رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے

آج فروری کے مہینے کی 14تاریخ ہے اور دنیا بھر میں دل والے اپنے ہوش وحواس کو خاطر میں نہ لاکر ویلن ٹائن ڈے مناتے ہوئے ثابت کر رہے ہیں کہ
بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
آج کے دن دماغ کے اس خلل کا شکار لوگ مغربی تہذیب کی تقلید میں سرعام جو گل کھلا رہے ہیں اسے وہ بزعم خود ”محبت” کا نام دیتے ہیں حالانکہ ہم مشرق والے محبت کو اس مقدس جذبہ کا نام دیتے ہیں جو اس کائنات رنگ وبو کا مقصد عین قرار پایا، جنت میں رہتے تھے بابا آدم، اللہ تعالی کی ساری نعمتیں تھیں ان کے پاس، دودھ کی نہریں بہتی تھیں وہاں، پھل فروٹ میوے اور بے شمار نعمتیں تھیں لیکن ہیچ تھا یہ سب ان کی ذات گرامی کیلئے کہ معبود تو تھا ان کا لیکن محبوب نہیں تھا اس بھری پری جنت میں جس کیساتھ آپ محبت بانٹ سکتے، جس کے ناز نخرے اُٹھا سکتے، جس کیلئے تارے توڑ کر لانے کا وعدہ کرسکتے۔ جنت کے سارے نظارے پھیکے پھیکے سے لگتے تھے ان کو اپنے کسی محب یا محبوب کے بغیر۔ کیا کرتے وہ ایسی جنت کو جہاں ان کا نہ کوئی سنگی تھا نہ بیلی نہ سجن تھا نہ پیارا، نہ دوست تھا نہ ہمدم دیرینہ یا دم ساز، کس کیساتھ بانٹتے وہ اپنی خوشیاں، کس کی سنتے اور کس کو سناتے دل کی بات جب خالق کن فیکون نے حضرت آدم کے وجود کو ادھورا پایا تو اس کی قدرت نے جوش مارا اور ان کی باہنی پسلی سے پیدا کردی ان کے دکھ سکھ کی ساتھی، ان کی محبوبہ ان کی شریک حیات، کتنے خوش ہوئے ہوں گے ہمارے باباجی اپنی جیون ساتھی کو جنت کے پرکیف نظاروں میں اپنے قریب پاکر۔ خوب گھومتے پھرتے ہوں گے جنت کے سدا بہار باغوں میں وہ دونوں، جی بھر کے پیتے ہوں گے، شراب طہور، جی بھر کے نوش جان کرتے ہوں گے دودھ کی نہروں میں بہتا شیر وخرما۔ جنت کے جس میوے کو چکھنے کا ارادہ کرتی ہوں گی حوا بی بی تو دوڑ کر لے آتے ہوں گے ان کے سرتاج وہ میوہ پھل یا فروٹ، محبت کرتے تھے نا آپ ان سے، مان لیا ہوگا انہوں نے اس وقت یہ آفاقی سچ کہ
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
بابا آدم اور اماں حوا کی اس پریم کہانی میں ولن کا کردار ان کے ازلی دشمن شیطان مردود نے ادا کیا۔ اس نے بی بی جی کو ورغلایا اور اس پریم کہانی کے دو محبت کرنے والے کردار شجر ممنوعہ کا پھل کھانے پر مجبور ہوگئے، جس کی سرزنش بھگتتے ہوئے یہ دونوں میاں بیوی جنت سے نکال دئیے گئے اور یوں ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا، مگر دو محبت کرنے والے دل اس سرزنش سے نالاں نہ ہوئے اور
دوزخ ہمیں قبول ہے ہمراہ یار کے
جنت میں جاکے ہجر کے صدمے اُٹھائے کون
کے مصداق دو محبت کرنے والوں نے ایک ساتھ رہنے کی شرط پر یہ سزا قبول کرلی، امی ابو نے محبت کی تو بچے کیوں پیچھے رہتے سو ایک ہم عصر خاتون کی محبت کا دم بھرنے والوں کی مڈبھیڑ ہوئی اور یوں ہابیل وقابیل کی لو سٹوری رہتی دنیا تک نشان عبرت بن کر باقی رہ گئی۔
زمیں جل گئی آسماں جل گیا ہے
محبت میں سارا جہاں جل گیا ہے
کروڑہا پریم کہانیاں جنم لیکر المیہ یا طربیہ انجام کو پہنچتی رہیں۔ لیکن محبت زندہ تھی، زندہ رہی اور زندگی میں ڈھل گئی، محبت کی نہیں جاتی محبت ہو جاتی ہے۔ محبت کے جذبے کو بیان نہیں کیا جاسکتا محسوس کیا جاتا ہے۔ جس طرح کسی اچھے شعر کی آمد ہوتی ہے اس طرح محبت دل کے نہاں خانے میں اُتر کر محبت کرنے والے کے رخساروں پر شرم وحیاء کی لالی بن جاتی ہے یا اس کی آنکھوں میں چمک بن کر اُتر آتی ہے اور دو محبت کرنے والے بے اختیار ہوکر کہہ اُٹھتے ہیں کہ
سب کچھ خدا سے مانگ لیا، تجھ کو مانگ کر
اُٹھتے نہیں ہیں ہاتھ میرے اس دعا کے بعد
مگر اس کا کیا کیا جائے کہ دعاؤں میں ڈھل جانے والی یہی محبت مغربی تہذیب کے پروردہ لوگوں کے نرغے میں آتی ہے، عریانی فحاشی اور بدتہذیبی کا روپ اختیار کرلیتی ہے جس کا مظاہرہ ہر سال فروری کے مہینے کی 14تاریخ کو ویلن ٹائن ڈے کے دوران دیکھنے کو ملتا ہے۔ سچ پوچھئے تو ہم اسے محبت نہیں، محبت کی توہین کہتے ہیں، ویلن ٹائن ڈے کے بہانے شرم وحیا کو طاق پر رکھ دینا، عصمت لوٹنا یا کسی کے سامنے اپنی عصمت کو تارتار کر دینے کیلئے رکھ دینا محبت نہیں، ویلن ٹائن نے ایسا ہی کیا تھا ایک راہبہ کیساتھ جس کی پاداش میں اسے پھائے لگا دیا گیا، بڑا فرق ہے منصور حلاج کی طرح جذبہ ہمہ اوست سے سرشار ہوکر انا الحق کا نعرہ لگا کر تختہ دار پر چڑھ جانا، سچی محبت کرنے والے شوق شہادت سے سرشار ہوتے ہیں۔ زہر پیالہ پی کر امر ہوجاتے ہیں مگر ویلن ٹائن پر تو عصمت دری کا الزام تھا جو محبت کے پاکیزہ جذبہ کا قتل ہے، وہ میری محبوبہ تھی، اب نہیں رہی، ہم نے بھولے باچھا کی زبان سے یہ بات سنی تو اس کا جواز پوچھا جس کے جواب میں وہ ٹھنڈی آہ بھر کر بولا کہ ‘وہ اب میری بیوی بن چکی ہے’ گویا میاں بیوی کے رشتہ نام ہے محبت کو زنجیریں پہنانے کا اور آپ کو معلوم ہے کہ ازدواج کی بندھن میں جکڑے جانے والے بھی محبت کا گلا نہیں گھونٹتے اور محبت کے جذبہ سے سرشار ہوکر کہتے رہتے ہیں
تو کہ ناواقف آداب غلامی ہے مگر
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے