پینڈے کے لئے بنوںکاسفر

طرح طرح کے کھانے کھانے کا شوق سب کو ہوتا ہے مجھے بھی ہے اور یقینا آپ کو بھی ہوگا، دیسی اور بدیسی، کنٹینینٹل اور چائنیز تمام کھانے تقریباً سب کو پسند ہیں۔ اکثر میں نے دیکھا ہے کہ چند ہوٹلوں کے اور کچھ خاص علاقوں کے مخصوص کھانے ہوتے ہیں جو انہی لوگوں کے ہاتھوں میں لذت دار ہوتے ہیں ان کے علاوہ اگر کہیں اور ان کا ذائقہ اور لذت ڈھونڈنے لگیں تو اکثر مایوسی ہوتی ہے۔ عام طور پر لاہور کے کھابے مشہور ہیں اسی طرح کراچی کی بریانی اور نہاری کا بھی جواب نہیں۔ پشاور کا صرف کباب ہی نہیں بلکہ دیگر کئی پکوان بھی دل کو للچاتے ہیں، نمک منڈی کے دمبہ کی سیخ تکے اور کڑاہی، اندرشہر کا بڑے پانچوں کا کلہ، گھنٹہ گھر کی مچھلی وغیرہ۔ اگر پورے پختونخوا کی بات کریں تو پھر ایک لمبی فہرست ہے اور منہ پانی سے بھر آتا ہے۔ درہ آدم خیل کے پٹے تکے، چارسدہ کے موٹے چاول جنہیں مقامی زبان میں ”غٹے رجے” کہتے ہیں اور اب تو کراچی اور اسلام آباد کے بڑے اور چھوٹے ہوٹلوں میں بھی چارسدہ رائس کے نام سے آسانی سے مل جاتے ہیں۔ اسی طرح کراچی کی بریانی بھی ہمارے علاقوں میں عام مل رہی ہے لیکن جو اصل ذائقہ وہاں کے لوگوں کے ہاتھ میں ہے وہ دیگر لوگوں کو نصیب نہیں۔ شاید اسی لئے میری ایک عادت ہے کہ میں جس قسم کا کھانا ہوتا ہے اس کیلئے وہاں کی روایتی جگہ کا انتخاب کرتا ہوں۔ نان چھولے کھانے کیلئے میں پشاور صدر یا لاہوری گیٹ کا رخ کرتا ہوں۔ ملنے کو تو حیات آباد کے پوش علاقہ میں بھی نان چھولے مل جائیں گے لیکن وہ ذائقہ ممکن نہیں اسی طرح کباب کھانے کیلئے تاروجبہ اور بخشی پل کا رخ کرنا ہی اصل کباب کھانے کے شوقین ہونے کی سند ہے۔ پشاور کے اور بھی بہت سے پکوان ہیں لیکن ان پر پھر کبھی لکھوں گا، آج کا موضوع بنوں کی مخصوص ڈش پینڈا ہے، دیکھا جائے تو ملک کے ہر شہر میں یہ ڈش آسانی سے مل جائے گی اور پشاور میں تو خود بنوں والوں نے بڑے بڑے ہوٹل کھول رکھے ہیں مگر معذرت کیساتھ مجھ جیسے ذائقہ کے دلدادہ کو تسلی نہ دے سکے لہٰذا مجبوراً بنوں کا رخ کیا۔بنوں کے ذکر سے پہلے میںآپ کو اپنے اسی چٹورے پن کی ایک کڑی کے طور پر چین میں چائنیز کھانے کی روداد بھی سناتا چلوں، پاکستان میں تو چائنیز کھانے ہم کھاتے ہی رہتے ہیں اور اب تو کئی گھروں میں بھی یہ کھانے آسانی سے بن رہے ہیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب میں ٹریننگ کی غرض سے چند ہفتوں کیلئے چین گیا تھا۔ وہاں ہماری رہائش اور کھانے کا انتظام ایک اٹالین کمپنی نے کر رکھا تھا اور ہم کھانا ان کی میس میں کھاتے تھے، ہم اپنی میس میں ایک طرح سے سرکای یا مفت کھاتے تھے لیکن دو ہفتوں کے بعد اس باورچی کے سارے کھانے ایک جیسے لگنے لگے چکن ہو یا سبزی سب کا ذائقہ ایک جیسا ہو چکا تھا۔ یک ذائقہ کھانے کھاکھا کر ہم اُکتا سے گئے تھے۔ ایک دن میں چین میں اپنے میس کا کھانا چھوڑ کر باہر بازار کے ایک ہوٹل میں چلا گیا، شہر کا بتانا ضروری نہیں کیونکہ سب شہروں میں یہی حالت ہے۔ چند گھنٹوں کی تلاش کے بعد ایک حلال کھانوں کا ہوٹل مل ہی گیا۔ ہوٹل میں اس ڈش کا آرڈر دیا جو میں یہاں پاکستان میں نہ صر ف پانچ ستاری ہوٹل بلکہ چائنیز ہوٹلوں میں بھی ایک سے زیادہ شہروں میں متعدد بار کھا چکا تھا۔ آرڈر آیا تو جانی پہچانی خوشبو اور اسی طرح کی ڈش کہ جیسے پاکستان میں بیسیوں بار کھا چکے تھے لیکن جب ذائقہ چکھا تو ہمارا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا کیونکہ یہ ذائقہ ہی کچھ اور تھا۔ جب شکایت کی تو ساتھ کی ٹیبل پر بیٹھے ایک انڈین نے بتایا کہ جو ذائقہ آپ ڈھونڈ رہے ہیں وہ پاکستان اور انڈیا والوں نے اپنے مصالحے ڈال کر بنایا ہوتا ہے چائنیز کھانوں کا اصل ذائقہ یہی ہے۔اب واپس پینڈا کھانے کیلئے بنوں کا رخ کرتے ہیں، ملازمت کی غرض سے بنوں کے کئی لوگ پشاور میں رہائش پذیر ہیں، انہی میں سے ایک کیساتھ میری دوستی ہوگئی اور اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ اس نے ہمیں پشاور میں اپنی رہائش گاہ بلایا، کھانا بھی کھلایا مگر جب میری عادت کا پتہ چلا کہ میں روایتی کھانے ان کی اصل جگہ پر جاکر کھانے کو زیادہ پسند کرتا ہوں تو مجھے بنوں لے جا کر وہاں کا روایتی پینڈا کھلانے کی حامی بھر لی۔ پشاور سے صبح سویرے نکلے اور دوپہر تک بنوں پہنچ گئے۔ ہمارے میزبان نے دیسی مرغ سے بنا ہوا یہ پکوان سرے شام ہی ہمارے سامنے پیش کر دیا۔ بظاہر تو اس کی شکل اسی طرح کی تھی جیسا کہ ہم پشاور میں انہی کی رہائش گاہ میں کھا چکے تھے لیکن دیسی پینڈے کا مزہ ایسا تھا کہ وہ ذائقہ اب برسوں میں ہی کبھی بھول پائیں گے۔ برسوں اسلئے کہ اس طرح کے مواقع روز روز نہیں ملتے۔بنوں کا روایتی پینڈا کھانے کے بعد میرے ساتھ جانے والے ساتھیوں نے بھی میرے طریقہ کار کی تعریف کی کہ آپ جس طرح جس علاقے کا پکوان ہو اسی علاقہ میں جاکر کھاتے ہیں وہ آج ہمیں سمجھ آگیا اور جو مزا اس طرح کھانے کا ہے وہ مزہ شہر کے بڑے بڑے ہوٹلوں میں بھی نہیں مل سکتا۔