حج اخراجات میں بلاجواز اضافہ

وفاقی وزیرمذہبی امور کے مطابق وزیراعظم نے حج کے عمل کو آسان بنانے کیلئے خصوصی ہدایات دی ہیں تاہم وزیرمذہبی امور نے ان ہدایات کی روشنی میں حاجیوں کیلئے سہولیات کا تذکرہ تو نہیں کیا البتہ حج پیکج میں اضافہ کرتے ہوئے اس کے مہنگا ترین ہونے کا اعلان ضرور کیا جس کے مطابق خیبر پختونخوا کے سرکاری کوٹے پر حج کے خواہشمند افراد پر چار لاکھ نوے ہزار روپے کے اخراجات آئیں گے۔ پاکستان کے ہمسایہ ممالک بھارت اور بنگلہ دیش میں حج کے اخراجات پاکستان کے مقابلے میں نمایاں حد تک کم کیوں ہیں۔ غیرمسلم ملک بھارت میں اس کی ایک وجہ حکومت اور بھارتی فضائی کمپنی کی جانب سے عازمین حج کو کرایوں میں دی گئی رعایت ہے، صرف یہی نہیں ایک معقول رقم میں وہ اپنے ملک کے حاجیوں کو پاکستانی حجاج کرام سے زیادہ بہتر خوراک پر آسائش رہائش اور ٹرانسپورٹ بھی فراہم کرتے ہیں جبکہ پاکستانی عازمین دوگنا زائد ادائیگی کے باوجود ان سہولتوں سے محروم ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی فضائی کمپنی عام دنوں میں زائرین عمرہ اور سعودی عرب جانے والے مسافروں سے جو کرایہ وصول کرتی ہے حجاج کرام کو اس کے دوگنا کی ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔ بہانہ یہ تراشا جاتا ہے کہ جہاز خالی واپس آتے ہیں کیا بھارت اور بنگلہ دیش کے جہازوں کو واپسی پر پورے مسافر دستیاب ہوتے ہیں اور اگر ہوتے ہیں تو وہ کیسے۔ حج کے مہنگا ہونے کی ابتداء فضائی کمپنیوں کی جانب سے کرائے بڑھانے سے شروع ہوتی ہے اس کے بعد پی آئی اے اپنا اضافی عملہ تقریباً ہزار ریال فی کس فی دن کے حساب سے سعودی عرب بھجواتا ہے حالانکہ حجاج کرام کے ریٹرن ٹکٹ اور بورڈنگ کارڈ تک کا انتظام پہلے ہی ہوچکا ہوتا ہے صرف یہی نہیں خدام الحجاج کے نام پر سرکاری افسران اور عملہ بھجوا کر ان کے ٹکٹ طعام وقیام اور معاوضہ کا بوجھ حجاج کرام پر ڈال دیا جاتا ہے حالانکہ سعودی حکومت کی جانب سے حج کے موقع پر حجاج کی مدد ورہنمائی کیلئے پوری طرح کا بندوبست کیا گیا ہوتا ہے جو لوگ خادمین حج کے نام پر جاتے ہیں کم وبیش ہی وہ خدمت پر تیار اور مامور ہوتے ہیں۔ حکومت پاکستان کے وزارت مذہبی امور حاجیوں کیلئے رہائش گاہوں، ٹرانسپورٹ اور طعام وغیرہ کیلئے جو معاہدے کرتی ہے وہ بھی مہنگا ہونے کیساتھ ساتھ نامناسب ناقص ہوتے ہیں مگر رقم پوری وصول ہوتی ہے بلکہ اضافی رقم کی وصولی کے باوجود حجاج کو مشکلات کا شکار بنا دیا جاتا ہے، استفسار یہ ہے کہ وزیراعظم نے حج آسان بنانے کیلئے جو ہدایات دی ہیں محولہ معاملات میں ان ہدایات پر کس حد تک عمل کیا گیا ہے۔ گزشتہ وموجودہ سال حج اخراجات میں بے تحاشہ اضافہ ڈالر کی قیمت میں اضافے کے مطابق ہوتی تو اس کی گنجائش تھی، ان سالوں اور گزشتہ سالوں کے موازنے سے واضح فرق سامنے آنا اس امر پر دال ہے کہ وزارت مذہبی امور اور حکومت نے اس حوالے سے نہ صرف اپنی ذمہ داریوں سے ہی احتراز نہیں کیا بلکہ سفر حج کو بھی شفاف بنانے کی بجائے عازمین حج پر مزید بوجھ ڈالا ہے، بجائے اس کے کہ حکومت عازمین حج سے صرف وہی رقم وصول کرتی جو حقیقی اخراجات ہوں ان سے نفع کمایا گیا۔ اعلان شدہ رقم میں کمی کے مطالبے کی تو اب گنجائش نہیں، وزارت مذہبی امور سے بس اب اسی توقع کا اظہار کیا جا سکتا ہے کہ وہ حج کے انتظامات بہتر بنانے کی ذمہ داری نبھائے اور آئندہ کیلئے ان تمام غیرضروری اخراجات میں کمی لانے کا فیصلہ کیا جائے جس میں کمی ممکن ہے، نیز اس امر کا خیال رکھا جائے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے حاجیوں سے وصول ہونے والی رقم کے لگ بھگ ہی حج پیکج بنایا جائے۔