ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کا قومی اسمبلی میں پالیسی بیان

اسلام آباد:جب حکومت میں آئے تو 30 ہزار ارب روپے کا قرض تھا .سال 2019 اور 2020 میں 5 ہزار ارب روپے قرض واپس کرنا تھا، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب ڈالر تھا. جب آئے تو مالی خسارہ 2300 ارب روپے تھا ،گزشتہ پانچ سال برآمدات کی ترقی صفر تھی. ڈالر کو جان بوجھ کر سستا رکھا گیا، ٹوتھ پیس سے لگژری آئٹمز تک درآمد ہوتے رہے ، زراعت کی ترقی کی شرح بھی صفر تھی . بنیادی مقاصد تنقید کرنا نہیں حقائق بتانا ہے.

ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ نے مزید کہا کے 2008 اور 2013 میں بھی حکومت آئی ایم ایف کے پاس گئی ، یہ زیب نہیں دیتا کہ جو خود آئی ایم ایف کے پاس گئے وہ اب ہم پہ تنقید کریں. آئی ایم ایف کے پاس خوشی سے کوئی نہیں جاتا ، حالات آئی ایم ایف کے پاس جانے کے لئے مجبور کرتے ہیں.

پاکستانی ٹیم کو آئی ایم ایف کا نمائندہ کہنے پہ افسوس ہوا، پاکستان کو رضا باقر پہ فخر ہونا چاہئیے. جو آئی ایم ایف کے کوریڈور میں نہیں گھس سکتے وہ اس پہ تنقید کر رہے ہیں ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کا قومی اسمبلی میں پالیسی بیان.

فوج کا بجٹ منجمد کرنے میں جنرل باجوہ نے حکومت کی حمایت کی، سویلین حکومت کے بجٹ میں چالیس ارب روپے کی کمی کی گئی. ایوان صدر وزیر اعظم آفس کے اخراجات کم کئے گئے، کوئی حکومت ایسے سخت فیصلے نہیں کر سکتی تھی، سخت بجٹ دیا اور سخت اہداف رکھے ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کا قومی اسمبلی میں پالیسی بیان .

ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ نے مزید کہا کے ایکسچینج ریٹ مستحکم کرنے سے پٹرول ڈیزل اور مٹی کی تیل کی قیمت میں سات ماہ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا. آئندہ ایک دو ماہ میں اشیاء کی قیمتوں میں کمی آئے گی اور مستحکم ہوں گی.
رواں ماہ میں انڈس موٹرز کی پیداوار میں 72 فیصد اضافہ ہوا ،ہونڈا کی سیل میں 120 فیصد،ٹریکٹرز کی سیل میں 92 فیصد اور موٹر سائیکلوں کی فروخت میں 12 فیصد اضافہ ہوا.