پھانسی کی سزا مغرب کا ایک اور واہمہ

قومی اسمبلی میں وزیر مملکت علی محمد خان کی ایک قرارداد منظور کی گئی ہے جس میں بچوں سے زیادتی کے مجرم کو سرعام پھانسی دینے کی حمایت کی گئی ہے۔ اس قرارداد کی حمایت جہاں مسلم لیگ ن سمیت کچھ دوسری جماعتوں نے کی ہے وہیں پیپلزپارٹی اور کچھ حکومتی ارکان شیریں مزاری اور فواد چوہدری نے اس کی مخالفت میں رائے ظاہر کی ہے۔ وزیرقانون بیرسٹر فروغ نسیم نے بھی سرعام پھانسی کو خلاف قانون اور خلاف شریعت قرار دیکر اپنا وزن اول الذکر دو وزراء کے پلڑے میں ڈال دیا ہے۔ بہت سی سیاسی جماعتوں کی طرح پی ٹی آئی میں قدامت اور جدیدیت، روایتی اور غیرروایتی کی کھینچا تانی چلتی رہی ہے اور اس معاملے پر بھی یہ کشمکش عیاں ہو گئی ہے۔ خود عمران خان کے خیالات جو ان کے خطابات سے عیاں ہوتے ہیں اور ہر اہم موقع اور فورم پر ان کی طرف سے ریاست مدینہ کو ایک آئیڈیل سٹیٹ کے طور پر پیش کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے وہ مغرب کے لبرل ازم اور ان کے زیادہ تر قوانین کا محض ظاہری چمک دمک سمجھ کر اپنے اصل کی طرف لوٹ جانے کے تصور پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی بات میں اس لئے بھی وزن ہے کہ وہ خود مغربی تہذیب کو بہت قریب سے دیکھ چکے ہیں اور ان کی تنقید اور عدم اعتماد کا اظہار محض کتابی بات نہیں بلکہ مشاہدے سے تعلق رکھتی ہے۔ علامہ اقبال بھی مغربی تہذیب میں غوطہ زن ہو کر اس کا بہت قریب سے مشاہدہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا
اقبال کی طرح مغربی تہذیب پر جس بھی مسلمان راہنما کی کایا پلٹ گئی اس نے مغربی تہذیب کو بہت قریب سے دیکھا اور سمجھا۔ اس تہذیب کی چکاچوند نگاہوں کو اس قدر خیرہ کر دیتی ہے کہ آج بھی مسلمان معاشروں میں اس سے متاثر ہونے والے موجود ہیں۔ قومی اسمبلی میں منظور ہونے والی قرارداد اس مسودۂ قانون سے تعلق رکھتی ہے جو ابھی پارلیمنٹ میں باقاعدہ منظوری کیلئے پیش ہونا ہے۔ ابھی یہ مسودہ ایوان کی قائمہ کمیٹی میں ہی تھا جہاں کمیٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پھانسی کی سزا کی ہی مخالفت کی تھی۔ قومی اسمبلی کی قرارداد نے بحث کو ایک نیا رخ دیا۔ بلاول بھٹو سرے سے پھانسی کے ہی خلاف ہیں تو علی محمد خان صرف پھانسی ہی نہیں بلکہ سرعام پھانسی کی حمایت کررہے ہیں۔ ملک کی عدالتیں سرعام پھانسی کو غیرشرعی قرار دے چکی ہیں جس سے معاشرے میں بے رحمی اور بربریت پھیل سکتی ہے۔ اسلام میں سرعام کوڑے مارنے اور سر قلم کرنے کی سزائیں رائج ہیں اور اگر خلفائے راشدین کے زمانے میں جرائم کی سطح نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی تو اس میں حکمرانوں کے کردار تبلیغ وتلقین کیساتھ ساتھ ان سزاؤں کا دخل بھی تھا وگرنہ اس دور کے عرب معاشرے میں جرم کو کنٹرول کرنا آسان کام نہیں تھا۔ جدید مغرب نے انسان دوستی کا جو چولاصنعتی انقلاب کے بعد پہنا اس میں بہت جانوروں کے حقوق تو اہم ٹھہرے مگر انسانوں کے حقوق کا نعرہ محض ڈھکوسلا ثابت ہوا یا مغرب کا تصور انسان صرف ایک مخصوص معاشرے مخصوص مذہب یا چند مذاہب اور ایک مخصوص ثقافت حد تو یہ ایک مخصوص نظام یعنی جمہوریت کیساتھ منسلک کر دیا گیا۔ آج جو کچھ مسلمان دنیا میں ہو رہا ہے اور مغرب کہیں اس کا شریک کار ہے یا کہیںاس کا لطف لے رہا ہے تو اس سے مغربی اقدار کا دوہرا معیار اور تضاد عیاں ہو چکا ہے۔ ان کے خیال میں مسلمان اس وقت تک اچھے نہیں ہو سکتے جب تک وہ جدید مغرب کے اچھائی کے پیمانے پر پورے نہ اُتریں۔ اچھائی کا یہ پیمانہ ایک بے ڈھنگی جدیدیت ہے۔ کم لباسی، ایک مخصوص وضع قطع، اپنی روایات سے باغیانہ پن، اعداد وشمار کا کھیل جس میں جمہوری روح بھلے ہی موجود نہ ہو مغرب کو مسلمانوں کیلئے عزیز ہے۔ اسلامی سزاؤں اور سرعام سزا میں بھی ان کی اس انسان دوستی کے سوتے چھلک پڑتے ہیں جو فلسطین، کشمیر شام، عراق، افغانستان سمیت دنیا میں جابجا خشک ہوچکے ہیں۔ مغرب کا تصور انسان اور انسانی حقوق کا تصور بہت محدود اور متعصب ہوگیا ہے۔ پھانسی کی سزا سے وحشت اور انسانیت کی تذلیل کا مغربی تصور بھی مغرب کا ایک مصنوعی مجسمہ ہے۔ یہی تصور اب مضبوط کر دیا گیا۔ اس کی کوئی واضح بنیاد ہے نہ کوئی جواز۔ رواں بحث کا پس منظر بھی یہی کچھ ہے۔ ملک میں بچوں سے زیادتی کی ایک لہر سی چل پڑی ہے۔ ثبوت مٹانے کیلئے زیادتی کے بعد بچوں کا وجود ہی مٹا ڈالنے کا رواج بھی اس وحشت کا ایک اور خوفناک پہلو بن گیا ہے گوکہ جدید ذرائع نے اب ایسے درندوں تک قانون کی پہنچ آسان بنا دی ہے اس کے باوجود آئے روز درندگی کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔ اس سے بڑی درندگی اور کیا ہو سکتی ہے کہ معصوم بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بے رحمی سے قتل کر دیا جائے۔ اس سے معاشرہ جس خوف اور کرب کا شکار ہوتا ہے ایک مجرم کا عبرتناک انجام اس کی کسی حد تک نہ صرف تشفی کر سکتا ہے بلکہ ایسے درندوں اور ذہنی مریضوں کے دل میں موت سے پہلے معاشرے میں بے توقیری اور بدنامی کا خوف بھی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ جرم کو کنٹرول کرنے کی ایک اضافی کوشش ہو سکتی ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کو مغربی اداروں کی خوشنودی کی بجائے اپنے معاشرے، جرم کی نوعیت، اس کے معاشرے پر اثرات اور اپنی ثقافتی اقدار اور دینی تعلیمات کو مدنظر رکھ کر ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہئے۔