مہنگائی میں کمی آنے کی موہوم اُمیدیں

وزیراعظم عمران خان نے مہنگائی میں کمی لانے کیلئے جن اقدامات کا عندیہ دیا تھا بلی کے تھیلے سے باہر آنے پر نئی بوتل میں پرانی شراب نکل آئی۔ وزیراعظم کے جن اقدامات کا مشیراطلاعات ونشریات نے اعلان کیا ان میں نہ تو کوئی نئی بات ہے اور نہ ہی ان اقدامات کے مؤثر اور نتیجہ خیز ہونے کی توقع ہے۔وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مہنگائی کیخلاف جن اقدامات کی منظوری دی گئی ہے اس کے تحت’یوٹیلیٹی سٹور کارپوریشن کو آئندہ 5ماہ تک ماہانہ 2ارب سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ گندم، چینی، چاول، دالوں اورگھی کی قیمتوں میں سبسڈی دی جائے گی۔ دالوں کی قیمتوں میں10سے 15روپے کمی کی جائیگی، ملک میں یوتھ سٹورز کھولے جائیں گے، بڑے شہروں میں کیش اینڈکیری سٹور بنائے جارہے ہیں، چینی کی قیمت 70روپے کلو مقرر کی گئی ہے، کھانے کے تیل کی قیمت175روپے مقرر کی گئی۔ وزیراعظم کے اقدامات سے خود وفاقی کابینہ کے ارکان کو اتفاق نہیں۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیردفاع پرویزخٹک، وزیر سائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری اور وزیر برائے کشمیر، گلگت وبلتستان امور علی امین گنڈاپور سمیت کئی وزراء نے یوٹیلٹی سٹورز پیکج کی مخالفت کی۔ یوٹیلیٹی پیکج کی مخالفت کرنے والے وزراء کا موقف تھا کہ یوٹیلیٹی سٹورز کو اربوں روپے دینے کے بجائے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کی جائیں۔ چینی اور آٹا کی مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ آٹا کی سمگلنگ وبرآمد اور چینی کی ذخیرہ اندوزی تھی منافع خور مافیا نے سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر جس طرح کارٹل بنا کر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اگر کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم ان عناصر کیخلاف ہی سخت عملی اقدامات کا اعلان کرتے اور ان لوگوں کے نام بلاامتیاز سامنے لاکر ان کیخلاف بے رحمانہ کارروائی کا اعلان کیا جاتا اور ایک طرف جہاں عوام کی تسلی وتشفی ہوتی وہاں حکومت کے عزم کے عملی اظہار اور مافیا پر ہاتھ ڈالنے کے باعث مارکیٹ پر نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے اور حکومتی گرفت کے خوف سے قیمتوں کو مصنوعی بڑھانے والے عناصر باز آجاتے جس سے اشیاء کی قیمتوں میں کمی آنا فطری امر ہوتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے ہوم ورک کئے بغیر اتنا بڑا قدم اُٹھایا ہے جس پر عمل درآمد میں اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے سوال اُٹھایا ہے کہ کیا حکومت ان 50لاکھ خاندانوں کو بھی راشن کارڈز جاری کرے گی جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیساتھ پہلے سے رجسٹرڈ ہیں یا ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو یہ کارڈز جاری کئے جائیں گے؟ راشن کارڈ کے ذریعے ریلیف فراہم کرنے کا مطلب ہے کہ حکومت40روپے کی چیز خرید کر عوام کو10روپے میں بیچے گی۔ اس کیلئے رقم کہاں سے آئے گی؟ اس وقت حکومت کے پاس رعایتی نرخوں پر اشیا فراہم کرنے کیلئے پیسے موجود نہیں ہیں۔ اگر وہ رقم بجٹ سے نکالی جائے گی تو بجٹ خسارے میں اضافہ ہوگا جو آئی ایم ایف کیساتھ جاری بات چیت کو متاثر کرے گی۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ سب سے پہلے اپنی بیلنس شیٹ پر نظر دوڑائے۔ دنیا میں اس کا تصور موجود نہیں ہے، اس لئے حکومت کو خیال سے چلنا ہوگا کیونکہ ناکامی کی صورت میں اسے سخت دھچکہ لگے گا۔ پاکستان میں جب بھی کوئی بحران آتا ہے تو اس کا وقتی حل تلاش کیا جاتا ہے لیکن مستقل حل کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔
غیرمحفوظ سلینڈروں کیخلاف مہم کی ناکامی، سنگین مسئلہ
خیبر پختونخوا حکومت کے احکامات اور ضلعی انتظامیہ کی کارروائیوں کے باوجود شہر کے مختلف بازاروں میں اشیاء خورد ونوش کی دکانوں اور مسافر گاڑیوں میں استعمال ہونے والے سلنڈرز کا استعمال انتظامیہ کے مہم کے غیرمؤثر ہونے کا ثبوت ہے۔ انتظامیہ نے سلنڈرز کی اشیاء خورد ونوش کی دکانوں میں استعمال پر بھی مکمل پابندی لگائی تھی اورکارروائی بھی شروع کی تھی تاہم اب یہ عمل سست روی کا شکار ہے اور زیادہ تر دکانوں اور گاڑیوں میں اس کا استعمال تاحال کیا جارہا ہے۔ اگرچہ گزشتہ واقعے کے بعد سے کسی گاڑی میں سلینڈر پھٹنے کا کوئی حادثہ سامنے نہیں آیا البتہ اشیائے خورد ونوش کی تیاری کے دوران سلینڈر پھٹنے کے چھوٹے موٹے واقعات معمول میں جو رپورٹ نہیں ہوتیں۔ انتظامیہ اور متعلقہ حکام کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ کسی بڑے حادثے پر ہی کوئی کارروائی شروع کرتے ہیں اور چند روزہ مہم کے بعد ہر سرکاری مہم دم توڑ دیتی ہے گوکہ اب بھی اکا دکا غیرمعیاری اور غیرمحفوظ سلینڈروں کی چیکنگ اور ان کی استعمال کرنے والوں کیخلاف کارروائی سامنے آتی ہے لیکن جو تسلسل توجہ اور سختی درکار تھی وہ دکھائی نہیں دیتی جس کے باعث سلینڈر استعمال کرنے والے اس کے معیاری ہونے اور مقررہ مدت گزرنے کے بعد سلینڈر کے محفوظ ہونے کے حوالے سے ماہرین سے رجوع کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ ایسا کرنے والے عناصر خود اپنی جانوں کو بھی داؤ پر لگاتے ہیں اور دوسروں کے جانوں سے بھی کھیلتے ہیں۔ انتظامیہ کم ازکم سکول کے بچوں کے تحفظ کیلئے ان کے زیراستعمال گاڑیوں ہی کی پوری طرح چیکنگ کرکے سکول وینز کے مکمل محفوظ ہونے کا عوام کو یقین دلاتی اور ایک عمومی سند جاری کی جاتی کہ صوبائی دارالحکومت سمیت صوبے کے تمام علاقوں میں سکولز وینز سواری کیلئے محفوظ ہیں۔ اس ضمن میں مزید غفلت کا ارتکاب خدانخواستہ کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی وتساہل کا مظاہرہ ترک کر کے سنجیدگی اختیار کرنی چاہئے۔
پشاور بورڈ کی ڈیجیٹلائزیشن
پشاور کے تعلیمی بورڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اور معاملات کو شفاف بنانے کیلئے ایپ کا اجراء اچھی سعی ہے لیکن ڈیجیٹلائزیشن کا عمل ازخود اس صلاحیت کا حامل نہیں کہ معاملات میں سدھار آجائے، یہ ایک بہتر اور مؤثر ذریعہ ضرور ہے جس کے استعمال سے تعلیمی بورڈوں میں شفاف مارکنگ اور طالبعلموں کی شناخت وغیرہ میں آسانی میسر آئے گی۔ پشاور کے تعلیمی بورڈ میں رائج اس نظام کا امتحان آمدہ میٹرک کے امتحانات ہوں گے جس میں کامیابی کے بعد دیگر تعلیمی بورڈوں میں اس نظام کو رائج کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔