مشترکہ دکھ

وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ عین ممکن ہے کہ اگر ہم نے صحیح اقدامات نہیں اُٹھائے تو ہم بھی ناکام ہو جائیں گے ،آئندہ ایک دو ماہ میں اشیاکی قیمتوں میں کمی آئے گی اورقیمتیں مستحکم ہوں گی۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہاکہ معیشت کے استحکام کیلئے داخلی سلامتی ضروری ہے، پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ 72 سال میں اس ملک کا ایک بھی وزیراعظم اپنی مدت مکمل نہیں کرسکا۔وزیرخزانہ نے اپنے جن صحیح اقدامات کا عندیہ دیا ہے ان کے اقدامات سے اشیاء کی قیمتوں میں کس حد تک کمی آئے گی ان کو کامیابی ہوگی یا ناکامی ان امور کو جانچنے اور ان کے دعوئوں کی حقیقت کھلنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا، ایک غیرسیاسی اور غیر منتخب شخصیت ہونے کے باوجود انہوں نے کسی وزیراعظم کے اپنی مدت پوری نہ کرنے کے جس مسئلے کی بات کی ہے یہ ناچ نجانے آنگن ٹیڑھا کے زمرے میں شمار ہوتی ہے یا پھر حقیقت حال کا واضح اظہار اور بنیادی مسئلے کی نشاندہی ہے یا پھر یہ کوئی پیغام ہے، ان تمام سوالات سے قطع نظر ہم سمجھتے ہیں کہ ملکی حالات کے سدھار کیلئے سیاسی استحکام کی ضرورت اب پہلے سے زیادہ ہے، سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام کا حصول کسی طور ممکن نہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک کے عوام مہنگائی کے ہاتھوں جاں بہ لب ہیں ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کو مسئلے کے حل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ سیاستدانوں کو سوچنا چاہئے کہ ملک میں سیاسی استحکام کیسے ممکن ہے، ہمارے تئیں اگر ساری سیاسی جماعتیں شفاف انتخابات کے نتیجے میں ہی حصول اقتدار پر اتفاق رائے کرلیں تو اس دن سے ملک میں سیاسی استحکام کی پہلی اینٹ رکھ دی جائے گی۔ جو سیاسی جماعتیں حکومت کے تجربات سے گزر چکی ہیں ان میں بھی بالغ نظری کا فقدان اور پس جانے کے بعد بھی ان کے حنا کا رنگ نہ لانا المیہ ہے جو اس مرحلے سے گزر رہی ہیں ان کو صورتحال سے عدم آگہی اور انجانے میں اوکھلی میں سر دینے کی رعایت دی جا سکتی ہے جب تک سیاسی جماعتیں صرف سیاست اور صاف وشفاف سیاست عوام کی حقیقی نمائندگی اور حصول اقتدار کیلئے مصلحتوں سے پرہیز اختیار نہیں کرتے سیاسی استحکام کی منزل نہیں آئے گی اور نہ ہی معاشی استحکام آئے گا۔
بی آرٹی کے آغاز کا مژدہ
وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی نے لاہور میں اخبار نوسیوں سے بات چیت میں اس امر کا عندیہ دیا ہے کہ اپریل تک بی آرٹی سروس شروع ہوجائے گی۔ قبل ازیں بھی انہوں نے اس امر کا عندیہ دیا تھا۔تحریک انصاف کے حلقوں کو توقع ہے کہ23مارچ کو بی آرٹی کا افتتاح ممکن ہوگا۔بی آرٹی کی لاگت کے حوالے سے بھی بحث اور پنجاب کے منصوبوں سے اس کا تقابل چلا آرہا ہے سپریم کورٹ نے تحقیقات کی تو اجازت ابھی نہیں دی لیکن عدالت عظمیٰ نے استفسار کا دروازہ بند نہیں کیا۔منصوبے پر کتنی لاگت آئی اور مدت تکمیل میں تاخیر درتاخیر کی وجوہات کیا تھیں ان سوالات کا جواب ملنے کے بعد تحقیقات کا باب کھل جائے گا۔ ان سارے معاملات کی جہاں حکومت کو تیاری کرنی ہے ان سے قطع نظر سب سے زیادہ ضروری امر یہ ہے کہ صوبائی دارالحکومت کا یہ سب سے بڑا منصوبہ کب اس قابل ہوتا ہے کہ کوریڈورپربس چلنا شروع ہوجائیں اور عوام کا عرصہ دراز کا انتظار ختم ہو۔ کوریڈور پر بسیں چلنا شروع ہو جائیں تو عوامی نقطہ نظر سے اس کی تکمیل ہوگئی ،حکومت پر بھی دبائو میں کمی آئے گی، باقی کام آہستگی سے بھی ہوں اور منصوبے کی مکمل تکمیل میں تاخیر کا سامنا بھی ہوتو مضائقہ نہیں۔بی آرٹی کو ریڈور کے مراحل تقریباً تکمیل کی منزل پر ہیں لیکن عملے کی تقرری اور ٹیسٹ سروس کا مکمل آغاز نہ ہونے سے اس حوالے سے خدشات اور نا خوشگوار تجربات کا شکار شہریوں کا مشوش ہونا فطری امر ہے۔ اپریل میںسروس شروع ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ ضروری عملے کی بھرتی کا عمل شروع کیا جائے اور ٹیسٹ سروس کا آغاز اس طرح سے کیا جائے جو معمول کی ٹریفک کے دنوں میں ہوتا ہے۔ زیادہ مناسب ہوگا کہ اس حوالے سے ایک تفصیلی بریفنگ کا اہتمام کیا جائے اور تفصیلات ومنصوبہ بندی سے آگاہی کے ذریعے عملی طور پر عوام کو یقین دلایا جائے کہ اپریل تک بی آر ٹی کے کوریڈورپر بسیں چلتی نظر آئیں گی۔
وزیراعلیٰ کیلئے قابل توجہ معاملہ
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کے مادر علمی پشاور پبلک سکول کے تدریسی وانتظامی سٹاف کو اڑھائی سال سے پنشن کی عدم ادائیگی اور حکومت کی طرف سے سکول کو گرانٹ کی عدم فراہمی قابل توجہ امر ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سکول جو فیس وصول کرتی ہے وہ آمدنی کہاں جاتی ہے، اس فنڈ سے پنشنروں کو پنشن اور ان کے بقایا جات کی ادائیگی کیوں نہیں کی جاتی،سکول کا خسارے میں ہونا تو ممکن نظر نہیں آتا، پشاور پبلک سکول ایک معیاری تعلیمی ادارہ ہے، اگر اسے بھی روایتی ہتھکنڈوں کے باعث بندش کا شکار بنایا گیا تو یہ تعلیم کے شعبے میں ایک اور بڑی ناکامی شمار ہوگی۔ اساتذہ کو پنشن کی وصولی کے مشکلات کا شکار بنادیا جائے تو باصلاحیت اساتذہ سکول چھوڑنے کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہوں گے اور باصلاحیت افراد سکول کا رخ نہیں کریں گے۔ بہتر ہوگا کہ سکول کے پنشنروں کے بقایاجات ادا کئے جائیں، ساتھ ہی اس امر کی تحقیقات ہونی چاہئے کہ آخر نوبت یہاں تک آگئی کیوں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اپنے مادرعلمی کو تباہی کے دھانے سے واپس لانے کیلئے فوری اقدامات کریں گے۔وزیرتعلیم کو جہاں اسکول کے معاملات کی درستگی پر ذاتی توجہ دینی چاہئے وہاں ایسے اقدامات بھی کرنا ضروری ہیں کہ اسکول کے اساتذہ اور پنشنروں کو عدم ادائیگی کا مسئلہ نہ رہے۔