عوام سے ہمکلام وزیراعلیٰ توجہ فرمائیں

عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے حکومت کی کوششیں اپنی جگہ حکومت کی مشکلات اور مجبوریوں قواعد وضوابط اور طریقہ کار فنڈز کی دستیابی جیسے معاملات عوام کی سمجھ کے امور نہیں اور نہ ہی عوام کو ا س سے کوئی سروکار ہے عوام بس یہ چاہتے ہیں کہ خواہ جیسا بھی ہو ان کے مسائل حل ہونے چاہئیں۔
بہت سے معاملات ایسے ہیں جن کا وعدہ ہنوز ایفا نہیں ہوا۔صوبے میں آئمہ مساجد کو وظیفہ دینے کا اعلان کیوں التواء کا شکار ہے اور منتظر آئمہ کو کب وظیفہ ملنا شروع ہوگا اس کالم میں قارئین بار بار یہی برقی پیغام دہرا رہے ہیں حکومت کب جواب دے گی اور کب ادائیگی شروع ہوگی کچھ علم نہیں۔بھرتیوں میں نا انصافی اور میرٹ پر شکوک وشبہات کا اظہار کرتے ہوئے ایک برقی پیغام موصول ہوا ہے اب یہ عام قسم کی شکایت بن گئی ہے معلوم نہیں حقیقت کیا ہے اور شکایات کی نوعیت غلط فہمی پر مبنی ہوتی ہے یا واقعتا ناانصافی ہوتی ہے امیدواروں کو الزم تراشی کی بجائے میرٹ معلوم کرکے ناانصافی کی صورت میں عدالت سے رجوع کرناچاہیئے نا انصافی پر خاموش رہنا نا انصافی کو تقویت دینے کا باعث معاملہ ہے اب سوال یہ بھی ہے کہ کوئی اس کی استطاعت نہ رکھے تو کیا کرے واقعی اس کا جواب خود میرے پاس بھی نہیں۔پشاور بڈھ بیر روڈ جس پر کراچی سے میران شاہ تک کیلئے ٹریفک جاتی ہے بلکہ جنوبی اضلاع کا یہی راستہ ہے اس کی خستہ حالی کی شکایت کی گئی ہے ۔گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان نے اگر آبائی علاقہ جانا نہ چھوڑا ہو تو مسئلہ بذات خود ان کے علم میں ہوگا ان کا اپنے علاقے کے لوگوں سے رابطہ تو ضرور ہوگا جو ان کو سڑک کی خستہ حالی سے آگاہ کرتے ہوں گے، جنوبی اضلاع کے صوبائی وزراء بالخصوص اور دیگر وزراء وممبران اسمبلی کو بالعموم اس سڑک پر سفر کا اتفاق ہواہوگا آرام دہ گاڑیوں میں گزرنے والوں کو عوامی مشکلات کا حقیقی اندازہ تو نہیں ہوسکتا پھر بھی ان کو اس قدر غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیئے کہ ایک مرکزی شاہراہ کی مرمت وبحالی سے غرض نہ ہوصوبائی دارالحکومت ہی کا حصہ ہے جس پر حکومت کروڑوں روپے خرچ کرنے کی دعویدار ہے ۔ ایک برقی پیغام پڑھ کر تو میں چکراگئی لکھا ہے کہ بندہ دل کا مریض ہے اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں مجھے آپریشن کیلئے چھبیس مارچ دوہزار بائیس 26-3- 2022کی تاریخ دی گئی ہے۔مریض کے پاس صحت کارڈ کی سہولت موجود ہے لیکن تین سال کا عرصہ ایک جان لیوا اور سنگین بیماری میں کیسے انتظار کیا جائے اوراس صحت کارڈ کا کیا فائدہ ۔مریض کا سوال اس قدر وزنی ہے کہ اس کا بوجھ محکمہ صحت اور صحت کارڈ تقسیم کر کے غریب عوام کو علاج کی مفت سہولتیں فراہم کرنے والے دونوں نہیں اٹھا سکتے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کی انتظامیہ بھی لگتا ہے بس نام درج کرلیتی ہے اور علاج کون جیتا ہے تیرے زلف کے سر ہونے تک ،کہنے پر مجبور کردیتی ہے۔ یہاں دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ دم توڑ جاتا ہے جب سزایافتہ قیدی مریض کی بیڑیاں کھول کر بیرون ملک علاج کیلئے بھیجا جاتا ہے اور آزاد مگر مجبور مریضوں کو تین تین سال بعد کی تاریخ دی جاتی ہے۔حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کی انتظامیہ سے گزارش ہی کی جا سکتی ہے کہ وہ مریض کو ماہ دو ماہ کا وقت دیں اور آپریشن کا بندوبست کریں۔صحت کارڈ رکھنے والے مریضوں کے اس قسم کی مشکلات کا جائزہ لیا جائے اور ان کے حل کیلئے لائحہ عمل بنایا جائے ورنہ حکومت کی رقم ضائع اور عوام بھی ناخوش۔فائدہ کیا؟ایک اور شخص نے سوال کیا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹر صرف لمبی چوڑی لسٹ ہی تھما دیتے ہیں کسی بھی مریض کو دوائی نہیں ملتی سرکاری ادویات جاتی کہاں ہیں سرکاری ادویات انہی کو ملتی ہوں گی جن کو ڈاکٹر جانتے ہوں یا ان کی کوئی سفارش ہو عام آدمی تو محروم کا محروم ہے ایک اور چشم کشا حقیقت سرکاری ہسپتالوںمیں مریضوں کے ساتھ سلوک کی یہ روز کی شکایات ہیں اور اس کا حکومت اور محکمہ صحت کو بخوبی علم بھی ہے مگر کون سنے فقیر کی صدا؟بعض اوقات تو اتر کے ساتھ اس قسم کے برقی پیغامات آتے ہیں کہ کلیجہ منہ کو آتا ہے ایسا ہی ایک برقی پیغام آپ بھی ملاحظہ فرمائیں میں تو اسے اللہ تعالیٰ کا امتحان ہی کہوں گی اس قسم کی بیماری خدانخواستہ کبھی بھی اور کسی بھی وقت اور کسی کو بھی لاحق ہوسکتی ہے۔میں مخیر و صاحب ثروت حضرات سے اپیل ہی کر سکتی ہوں کہ وہ اس بچے کے علاج کیلئے مدد کریں۔شولام تحصیل برمل سائوتھ وزیرستان سے مولانا عبداللہ کا کہنا ہے کہ میرا ایک بارہ سالہ بیٹا محمد آنس گزشتہ تین سالوں سے خواص خمسہ سے اچانک محروم ہوگیا ہے راولپنڈی ،ملتان،پشاور کے نیورالو جسٹ کہہ رہے ہیں کہ بچے کوSSPEنامی بیماری لاحق ہوگئی ہے جوپاکستان میں لاعلاج ہے بیرون ملک کے اخراجات ہمارے بس کی بات نہیں ہے پاکستان میں علاج کے اخراجات کیلئے پہلے ہی میں نے تقریباًپانچ کنال زمین فروخت کر چکا ہوں۔تین سالوں سے بچے کی خوراک کا ذریعہ صرف دودھ ہے جوN/G Tubeکی ذریعے دی جاتی ہے اس بچے کی خوراک کی خاطر دو گائے پال رکھی ہیں۔گزشتہ سال (وانہ) وزیرستان کے دورہ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان پر میں نے ان کو درخواست دینے کی کوشش کی لیکن وطن پاک میں غریب کو کوئی قریب آنے نہیں دیتا ۔اگرکوئی مدد کرنا چاہے تو ،مولانا عبداللہ فون 0305-9372407 پر رابطہ ہو سکتا ہے ۔
ہر بدھ کو شائع ہونے والے اس کالم کیلئے قارئین اپنی شکایات اور مسائل اس نمبر 0337-9750639 پر میسج کریں۔