ایام کی گردش ہے تقدیر کے پھیرے ہیں

کل ایک صاحب فرما رہے تھے کہ ہماری مساجد نمازیوں سے بھری ہوئی ہیںحج و عمرہ کرنے والے بھی لاکھوں میں ہیں لیکن اگر کمی ہے تو کردار کی دیانت داری کی! ہم لوگ صرف عبادات تک محدود ہوکر رہے گئے ہیں آخر ایسا کیوں ہے؟ ہمارا ملک دیانت داری میں 160ویں نمبر پر آتا ہے اس پر بھی تحقیق ہونی چاہئے ہم روزبروز پست سے پست تر ہوتے چلے جارہے ہیں ہم نے ان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اندھیر نگری صرف ہمارے یہاں نہیں ہے بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک کی دیانت داری کے حواے سے صورتحال کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے لیکن ہمارے خلاف پروپیگنڈا بھی بہت کیا جاتا ہے ہمیں ذہنی طور پر یہ یقین دلادیا گیا ہے کہ ہم سب سے برے ہیں ہمارے لوگ دیانت دار نہیں ہیں! یہ رویہ درست نہیں ہے ہمارے یہاں بھی بہت سی اچھی باتیں پائی جاتی ہیں لیکن ان پر بات نہیں کی جاتی اگر ہم کبھی اس پر تحقیق کریں کہ ہمارے معاشرے میں کیا اچھا ہورہا ہے تو یقین کیجئے بہت سی اچھی باتیں ہماری پہچان ہیں بہت سی اچھی اقدار ابھی تک موجود ہیں مسائل تو یقینا ہیں اور بہت زیادہ ہیں لیکن روشنی کی کرن بھی کسی نہ کسی جگہ یقینا موجود ہے! ایک مہربان کہنے لگے چلیں سامنے کے مسائل پر بات کرتے ہیں جیسے لوڈشیڈنگ کا مسئلہ آخر یہ کب حل ہوگا؟ ٹراسفارمرز پرانے ہیں ہر مہینے اربوںروپے بجلی کے بلوں کے زریعے وصول کئے جاتے ہیںکسی علاقے کا ٹراسفارمر خراب ہو جائے تو واپڈا والے کئی کئی دن تک اس کی مرمّت نہیں کر پاتے اور اگر دو تین دنوں میں مرمّت ہو بھی جائے تو وہ ٹراسفارمر پھر ایک دھماکے سے کام چھوڑ دیتا ہے اور اہل علاقہ مزید تین دنوں کیلئے مبتلائے عذاب ہو جاتے ہیں۔ کوئی ان سے یہ نہیں پوچھتا کہ یہ ساری آمدنی جاتی کہاں ہے؟ اگر لوگ فریاد کرنے متعلقہ محکمے جاتے ہیں تو واپڈا کے سپرنٹنڈنٹ یہ مشورہ دیتے ہیںکہ یہ ٹراسفارمر اپنی میعاد پوری کر چکا ہے۔ بہتر ہوگا کہ آپ سینئر وزیر کے پاس جائیں اور اپنے لئے نیا ٹراسفارمر منظور کروائیں! اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ علاقے کے لوگ چندہ کرکے اپنے لئے نیا ٹرانسفارمر لگوا لیں۔ چلیں لوڈشیڈنگ پر آپ کا اختیار نہیں ہے لیکن خراب ٹراسفارمر کی مرمّت یا بروقت تبدیلی تو آپ کے اختیار میں ہے۔ ایک مہربان کا خیال تھا کہ ہمارا بنیادی مسئلہ امن وامان کی ناگفتہ بہ صورتحال ہے۔ کسی کی جان ومال محفوظ نہیں۔ لوگ تھوک کے حساب سے مر رہے ہیں۔ اغوا برائے تاوان کی وارداتیں عروج پر ہیں۔ پولیس سے کہیں تو وہ آپ کو یہ مشورہ دیتی ہے کہ چپکے سے اغواکاروں کیساتھ معاملات طے کر لو اسی میں آپ کی بھلائی ہے اب ان سے کوئی نہیں پوچھ سکتا کہ آخر آپ کس مرض کی دوا ہیں؟ سیاست کا کھیل صرف کرسی کے حصول تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، اقتدار کیلئے سب کچھ جائز سمجھا جاتا ہے۔ ہر عہد وپیماں توڑا جاتا ہے۔ سب اپنے پارٹی منشور فراموش کر چکے ہیں۔ ایسے ایسے اتحاد دیکھنے میں آرہے ہیں کہ عقل دنگ زبان گنگ اور دل پریشان ہیں۔ میں آپ کو مشہور زمانہ یا بدنام زمانہ کتاب پرنس کا حوالہ دینا چاہوں گا۔ میکیاویلی کی اس کتاب میں بیان کردہ اصول پڑھنے کے بعد جب وطن عزیز کے سیاستدانوں کی طرف نظر اُٹھتی ہے تو دونوں میں بڑی حد تک مماثلت نظر آتی ہے۔ میکیا ویلی کے نزدیک برائی یا اچھائی دونوں سیاسی کامیابی اور حکمرانی کیلئے بے معنی حیثیت رکھتی ہیں، اصل چیز اقتدار ہے، جسے ہر طرح سے قائم رکھنے کا حکمران کو حق حاصل ہے! اب آپ خود انصاف کیجئے پاکستان کے قرضے روزبروز بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں، ہماری معیشت کا جنازہ نکل چکا ہے، کرنسی کی قدر ہر آنے والے دن کیساتھ کم سے کم تر ہوتی چلی جارہی ہے، پہلے سالانہ بجٹ کے موقع پر قیمتوں میں اضافہ کیا جاتا تھا اب ہر روز اشیاء کے نرخ بڑھ رہے ہیں، توانائی کا بحران بڑھتا چلا جا رہا ہے، مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آچکا ہے جس کا اعتراف حکمران بھی کرچکے ہیں! یہ وہ مسائل ہیں جن کا حل پہلی فرصت میں نکالنا ضروری ہے حکومت کی طرف سے اعلانات تو بہت کئے جاتے ہیں لیکن بات بنتے نظر نہیں آتی۔ حزب اختلاف کی بھی اپنی ترجیحات ہیں وہ اپنے انداز سے سیاست سیاست کھیل رہے ہیں جس طرح ہمیں قرضوں کے بوجھ تلے جکڑ دیا گیا ہے وہ ہمارے ارباب اقتدار کیلئے لمحۂ فکریہ ہونا چاہئے! ہمارے مسائل کو سمجھنا اسی وقت ممکن ہے جب اندرونی مشکلات کیساتھ ساتھ انہیں بین الاقوامی تناظر میں بھی دیکھا جائے! ہمارا خیال ہے کہ ہمیں سب سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے رشوت ہمارے لئے بڑی معمولی بات ہے ٹیکس کی ادائیگی ہم نہیں کرتے، بجلی چوروں سے ہمارا معاشرہ بھرا ہوا ہے، اشیائے خوردنی میں ملاوٹ عام ہے، ہم سب بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے پر تلے ہوئے ہیں۔ بقول شہاب صفدر ہم یہی کہہ سکتے ہیں:
بے کیف ہیں شامیں اور بے رنگ سویرے ہیں
ایام کی گردش ہے تقدیر کے پھیرے ہیں