لیبیا میں غیر مشروط جنگ بندی پرسلامتی کونسل کی قرارداد پر رائے شماری

سلامتی کونسل کے آج بدھ کے روز ہونے والے اجلاس میں لیبیا میں جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے قرارداد پیش کی جائے گی۔ اس قرارداد کے مسودے میں متحارب فریقین سے کہا گیا ہے کہ گذشتہ برس اپریل سے لیبیا میں جاری لڑائی کو غیرمشروط طور پرختم کیا جائے۔

قرارداد میں لیبیا میں غیر مشروط طورپر تمام فریقین پرجنگ بندی پر زور دیا جائے گا۔
چند روز قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے چند روز قبل ایک بیان میں لیبیا کے بحران پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ لیبیا کا بحران گھمبیر شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ انہوں‌نے لیبیا میں بیرونی مداخلت کو ملک میں جاری انتشار کی اہم وجہ قرار دیا ہے۔ مداخلت سے ان کا اشارہ لیبیا میں ترکی کی فوجی مداخلت کی طرف تھا جس نے اپنی فوج اور جنگجو طرابلس میں تعینات کررکھے ہیں۔

ایک سفارتی ذریعے کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے تین ہفتے تک قرارداد کے مسودے پر جاری رہنے والی مشاورت کے بعد اس پر رائے شماری کی سفارش کی ہے۔ چند روز قبل روس کی طرف سے قرارداد میں رکاوٹ ڈالنے کے بعد اب بھی ماسکو کا موقف واضح نہیں ہے۔

برطانیہ نے قرارداد کے مسودے میں’تسویش’ کا لفظ شامل کیا ہے اور کہا ہے کہ لیبیا میں اجرتی قاتلوں کی آمد پر سلامتی کونسل کو سخت تشویش ہے۔

گذشتہ ہفتے روس کی طرف سےلیبیا میں مداخلت پر تشویش کے الفاظ پر اعتراض کیا گیا تھا۔ روس نے اجرتی قاتلوں کی جگہ ‘غیرملکی دہشت گرد جنگجو’ کی اصطلاح شامل کی گئی تھی۔ روس سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہونے کی بناء پر اقوام متحدہ میں پیش کی جانے والی کسی بھی قرارداد کو ویٹو کرسکتا ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا برطانیہ کی طرف سے تیار کی گئی قرارداد کو روس ویٹو کرے گا یا نہیں۔