کیا آپ بھی اونگھنے کے عادی ہیں؟

آپ نے دیکھا ہو گا کہ بعض لوگ اونگھنے کے عادی ہوتے ہیں یا اکثر بیٹھے بیٹھے نیند کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔

ہمہ وقت نیند کا غلبہ رہنا یا دن بھر مختلف اوقات میں نیند کی خواہش محسوس ہو تو یہ ‘‘نارکولیپسی’’ ہے، جو طبی ماہرین کے نزدیک اعصابی بیماری ہے۔

اس کی عام اور زیادہ نمایاں علامات میں اچانک اور شدید نیند کا احساس، پٹھوں اور عضلات کا ڈھیلا پڑ جانا شامل ہے۔

نارکولیپسی مرد اور عورتوں کو یکساں متاثر کرنے والی بیماری ہے۔ تاہم اس کا شکار زیادہ تر نوجوان ہوتے ہیں اور بدقسمتی سے ان کی اکثریت یہ نہیں جان پاتی کہ وہ نارکولیپسی کا شکار ہیں۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اچانک نیند آنے کو کسی بھی فرد کی مصروفیات، کام کاج کی تھکن اور جسمانی یا اعصابی کم زوری سے جوڑ دیا جاتا ہے اور یوں کسی مستند معالج اور ماہر ڈاکٹر سے باقاعدہ تشخیص یا طبی معائنہ نہیں کروایا جاتا جو اس مسئلے کی اصل وجہ بتا سکتا ہے۔

محققین کے مطابق ایسا اس وقت ہوتا ہے جب ہمارے دماغ کے خلیات ایک کیمیائی مادّہ جسے ہائپوکریٹن کہتے ہیں، ضرورت سے کم مقدار میں خارج کرنا شروع کردیتے ہیں۔ طبی سائنس کے مطابق یہی وہ مادّہ ہے جو ہماری نیند اور بیداری سے متعلق نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔

اس کے بگاڑ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ متاثرہ فرد نیند پر اپنا کنٹرول کھو دیتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ شدت اختیار کر جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس کا کوئی باقاعدہ علاج ابھی تک دریافت نہیں کیا جاسکا ہے، مگر ماہر معالج سے رابطہ کرکے اس کی ہدایات پر عمل کیا جائے تو اس کے بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق کاﺅنسلنگ، مختلف تھراپیز اور طرز زندگی میں بدلاﺅ کے ذریعے اس اعصابی مرض کی شدت کو کم کیا جاسکتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت