سلپ روڈز کی تعمیر کا احسن منصوبہ

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے خیبر روڈ پر ٹریفک کا بہائو یقینی بنانے کیلئے 8مقامات پر رابطہ سڑکیں تعمیر کرنے کی تجویز کی منظوری اور پی ڈی اے کو ہدایات کے علاوہ اراضی کے حصول کیلئے مختلف محکموں کو ٹاسک کی تفویض صوبائی دارالحکومت کی واحد مرکزی سڑک پر ٹریفک کے بہائو میں آسانی لانے اور رکاوٹوں کو دور کرنے کی احسن سعی ہے جس کا نتیجہ خیز ہونا یقینی امر ہے۔اعلیٰ سطحی اجلاس میں جو تجاویز پیش کی گئی ہیںوہ یقیناً ہوم ورک اور ٹریفک کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے اور غوروخوض کے بعد ہی پیش کی گئی ہوں گی جس کے بعد عملدرآمد کا مرحلہ آتا ہے دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ کسی حد تک آسان امر یہ ہے کہ سلپ روڈ کی تعمیر کیلئے متاثر ہونے والی عمارتیں اور مقامات سرکاری اراضی اور عمارتیں ہیں جن کے حصول میں حکومت کو کم سے کم حکم امتناعی کی مشکل پیش نہیں آئے گی۔صوبائی سطح کی عمارتیں اور اراضی کے معاملات قدرے آسان اور وفاقی محکمے سے حصول اراضی قدرے مشکل ہوگی۔ اس ضمن میں متعلقہ محکمے کو متبادل اراضی کی پیشکش ایک بہتر اقدام ہے ہمارے تئیں اس ضمن میں جو بھی مشکلات پیش آئیں اور جو بھی قیمت دینی پڑے پورے عزم کے ساتھ معاملے پر تسلسل سے کام ہو تو مجوزہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔صوبائی حکومت کی ہدایت پر پی ڈی اے کا جگہ جگہ شجرکاری اور غائب عملہ صفائی کا پھر سے متحرک نظر آنا اور شہر کی عمارتوں پر رنگ وروغن اور مقررہ سائز پر دکانوں پر شناختی بورڈز کی تنصیب سے صوبائی دارالحکومت کی تزئین وآرائش اور بحالی کا کام جہاں خوشگوار اور پیشرفت ہے وہاں مجوزہ سلپ روڈز کی تعمیر سے ٹریفک کی روانی میں اضافہ اور سڑکوں کی کشادگی سونے پر سہاگہ کے مصداق ہوگا۔سلپ روڈز کی تعمیر کا جلد سے جلد آغاز ہونا چاہیئے اور جس جس مقام پر جتنا جلد ممکن ہو کام شروع کیا جائے ساتھ ہی بی آر ٹی کی جلد تکمیل اور عوام کو سفر کی بہتر سہولتوں کی فراہمی ترجیح اول رہے تاکہ منفی تاثرات کا خاتمہ اور عوام کو مطمئن کیا جا سکے۔
گورنر جامعات کے پورے امور کی تحقیقات کرائیں
خیبرپختونخوا کی جامعات میں حالیہ مالی بحران کے پیش نظر گورنر خیبر پختو نخوا شاہ فرمان نے پشاور یونیورسٹی سمیت صوبے کی12جامعات میں بھرتیوں پر پابندی عائدکرنے کا اقدام سبکدوشی کے قریب رئیس الجامعات کے اپنے اختیارات کو غلط استعمال کرنے کی پختہ روایت سے روکنے کی سنجیدہ کوشش ہے۔صوبے کی سرکاری جامعات میں میرٹ کے مطابق تقرریوں کو یقینی بنانے اور سفارشی امیدواروں کا راستہ روکنے کیلئے ٹیسٹ وانٹرویو کے ساتھ زمانہ طالب علمی میں امتحانی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں خاص طور پر تقریری مقابلوں،خطابت اور ایسی سرگرمیاں جن کا تدریسی وانتظامی صلاحیتوں کے اظہار سے مطابقت ہو ایسے امیدواروں کو ترجیح دینے کا باقاعدہ اصول اپنایا جائے تاکہ سرکاری جامعات کوباصلاحیت اور طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے کی قابلیت وصلاحیت والے اساتذہ میسر آسکیں۔ایچ ای سی کی جانب سے جامعات میں اساتذہ کی تقرری وانتخاب کے طریقہ کار پر جدید دور کی ضروریات اور رجحانات کے مطابق تبدیلی لانے اور ان پر سختی سے عملدرآمد کرانے کی ضرورت ہے۔سرکاری جامعات میں اب تک ہونے والی تقرریوں اور خاص طور پر جن جامعات میں بڑے پالیسی فیصلوں کی ممانعت کا حکمنامہ گورنر نے جاری کیا ہے ان جامعات کے معاملات مالیاتی امور اور تقرریوں کا بھی جائزہ لینے کیلئے بااختیار کمیٹی کا تقرر ہونا چاہیئے تاکہ ان جامعات میں نہ صرف آخری چھ ماہ میں کوئی خلاف ضابطہ امور کی روک تھام ہی نہ ہو بلکہ جس قسم کی بھی اور جب بھی میرٹ کی خلاف ورزی کا ارتکاب ہوا ہو وہ سامنے آئے اور اس پر تادیب ہو۔
تحقیقات سے قبل برطرفی کیوں۔۔۔؟
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی ( نادرا ) میں قبائلی اضلاع سے بھرتی115ملازمین کو ایک دن بعد نوکری سے برخواستگی تھوک کر چاٹنے کے مترادف عمل ہے۔ ذرائع کے مطابق قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز نے نادرا کو بھرتیوں کیلئے اپنی اپنی فہرستیں ارسال کی تھیں میرٹ پر بھرتیاں کرنے اور ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے دی گئی فہرستوں کے مطابق سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں نہ کرنے پر دبائو کے تحت نادرا نے تمام عمل منسوخ کردیا۔نادرا میں نادار افراد کی بھرتی ویسے بھی ممکن نہیں اس محکمے کو سفارش اور ملی بھگت سے بھرتی کا ایسا ذریعہ بنایا گیا ہے جس کا بھانڈا اب بیچ چورا ہے پھوٹ گیا ہے۔نادرا کا ایچ آرڈیپارٹمنٹ کا ناکارہ ہونا اپنی جگہ لیکن جہاں دبائو کا یہ عالم ہو کہ شفافیت کی دعویدار حکومتی جماعت ہی کے نمائندے تقرریوں کی تکمیل اور عملے کا کام شروع کرنے کے بعد سارا عمل ہی منسوخ کروادیں شفافیت اور میرٹ کی پابندی کی انوکھی مثال ہے۔ہمیں معروضی حالات کے تناظر میں اس شکایت کی پوری گنجائش موجود ہونے سے اختلاف نہیں کہ قبائلی اضلاع سے بھرتی ملازمین کی تقرریوں میں گھپلے ہوئے ہوں گے لیکن بغیر تحقیقات کے بیک وقت وبیک جنبش قلم عملے کو گھر بھجوانا کسی طور قانون کی پاسداری نہیں بلکہ دھونس کی انتہا ہے۔ہونا یہ چاہیئے تھا کہ ان بھرتیوں کی چھان بین کی جاتی اور بھرتی کے تمام مراحل کا دوبارہ جائزہ لیا جاتا اور اس کے بعد کوئی کارروائی کی جاتی یہاں دستیاب معلومات کے مطابق بھرتیوں کی منسوخی کی واحد وجہ سیاسی دبائو اور اراکین اسمبلی کی سفارشوں کو خاطر میں نہ لانے کا ہے۔صورتحال جو بھی ہو ضرورت اس امر کی ہے کہ جامع تحقیقات کے بعد ہی کوئی فیصلہ مناسب ہوگا اگربھرتیوں میںگھپلے کا ثبوت ملے تو صرف امیدواروں کو سزا دینا کافی نہ ہوگا بلکہ بھرتی کے مجاز افسران کے خلاف بھی سخت تاددیبی کارروائی کی جائے جب تک حقیقی صورتحال سامنے نہ آئے یا پھر برطرف افراد عدالت سے رجوع کر کے ریلیف حاصل نہ کریں اور اپنی بھرتیوں کا دفاع کا حق استعمال نہ کریں بھرتیوں کی اس طرح تنسیخ درست نہیں محکمے کو اس فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیئے یا پھر بھرتیوں میں گھپلے کا اعتراف کر کے متعلقہ افسران کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیئے۔