میرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو

گزشتہ پیر کی شب کراچی کے علاقے ناظم آباد میں ایک دولہا تیسری شادی کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، اس کی بیوی اور سالوں نے خوب درگت بنائی، بیچارے کو قریبی تھانے میں پناہ لینی پڑی! تیسری شادی کا مطلب یہ ہے کہ جناب دو شادیاں پہلے ہی کر چکے ہیں، اب اسے ان کی بدقسمتی ہی کہا جاسکتا ہے کہ عین موقع پر ان کی نیک پروین کو خبر ہوگئی اوراس نے اپنے بھائیوں اور رشتہ داروں کی معیت میں شادی ہال پہنچ کر ولیمے کی تقریب کو درہم برہم کردیا۔ اس سادہ سی خبر نے ہمارے ذہن میں دھماچوکڑی مچا رکھی ہے۔ دراصل شادی کا موضوع اتنا پیچیدہ ہے کہ اس پر بات کرنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچنا پڑتا ہے، غالباً یہ واحد موضوع ہے جس پر بہت سارے اقوال زریں ملتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ شادی کو ہر بندہ اپنے زاوئیے سے دیکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ اب تک شادی کے حوالے سے کی گئی کسی بھی بات کو حرف آخر نہیں کہا جاسکتا! اس موضوع کی نزاکت کا اندازہ اس ایک جملے سے باآسانی لگایا جاسکتا ہے ”جس نے شادی کی وہ بھی پچھتایا اور جس نے نہیں کی وہ بھی پچھتایا” جب ہم نے پہلی مرتبہ کسی مرد دانا کا یہ قول زریں سنا تھا تو اس وقت بے ساختہ ہمارے منہ سے یہی نکلا تھا کہ اگر دونوں حالتوں میں پچھتانا ہی ہے تو پھر شادی کرکے کیوں نہ پچھتایا جائے! اور ہم نے دھوم دھام سے ایک عدد شادی کرڈالی۔ اب حیرت اس بات پر ہے کہ شادی کرکے پچھتانے کی حسرت آج تک ہمارے دل ہی میں رہی بلکہ ہم اکثر سوچتے ہیں کہ شادی نہ کرکے ہم بہت بڑی حماقت کے مرتکب ہوتے! مگر دوستو! یہ مسئلہ یقینا ٹیڑھی کھیر ہے کچھ دل جلے یہ کہتے بھی نظر آتے ہیں کہ شادی کی مثال بند خربوزے جیسی ہے اور میٹھا خربوزہ قسمت والوں ہی کا نکلا کرتا ہے! شادی کے حوالے سے ایک بات بڑی واضح ہے کہ شادی شدہ حضرات کی اکثریت اپنی شریک حیا ت کے حوالے سے بہت سے تحفظات رکھتے ہیں، ویسے یہ ہمارا ذاتی خیال ہے کہ یہ سب کچھ بطور فیشن کہا جاتا ہے! اپنی شریک حیات کیخلاف زبان کھولنا نئی تہذیب کے لوازمات میں شامل ہوچکا ہے! شادی کے حوالے سے بات جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے بندہ اس کی نزاکتوں میں الجھتا چلا جاتا ہے۔ ابراہم لنکن کا کہنا ہے کہ شادی دوزخ ہے اور نہ ہی جنت بلکہ یہ مقام برزخ ہے جہاں ارواح کو تکالیف میں ڈال کر پاک کیا جاتا ہے پھر اس کے بعد انہیں جنت میں داخلے کی اجازت ملتی ہے! شادی میں خواتین وحضرات نے اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہوتا ہے اس لئے دونوں طرف سے اپنی حمایت میں زبردست قسم کے اقوال زریں سننے کو ملتے ہیں! اس حوالے سے افتخار عارف کی شرائط پر بھی ایک نظر ڈال لیتے ہیں:
دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو
کوئی تو ہو جو میری وحشتوں کا ساتھی ہو
میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے
میرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو
اب آپ خود انصاف کیجئے ایسا ساتھی آج کل کے دور میں کہاں ملتا ہے! حوا کی ایک بیٹی کا کہنا ہے کہ ایک سچا مرد کبھی بھی عورت کا دل نہیں توڑتا اور عورت کو کبھی بھی مت رلانا کیونکہ اس کی آنکھوں سے گرنے والے آنسو اللہ تعالیٰ شمار کرتا ہے اسے مرد کی پسلی سے پیدا کیا گیا ہے، پاؤں سے نہیں کہ تم اس پر پاؤں رکھ سکو یہ مرد کے پہلو سے اس لئے پیدا کی گئی ہے کہ تم اس کیساتھ برابری کا سلوک کرو! پسلی بغل کے نیچے اور دل کے قریب ہوتی ہے اس کی حفاظت بھی کرنی ہے اور اس سے محبت بھی کرنی ہے! سچی بات تو یہ ہے کہ میٹھے خربوزے والی بات دل کو لگتی ہے! روس کا مشہور ادیب لیو ٹالسٹائی اچانک ذہن میں آگیا ہے اس کا خربوزہ بھی پھیکا نکل آیا تھا، وہ 82برس کی عمر میں شدید سردی میں گھر چھوڑ کر نکل آیا اور پھر چند دنوں بعد استاپوووف نامی ریلوے سٹیشن پر اس کی موت واقع ہوئی۔ بوڑھے ٹالسٹائی کی موت کا سبب شدید نمونیہ تھا اس نے آدھی رات کو گھر سے نکلنے سے پہلے اپنی بیوی کیلئے ایک خط چھوڑا جس میں اس نے لکھا تھا کہ میں وہی کچھ کررہا ہوں جو میری عمر کے بوڑھے اکثر کیا کرتے ہیں میں دنیاوی زندگی چھوڑ کر کسی گوشہ تنہائی میں سکون کیساتھ اپنی زندگی کے آخری دن گزارنا چاہتا ہوں! بوڑھا ٹالسٹائی شاید یہ بھول گیا تھا کہ جسے گھر میں سکون نہ ملے اسے دنیا میں کہیں بھی سکون نہیں ملتا، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ شادی کے حوالے سے سب کے اپنے اپنے تجربات ہوتے ہیں یہ کسی کیلئے پھولوں کی سیج ہوتی ہے اور کسی کیلئے کانٹوں کا بستر! اب اس تیسری شادی کرنے والے شخص کی پہلی بیوی کا کہنا ہے کہ یہ فراڈیا ہے ہم سے چھپ کر شادی کرنا چاہتا تھا ویسے انصاف کے تقاضے اسی وقت پورے ہوسکتے ہیں جب اس شخص سے بھی ایک مرتبہ پوچھ لیا جائے کہ اے دو بیویوں کے شوہر تجھ پر ایسی کیا افتاد آپڑی تھی جو تو تیسری شادی چھپ کر کرنے کیلئے نہ صرف تیار ہوگیا بلکہ تقریباً کر ہی ڈالی تھی وہ تو تیری قسمت اچھی تھی جو عین اپنا ولیمہ اُڑاتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔