جھوٹ لگتا ہے تمہیں تو جیل جاکر دیکھئے

سنٹرل جیل پشاور میں منشیات کے عادی افراد میں آئس پینے والوں کی تعداد نو سو تھی جو بڑھ کر 27سو وچکی ہے ، جن کے علاج معالجے کے لئے اس جیل خانہ میں علاج معالجہ کا کوئی معقول انتظام نہیں ،اس بات کا انکشاف اس وقت ہوا جب ہم انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات مسعود الرحمان کے دربار میںشرف بازیابی کے دوران خالد عباس سپرنٹنڈنت جیل سے بنفس نفیس ملاقات کا شرف حاصل کرسکے ۔ جس طرح کسی کی زندگی میںاس کی بد نصیبی یا بد بختی کے دروازے پر خوش قسمتی دستک دینے آتی ہے۔اور قسمت والے ہوتے ہیں جو خوش قسمتی کی دستک سن کر دوڑ لگائی دروازہ کھولا تو میرے سامنے حاجی حلیم جان مرحوم کے سعادت مند صاحبزادے عاطف حلیم جان کھڑے تھے ، وہ مجھے ہی نہیں میری عمر کے ہر فرد کو ” چاچے ” کہہ کر مخاطب کرتے ہیں ، اللہ نے ان کو فرشتہ نہیں بنایا ، انسان بنا کر اس دنیا میں بھیجا ہے ، اور انسان تو وہی ہوتا ہے جس کے دل میں درد دل کا جذبہ موجیں مارتا رہتا ہے ، اور وہ میر درد کے اس شعر کا عملی نمونہ بن کر جینے میں فخر اور انبساط محسوس کرتا رہتا ہے کہ
در د دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں
انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی کے اس جادوئی دور میں میلوں کی مسافتوں کے باوجود ہرفرد دوسرے فرد سے صرف اور صرف ایک کال کی دوری پر موجود مل جاتا ہے ، عاطف حلیم جان میرے ساتھ اس روز سے رابطہ میں رہتے ہیں ، جس روز سے انہیں اس بات کا علم ہوا کہ اس بدنصیب کا بیٹاوقت سمندر کی زوردار موجوں کے تھپیڑے کھا کھا کر اس بھنور میں پھنس چکا ہے جسے منشیات کہتے ہیں ۔عاطف نے میری زبان سے
لاشے جواں بچوں کے بکھرے پڑے ہیں ہر گلی
جو پوچھتے ہیں ہم سے یہ ہے کس کے سر اپنا لہو
مقتل میں ان کے قتل کا اقرار جرم کرتے ہیں
پیتے رہے تھے زہر وہ ، کرتے رہے تھے ہم وضو
جیسی دل کی گہرایوں سے نکل کر دلوں میں پیوسط ہو جانے والی چیخیں’بھی سن رکھی تھیں ، سو انہوں نے مجھ سے جب بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا یا بنفس نفیس ملے ، ڈھیر ساری ہمدردیاں میری جھولی میںڈالنے لگے ،افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے نوجوان دھڑا دھڑ آئس جیسی تباہ کن منشیات کے عادی ہورہے ہیں، کبھی درد بھرے انداز میںکہتے کہ ہماری پڑھنے لکھنے والی بیٹیاں بھی آئس کے نشہ کی لت میں پڑ کر اپنا آپ گنوا رہی ہیں ، عاطف حلیم نے وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا کے معاون خصوصی برائے جیل خانہ جات تاج محمد خان سے رابطہ کرنے کے بعد انسپکٹر جیل خانہ سے ملنے کے لئے جو وفدتیار کیا ان میں الخدمت ہسپتال کے انچارج اقتدار صاحب اور الخدمت ہسپتال کے شعبہ تدارک منشیات کے انچارج کفائت اللہ کے علاوہ اور دیگر عمائدین کے علاوہ راقم السطور کو شامل کرنا بھی ضروری سمجھا،انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات اور سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل پشاور سے ملاقات کے دوران انہوں نے جیل کے احاطہ میں آئس کے نشہ میں مبتلا ء قیدیوں کے لئے ہسپتال کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ، جس کے جواب میں سپر نٹنڈنٹ سنٹرل جیل پشاور نے وفد کے اراکین کو اگلے روز جیل کا دورہ کرنے کی دعوت دی ، اگر چہ سنٹرل جیل پشاور کے مطالعاتی دورے کے وفد میںراقم السطور کو شامل رکھا گیا ، اور اسے عین موقع پر فون کرکے اس قافلہ وفا میں شامل ہونے کو کہا گیا ، لیکن وہ ”سر منڈاتے ہی اولے پڑنے لگے ” جیسے اس پیغام پرعمل نہ کرسکا ۔ گمان ہے کہ اس کے ساتھ ایسا رویہ دانستہ اخیتار کیا گیا ہو کیونکہ
میں سنتری ہوں عورتوں کی جیل کا
دو چار قیدی اس لئے کم گن رہا ہوں
جیسی رعایت سے نابلد ہے ، اس لئے جو دیکھتا ہے لکھ ڈالتا ہے
رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خد ا کا اس زمانے مین
کے مصداق وہ اپنے کئے کی سزا میں یار لوگوں کی ناراضگیاں مول لیتا رہتا ہے، ہم کم وبیش پندرہ کلومیٹر کا سفر طے کرکے جیل کا دورہ کرنے والوں کے قافلے میں شامل ہونے پہنچے تو ان کے چلے جانے کی دھول کو بھی باقی نہ بچی اور یوں ہم اس سرخ فیتے کو عبور نہ کرسکے جو مجھ جیسے کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ، ہم جیل کا دورہ کرنے والے وفد سے بہت پیچھے رہ گئے ایسے میں ہمیں وہ زمانہ یاد آنے لگا جب انعام اللہ خان سنٹرل جیل پشاورر کے سپر نٹنڈنٹ تھے ، اورہم قیدیوں کی فلاح کے لئے بنائی گئی تنظیم’ پرزنر ز ویلفئیر آرگنائزیشن ‘کا وفد لے کر سنٹرل جیل پشاور کا دورہ کرنے پہنچے تھے ، کیا کیا تھا ہم نے قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لئے ، اپنی تنظیم کاری کو کیش کرنے کے سوا ، اللہ کرے اب کے ایسا نہ ہو ، کیونکہ بہت سا پانی سر سے گزر چکا ہے ، جیل میںقیدیوں کی اس قدر بھیڑ ہے کہ ان کے لئے نت نئی بارکیں بن چکی ہیں لیکن ہائے کہ وہاں آئس کے نشہ میں دھت مریضوں کے لئے ایک ہسپتال تک نہ بن سکی ۔ اور اللہ کرے جھوٹ ہو یہ بات کہ وہاں تو چرس ، پوڈر اور آئس بھی ملتی ہے ، مگر مہنگے داموں ، لگتا ہے ، منہ نہ کھلوائیں کہ ہم اندر کے حال سے واقف ہیں
جانے کتنے بے قصوروں کو سزائیں مل رہی ہیں
جھوٹ لگتا ہے تمہیں تو جیل جاکر دیکھئے