تعلیمی انحطاط کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟

تعلیم کا شعبہ ہمارے پالیسی سازوں کے لیے ہمیشہ کم ترین ترجیحات میں سے ایک رہا ہے۔ ہمارے تمام ہمسایہ ممالک بشمول افغانستان تعلیم پر بھرپور توجہ دیتے ہیں اور اس مد میں بجٹ کا ایک خطیر حصہ مختص کرتے ہیں۔ پاکستان میں ایسا نہیں۔ آخر کیوں؟ہمارے ہاں طویل عرصے سے تعلیمی شعبے میں محض واجبی سرمایہ کاری نے ملک میں ایک شدید تعلیمی بحران پیدا کر دیا ہے۔ اس معمولی سرمایہ کاری کی وجہ سے پاکستان کے بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد سکولوں میں جانے سے محروم ہے۔ 2016کے ایک مطالعہ کے مطابق پانچ سے سولہ سال کی عمر کے دو کروڑ26لاکھ بچے سکول نہیں جا سکے اور اس تعداد میں حالیہ برسوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ان بچوں کے سکول نہ جانے کی سب سے بڑی وجہ سکولوں کی تعداد میں کمی تھی۔کیا اکیسویں صدی میں اتنے بچوں کو آئینی ذمہ داری کے باوجود تعلیمی سہولتوں سے محروم رکھنا کسی مہذب ریاست کو زیب دیتا ہے؟ اقوام متحدہ کے رہنما اصولوں کے مطابق پاکستان کو اپنی قومی پیداوار کا چار سے چھ فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کرنا چاہیے۔ لیکن ہم ڈھٹائی سے مجموعی قومی پیداوار کا صرف دو اعشاریہ آٹھ فیصد تعلیم جیسے اہم شعبے پر خرچ کرتے ہیں۔ یہ معمولی رقم نہ صرف بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر مزید تعلیمی ادارے قائم کرنے کے لیے ناکافی ہے بلکہ مجموعی طور پر تعلیم کے معیار پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔حکومتی بیتوجہی کے باعث نجی سرمایہ کاروں نے اس میدان میں قدم رکھا لیکن اس میں بہت سارے ایسے سرمایہ کار بھی شامل تھے جن کا تعلیم کے شعبے سے کوئی تعلق نہ تھا۔ انہوں نے اسے محض ایک کاروبار سمجھا اور اپنی توجہ بہتر تعلیمی سہولتیں مہیا کرنے کی بجائے صرف پیسہ بنانے پر مرکوز رکھی۔ اس سرمایہ کاری سے تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافہ تو ہوا مگر تعلیمی معیار کافی نیچے چلا گیا۔ اس خلا کو مذہبی مدرسوں نے بھی پر کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے معاشرے میں انتہا پسندی کے رحجان میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تعلیمی شعبے میں مسلسل بیتوجہی کی وجہ سے پاکستان ابھی تک ایک تعلیم یافتہ ملک کے طور پر ابھر نہیں سکا۔ درحقیقت یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ دیگر شعبوں کی طرح تعلیم کے میدان میں بھی اقوام عالم میں ہماری کوئی خاص حیثیت نہیں ہے۔ یہ مایوس کن صورت حال تقاضہ کرتی ہے کہ اس مسئلہ پر ہنگامی بنیادوں پر توجہ دی جائے اور اپنی آئندہ نسلوں کو ناخواندگی کے چنگل سے آزادی دلائی جائے۔ ہماری بقا اسی میں ہے۔ اس گھمبیر اور قومی اہمیت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات پر عمل کرنے سے شاید ہم اس تنزلی کا مقابلہ کر سکیں۔ ہمیں دو کروڑ26لاکھ بچے جو سکول نہیں جا پا رہے انہیں سکول کی سہولتیں مہیا کرنی ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ ان بچوں کے والدین کو بھی ترغیب دینی ہوگی کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دیں۔ چونکہ یہ والدین مالی وجوہات، سکولوں کی دوری اور تعلیم پر اٹھنے والے اخراجات کی وجہ سے بچوں کو سکول بھیجنے سے گریز کرتے ہیں تو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ایسی ترغیبی مہم چلانے کی ضرورت ہے جس سے والدین بچوں کو تعلیمی اداروں میں جانے کی اجازت دیں۔سکولوں کی کمی اور کئی مقامات پر فاصلہ بھی بچوں کے تعلیم حاصل کرنے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک سروے کے مطابق تقریبا نو فیصد سکولوں کے لیے عمارت ہی نہیں ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ سو میں سے نو سکولوں میں بچوں کو کھلے میدان میں تعلیم دی جا رہی ہوتی ہے جو بچوں میں نہ صرف صحت کے مسائل پیدا کرتی ہے بلکہ کئی تعلیمی دن خراب موسم کی وجہ سے ضائع بھی ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جو سکول عمارتوں میں قائم ہیں ان میں سے اکثر مخدوش حالت میں ہیں اور ان کی مرمت اور حفاظت کے لیے مختص رقوم ناکافی ہیں۔ اسی طرح صرف58فیصد سکولوں میں بجلی کی سہولیات مہیا ہیں اور تقریبا صرف 68فیصد کے پاس پینے کے پانی کی سہولت ہے۔ تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی تعلیمی بحران میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔2013میں اساتذہ کی تعداد12 لاکھ ستر ہزار سے بڑھ کر2016میں 13 لاکھ پچاس ہزار تک پہنچ گئی لیکن ابھی بھی بلوچستان میں تقریباً24فیصد اساتذہ کی اسامیاں خالی پڑی ہیں اور پنجاب میں یہ اعدادوشمار تقریبا17فیصد ہیں۔دیگر صوبوں میں بھی صورت حال زیادہ مختلف نہیں ہے۔ اساتذہ کی کمی کے علاوہ ایک ہی استاد کا ایک ہی کلاس میں مختلف درجات کے طالب علموں کو پڑھانے سے طالب علموں کے پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ اس سے استاد کے لیے تمام طالب علموں کو ان کے درجے کا نصاب پڑھانے میں بھی دشواری ہوتی ہے۔ اس طرح کے اساتذہ کی تعداد شہری علاقوں میں 12 اور دہی علاقوں میں22 فیصد ہے۔ اساتذہ کی غیر تسلی بخش علمی معلومات بھی تعلیمی معیار کو متاثر کر رہیں ہیں۔ سرکاری سکولوں میں41فیصد اساتذہ کے پاس بیچلرز کی ڈگری نہیں ہے اور صرف26فیصد کے پاس پی ٹی سی سر ٹیفکیٹ ہے۔ تقریبا16فیصد کے پاس سی ٹی سرٹیفیکٹ ہے۔ اس طرح کی ناکافی تعلیمی قابلیت کے حامل اساتذہ سے پاکستان میں تعلیمی معیار کو بہتر کرنے کی امید کرنا ایک سعی لاحاصل ہے۔کم اہلیت والے اساتذہ کی وجہ سے طالب علموں کا معیار تعلیم بھی انتہائی پستی کی طرف جا رہا ہے۔2016کی ایک تحقیق کے مطابق پانچ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں میں صرف 46فیصد اردو یا علاقائی زبانوں کا ایک جملہ پڑھ سکتے تھے اسی طرح49فیصد انگلش کے کچھ لفظ سمجھ یا پڑھ سکتے تھے۔ ریاضی میں صرف45فیصد تفریق کرنا جانتے تھے۔ان تمام مسائل کی طرف فوری توجہ نہ دی گئی تو ہمارے ہاں تعلیم کے معیار میں مزید کمی آئے گی اور ہمارے بچے مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیتوں سے مکمل طور پر محروم ہوجائیں گے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ مناسب اقدامات کے ذریعے اس انحطاط کے سفر کو روکا جائے۔ (باقی صفحہ7پر)