وزیراعلیٰ کی عوام سے مخاطبت

وزیراعلیٰ محمود خان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ تمام معاملات کی خود مانیٹرنگ کریں گے اور مختلف اضلاع میں جا کر زمینی حقائق کا جائزہ لیں گے حکومت ہر ضلع اور ہر جگہ نظر آنی چاہیئے غریب عوام کو ریلیف دینا اور ان کے مسائل حل کرنا حتمی مقصد ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،دریں اثناء وزیراعلیٰ نے پٹوارخانوں اور تھانوں میں جانے والے عوام کی فہرستیں طلب کیں اور اُن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا وزیراعلیٰ نے عوام سے پٹوار خانوں اور تھانوں میں خدمات کی فراہمی ،کرپشن اور غیر ضروری تاخیر کے بارے معلومات حاصل کیں۔وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ عوام کو تسلی بخش خدمات فراہم نہ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان اپنی کابینہ سے تین وزراء کی برطرفی کے بعد نہ صرف سیاسی وحکومتی معاملات میں گرفت مضبوط کر چکے ہیں بلکہ اس کے بعد انہوں نے سرکاری معاملات پر مزید گہری نظر رکھنے اور عوامی مسائل سے ازخود آگاہی کا جو طرز عمل اختیار کیا ہے سرکاری عمال کے اجلاسوں میں جوہدایات دیتے ہیں وہ اپنی جگہ وزیراعلیٰ نے فون پر عوام سے براہ راست مخاطب ہو کر پولیس ،تھانے اور پٹوار خانوں اور دیگر سرکاری اداروں میں عوام کو درپیش صورتحال سے آگاہی حاصل کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اس کا مئوثر ہونا ہی یقینی امر نہیں بلکہ وزیراعلیٰ کا یہ قدم پورے صوبے کی بیوروکریسی اور سرکاری ملازمین کیلئے واضح پیغام اور تنبیہہ ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کسی بھی وقت اچانک ان کی کارکردگی بارے عوام سے براہ راست معلومات حاصل کر کے کارروائی کر سکتے ہیں۔وزیراعلیٰ سیکر ٹریٹ میں عوامی شکایات سننے کیلئے شکایات مرکز کاقیام اور صوبے میں عوامی شکایات کی تعداد اور اس کے حل کی صورتحال کی جانچ پڑتال اور اس سے آگاہی رکھنے کیلئے بورڈ کی تنصیب بھی عوامی مسائل کے حل کے ضمن میں سنجیدہ اقدام ہے۔ان ساری مثبت مساعی کا ایک منفی پہلو یا پھر ایک منفی تاثر یہ نکلتا ہے کہ اضلاع اور ڈویژن کی سطح کے حکام حکومتی ہدایات اور عوامی مسائل کے حل وشکایات کے ازالے کے عزم میں وہ کردار ادا نہیں کر رہے ہیں جس کی ضرورت ہے ہم سمجھتے ہیں کہ زیادہ تر عوامی مسائل پٹوارخانوں،تھانوں،تحصیل اور ڈپٹی کمشنر آفس ہی کے دائرہ کار میں آتے ہیں یا پھر دیگر ضلعی افسران کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوامی سطح کے مسائل کے حل پر توجہ دیں اضلاع میں حکومتی مشینری فعال ہو اور متعلقہ ڈویژنز کے کمشنر اس سارے نظام کی نگرانی میں تساہل سے کام نہ لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ عوامی شکایات میں کمی نہ آئے صوبے کے منتظم اعلیٰ کا عوامی سطح پر رابطہ بار بار ممکن نہیں اور نہ ہی وزیراعلیٰ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سطح پر بھی جانچ پڑتال پر توجہ دیں یہ متعلقہ اضلاع کے حکام کی ذمہ داری ہے بہرحال وزیراعلیٰ کا وقتاً فوقتاً اس فریضے کیلئے بھی وقت نکالنا نہ صرف حکومتی امور میںبہتری لانے کیلئے بہتر ہوگا بلکہ سیاسی طور پر بھی عوام خود کو حکمرانوں کے رابطے میں محسوس کریں تو یہ ہم خرما وہم ثو اب والی بات ہوگی۔کبھی کبھار کے عوامی رابطے کے تجربات اور اس سے حاصل تاثرات ونتائج جہاں وزیراعلیٰ کو عوامی مسائل کی نبض تک پہنچائے گا وہاں وزیراعلیٰ کے پاس اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں بیوروکریسی کی کارکردگی سے متعلق اور ان سے استفسار بارے مشاہدات اور معلومات ہوں گی جس کی روشنی میں ہدایات واحکامات ہی مئوثر نہیں ہوں گے بلکہ اس قسم کی جوابدہی واستفسار سے بچنے کیلئے متعلقہ کمشنر حضرات اور بیوروکریسی بھی خود آگاہی اور تیاری کی حالت میں ہوگی۔ ہر جمہوری حکومت کی بنیاد اور طاقت عوام کی حمایت اور عوام سے روابط ہوتے ہیں وزیراعلیٰ جتنا عوام سے قربت اور روابط میں اضافہ کریں گے اتنا ہی بہتر رہے گا۔