پشاور سمیت4اضلاع کے لئے85ملین ڈالرکا منصوبہ ملتوی

پشاور(زاہد میروخیل) صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت کی جانب سے تکنیکی اعتراضات کی روشنی میں افغان باشندوں کی کثیر آبادی والے خیبر پختونخوا کے 4 اضلاع میں صحت اور تعلیم کے شعبے میں85ملین ڈالر سے زائد گرانٹ اور قرضہ پر مشتمل پانچ سالہ منصوبے کا پی سی ون واپس کردیا ہے ذرائع کے مطابق فی الحال یہ منصوبہ ملتوی کردیا گیا ہے وفاقی حکومت سے اجازت ملنے کے بعد منصوبے کو دوبارہ ز یر غور لایا جائیگا واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں مقیم افغان باشندوں کی آبادی پر مشتمل 64فیصد حصہ 4اضلاع پشاور، نوشہرہ ، صوابی اور ہری پور میں شمار کیا گیا ہے جہاں پر گزشتہ تین عشروں سے مقامی آبادی کیلئے سرکاری سطح پر قائم ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی سہولیات سے افغان باشندے بھی مستفید ہو رہے ہیں اس حوالے سے مذکورہ اضلاع میں بنیادی صحت مراکز کو24گھنٹے فعال بنانے،دیہی صحت مراکز کی تزین وآرائش اور ایمبولینس وغیرہ کی فراہمی کیلئے یو این ایچ سی آر نے عالمی بینک کے توسط سے85ملین ڈالر کا منصوبہ تجویز کیا تھا جس کیلئے پی سی ون بھی تیار کیا گیا تھا لیکن مذکورہ پی سی ون کو صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت کے پاس منظوری کے لئے بھیجنے سے قبل ہی مستر د کردیا ہے اور اس پر تکنیکی اعتراضات لگادئیے گئے ہیں جس کی وجہ سے یہ منصوبہ فی الحال ملتوی کردیا گیا ہے محکمہ تعلیم کے ذرائع نے بتایا کہ منصوبے کی پانچ سالہ مدت کیلئے ورلڈ بینک نے39ملین ڈالر عطیہ کے طور پر جبکہ باقی رقم تقریبا پچاس سالہ مدت تک کیلئے قرض پر دینے کی منصوبہ بندی کی تھی اورا س قرض پر وفاقی حکومت نے اعتراض کیا جس کی وجہ سے منصوبے کا پی سی ون واپس کیا گیا دوسری طرف معلوم ہوا ہے کہ چار اضلاع میں صحت اور تعلیمی نظام کی بہتری کیلئے عالمی بینک نے17فروری تک منصوبے کے پی سی ون کی منظوری کا ٹائم مقرر کیا تھا لیکن پی سی ون کی واپسی کی وجہ سے یہ منصوبہ غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی ہوگیا ہے۔