کیا سردجنگ کاآغازہو گیا

پوری دنیا کی معیشت پرعالمی ساہو کا روں کا قبضہ ہے پھر اس قبضہ گروپ میں اجا رہ داری ایک خاص نظریئے کے حامل گروہ کی ہے جس کو دنیا صہیو نیت کے حوالے سے جانتی ہے ، پوری دنیا ان کے رتو ں سے واقف ہے ، انہو ں نے ساری دنیا کی معیشت اور اقتصادیت پر قبضہ بنکنگ کے نظام کے ذریعے جما رکھا ہے، چنا نچہ صہیونی جنہو ں نے پہلے پہل جرمنی کو اپنا اڈہ بنایا مگر ہٹلر کی سمجھ بوجھ نے ان کی دال نہیں گلنے دی بلکہ ان کا دال دلیہ کر ڈالا تھا ، اس کے بعد یہ عنا صر برطانیہ ، پھر فرانس سے ہوتے ہوئے امریکا جا بیٹھے اور انہو ں نے نیو یارک کو اپنا مستقر دوام بنا لیا اب دنیا بھر میں صیہونیو ںکی ساری شرارت یہا ں سے ہی پھوٹتی ہے ۔کیو ں کہ دنیا کے تما م اہم وسائل پر انھو ں نے قابو پارکھا ہے تما م عالمی بینک ، سونے کے انگنت ذخائر سے کے مالک ہیں ، چنا نچہ انہوںنے انھی وسائل پر امریکیو ں کو جکڑ رکھا ہے اور دنیا کو اقتصادی ومعاشی غلا می میں مبتلاء کررہے ہیں ، کسی قوم یا ملک کا ترقی یا فتہ ہو نا نہ تو امر یکا اورنہ ہی یو رپ کے لیے درد سر ہے بلکہ صیہو نیو ں کو اپنی اجارہ داری ملیا میٹ ہو نے کی فکر ہے چنا نچہ جب بھی کوئی ملک اقتصادی ومعاشی ترقی کی طرف گامزن ہو تا ہے یہ گروہ سازشوں کے ذریعے اس کی معاشی واقتصادی ترقی کو برباد کر دیتے ہیں جس کی کئی مثالیں مو جو د ہیں ، پاکستان کو ہی لے لیں یہ کہنے میںکوئی باک نہیں کہ فیلڈ ما رشل ایوب خان جیسے آمر کے دور میں پاکستان بڑی تیز ی کے ساتھ صنعت وحرفت میںترقی کررہا تھا، چنیی چور کا غلغلہ پڑ ا اس کے بعد سے پاکستان ہے کہ وہ اقتصادی ومعاشی بحران کا ایسا شکا ر ہو ا کہ پاکستان کے وزیر اعظم کو ملا ئیشیا کا نفرنس میں عد م شرکت کا ملا ل اپنی جگہ ستا رہا ہے ، عوام کی مہنگائی کے ہاتھو ں چیخیں نکل رہی ہیں ، اب ایسا محسو س کیا جا رہا ہے کہ امر یکا کا رخ اب پوری طرح چین کی جا نب ہو چلا ہے ۔چنا نچہ جو کما ل صیہو نیو ں کو ٹیکنا لو جی ، معاشیات ، اقتصادیا ت وغیر ہ میں حاصل ہے اب یہ اجا رہ داری چین کے ہا تھو ں ٹو ٹتی جا رہی ہے چنا نچہ یہ لابی اب اپنے کما لا ت وہنر کی طر ف ما ئل ہو کر چین کا گھیر ا تنگ کر نے کے درپے ہے ، اس سلسلے میں اس نے فلپائن ، کو ریا ، آسڑیلیا ، جا پا ن اور بھارت کے ساتھ مل کر ناکہ بندی کے منصوبہ بندی پر کا م جا ری رکھا ہو ا ہے ، اسی مشن کی بنیا د پر امریکا کو سی پیک منصوبہ پر مڑوڑ پڑی ہوئی ہے تاہم ان کی پا کستان میں لابی کی مجبوری یہ ہے کہ عوام کے دلو ں میں اس پراجیکٹ کے بارے میں جو انس ہے اس سے خائف ہو تے ہوئے یہ لا بی بااختیا ر ہو تے ہو ئے بھی آگے قدم بڑھانے میں ہچکچاہٹ کا شکا ر ہے ، بہر حا ل یو رپی یو نین کی طر ح چین بھی ایک یو نین کی طر ف گامزن ہے اور ترقی کے منا زل آنکھیں بند کر کے نہیں کھلے دل ودما غ کے ساتھ آگے قدم بڑھا رہا ہے ، چین جو اس سے پہلے بیر ونی امو ر میں دخیل نہیں ہو ا کرتاتھا ، اب وہ ایک کر دار ادا کر نے لگا ہے ، جس طر ح امریکا یا اس کا اجا رہ دار صیہو نی سب کو اقتصادی غلام بنا نے میں لگا ہو اہے اور وہا ں وہ اقتصادیا ت کا دیو الیہ نکال دیتا ہے اب وہ چین کی طر ف قدم بڑھا رہا ہے اور دنیامیں وہ چین کو الگ تھلگ کرنے کی پالیسی اپنائے ہو ئے ہے تاکہ کوئی ملک چین کے ساتھ نہ ہو ا ، چین کے کر ونا وائرس میںبھی اس لا بی کا یہ ہی کردا ر نظر آرہا ہے پاکستان جیسا ملک بھی کر ونا وائرس سے چین کی جان چھوڑنا کے لیے ہم قدم بننے کی پیش کش کر رہا ہے تو امر یکا ئی ذرائع ابلا غ جو انھی صیہو نیو ں کی ملکیت ہیں ساری دنیا میں کر ونا وائر س کا چر چا دہشت ووحشت پھیلا نے کے طو ر پر کر رہا ہے ، تاکہ کر ونا وائرس کی عفریت سے خائف ہو کر دنیا چین سے سمٹ جائے اور چین اقتصادی ومعاشی دیو الیے کی طرف دھکیل دیا جائے ، چین نے جس اند از میں کر ونا وائرس کا مقابلہ صرف دس روز کی انتہائی نا ممکن مد ت میں کرونا وائرس کے مریضو ن کے لے اسپتال کھڑا کر دیا یہ موجو دہ صدی کا معجز ہ ہی ہے اور ترقیا فتہ مغر بی دنیا کے منہ پر ایک زبردست چپیڑ بھی ہے ، اب تازہ ترین یہ اطلا ع آئی ہے کہ امریکا میں چین کی فوج کے چار افسروں کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی ہے جنہوں نے مبینہ طور پر کریڈٹ ریٹنگ کمپنی ایکوائی فیکس کی ہیکنگ کر کے چودہ کروڑ سے زیادہ امریکی شہریوں کی ذاتی معلومات چوری کر لی تھیں۔
کمپنی نے الزام عائد کیا کہ ہیکروں نے اپنی شناخت کو چھپانے کے لیے بیس ممالک سے 34 سرورز سے اس نظام تک رسائی حاصل کر کے ہیکنگ کی۔ ایکوء فیکس نامی کریڈٹ ریٹنگ کمپنی کے پاس 82کروڑ صارفین اور نو کروڑ کاروباروں کی معلومات ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایف بی آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ ابھی تک ایسی کو شہادت سامنے نہیں آئی ہے کہ اس چوری شدہ ڈیٹا کو استعمال کر کے کسی فرد کے بینک اکاونٹ یا کریڈٹ کارڈ سے رقم چوری کی گئی ہو۔تو پھر معلو ما ت کس غرض سے چوری کی گئی اور اس کے کیا ثبو ت ہیں کہ جو الزام عائد کیا جا رہا ہے ۔اس واقعے کے بعد ایکوئی فیکس کو لوگوں کی معلومات کا تحفظ نہ کرپانے کی پاداش میں سزا کے طور پر 700 ملین ڈالر جرمانہ فیڈرل ٹریڈ کمیشن کو ادا کرنا پڑا تھا۔اس کے علاوہ کمپنی کو 300 ملین ڈالر شناخت کی چوری کو روکنے والی کپمنیوں کو بھی ادا کرنے پڑے تھے۔امریکی اٹارنی جنرل ولیئم بار نے ایک بیان میں کہاآج وہ پی ایل اے کے ہیکروں کو ان مجرمانہ فعل کا ذمہ دار ٹہراتے ہیں اور چین کی حکومت کو یاد دہانی کراتے ہیں کہ امریکی بھی انٹرنیٹ پر رازداری کے لبادے کو اتارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ایسے ہیکرو کی شناخت کو پہنچ سکتے ہیں جو بار بار ہم پر حملہ آور ہوتے ہیں۔چین نے اس دھمکی یا بھڑ کا نہ تو جو ا ب دیا اور نہ کسی قسم کا ردعمل ظاہر کیا ، تاہم امریکی اٹارنی جنر ل ولئیم با ر کی اس دھمکی سے یہ نتیجہ حاصل ہو تا ہے کہ چین کے ساتھ سر د جنگ کا پھڈا ڈل دیا ہے ۔