر اس دودھ میں پانی بہت ہے
فلمی ایوارڈز کا سلسلہ تو ہالی ووڈ سے شروع ہوا جہاں آسکر ایوارڈز کے نام سے ان ایوارڈز کا آغاز کیا گیا۔ یہ سلسلہ آج بھی خوش اسلوبی اور ایمانداری سے جاری ہے کہ اہل مغرب اس قسم کے ایوارڈز میں ڈنڈی ماری کو صریح بے ایمانی تصور کرتے ہیں اور نامزدگیوں کے سلسلے میں اگر جیوری کسی کو کسی ایوارڈ کیلئے نامزد کرتی ہے تو اس میں کسی شک وشبہے کی گنجائش نہیں ہوتی پھر ہالی ووڈ سے یہ سلسلہ دوسرے ممالک تک پھیلتا چلا گیا۔ فرانس اور لندن کی فلم انڈسٹری بھی آگے آئی اور اس وقت آسکر کیساتھ گریمی ایوارڈز کی بھی اپنی ایک اہمیت ہے۔ بر صغیر میں بھارت کے ایک رسالے فلم فیئر نے ان ایوارڈز کی تقلید کی۔ اب وہاں مزید کئی ایوارڈز بھی دئیے جاتے ہیں جن میں ذی سنے ایوارڈز اور علاقائی سطح پر بھی کئی زبانوں کی فلموں کے ایوارڈز تقسیم کئے جارہے ہیں جبکہ اب بین الاقوامی ایوارڈز کیساتھ ساتھ فیچر فلموں کے سنگ ڈراموں کی پذیرائی بھی کی جاتی ہے۔ اکیڈیمی ایوارڈز میں ڈاکو منٹری فلموں کو بھی شامل کیاگیا ہے جبکہ پاکستان میں آسکر اور پھر بھارت کے فلم فیئر کی تقلید میں کراچی سے شائع ہونے والے ایک فلمی ہفت روزہ کے مالک ومدیر مرحوم الیاس رشیدی نے نگار ایوارڈز کے نام سے فلمی ایوارڈز کا اجراء کیا۔ ابتدا میں چند برس تو غیرجانبداری کو سختی سے ملحوظ رکھا گیا مگر بعد میں ان ایوارڈز کی اہمیت کے پیش نظر خصوصاً اداکاروں اور اداکارائوں نے ”بولیاں” لگانا شروع کردیں اور مبینہ طور پر نہ صرف اپنے لئے بلکہ فلموں کے دیگر شعبوں یعنی ڈائریکشن’ کہانی’ عکاسی’ موسیقی وغیرہ کیلئے بھی درپردہ سودے بازی کی باز گشت سنائی دیتی رہی اور دروغ برگردن راوی یہ ایوارڈز باقاعدگی سے فروخت ہونے لگے۔ تب اکثر اوقات ایوارڈز تقسیم ہونے کے بعد ان پر حرف زنی بھی کی جاتی رہی۔ بقول احمد فراز
کیا مال غنیم تھا مرا شہر
کیوں لشکریوں میں بٹ گیا ہے؟
نگار ایوارڈ کے بعد کچھ اور ایوارڈز بھی جاری ہوئے مگر جو رونق میلہ نگار ایوارڈز نے ایک عرصے تک لگائے رکھا اس کا اپنا ہی مقام تھا۔ بہت مدت بعد گریجویٹ ایوارڈز کا سلسلہ شروع کیاگیا۔ ان ایوارڈز نے بھی فلم انڈسٹری کیساتھ ساتھ شوبز انڈسٹری کے دیگر شعبوں کو بھی اپنی جانب متوجہ کیا۔ ان کے دیکھا دیکھی پی ٹی وی نے بھی اپنے ڈراموں اور ان سے منسلک دیگر شعبوں کیلئے سالانہ بنیادوں پر ایوارڈز کا اجرا کیا۔ شروع میں یہ بھی غیرجانبداری کی بنیاد پردئیے جاتے تھے مگر بعد میں ان ایوارڈز پر بھی سوالات اُٹھائے جانے لگے۔ تاہم جب سے پاکستان میں ٹی وی چینلز کا جمعہ بازار لگاہے اب ان ایوارڈز کی بھی بھرمار ہوگئی ہے۔ اس سلسلے میں لکس ایوارڈز کے علاوہ دیگر اداروں نے بھی مختلف چینلز کے اشتراک سے اسے ایک کاروبار بنا کر رکھ دیا ہے۔ ابھی تک ان ایوارڈز کی خرید و فروخت کی کوئی خبر تو نہیں آئی تاہم چوہدری فواد حسین نے شریف فیملی پرالزام لگا کر کہ اگر یہ شوبز سے تعلق رکھتے تو تمام ایوارڈز (خرید کر؟) اپنے نام کرلیتے۔ یوں چوہدری صاحب نے ایوارڈز تقسیم کرنے والوں کو راہ توسمجھا دی ہے کہ اگر وہ ایسا کریں توان کی آمدن مزید بڑھ سکتی ہے۔