مہنگائی پر بھی سیاست۔۔؟

اس وقت ملک میں مہنگائی کی جو صورتحال ہے اور عوام وحکومت دونوں کو اس مسئلے سے جس پریشانی کا سامنا ہے خاص طور پر عوام جن مشکلات ومصائب کا شکار ہیں وہ کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ مہنگائی نے شرفاء سے سفید پوشی تک چھین لی ہے اور اب ایسے مظاہر سامنے آرہے ہیں کہ مہنگائی کی وجہ سے عزتیں بھی محفوظ نہیں۔ مہنگائی کی وجوہات کیا ہیں؟ ذخیرہ اندوز کون ہیں؟ حکومت مہنگائی پر قابو پانے کیلئے کیا اقدامات کر رہی ہے؟ حکومتی اقدامات مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں منصوبہ بندی میں کیا کمزوریاں وخامیاں ہیں؟ ان تمام سوالات کو ایک طرف رکھ کر اگر ارکان پارلیمان یعنی حزب اختلاف اور حکومتی بنچوں کے وزراء وقائدین سیاسی جماعتیں سبھی کا کردار اور طرز عمل دیکھیں تو افسوسناک صورتحال نظر آتی ہے جس کی وجہ اگرچہ یہ ہونا ممکن نہیں اور ضروری نہیں کہ یہی وجہ ہو لیکن بہرحال ایسا ہونا نا ممکن بھی نہیں کہ جملہ ارکان پارلیمان کم ازکم مہنگائی سے متاثرہ افراد نہیں۔ عین ممکن ہے کہ مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کی ایک تعداد پارلیمان میں موجود ہو، بہرحال ارکان پارلیمان کا ننانوے فیصد مہنگائی سے متاثرہ طبقہ نہیں، ان کے دلوں کا حال تو مالک کائنات ہی جانتا ہے لیکن ان کا طرزعمل، ان کے شاہانہ ٹھاٹ باٹ اور کروفراس امر کا غماز ہے کہ ان کو مہنگائی سے کوئی پریشانی نہیں اور نہ ہی ان کو اس سے کوئی سروکار ہے۔ مہنگائی کی دہائی دینے والے بھی سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہی کر رہے ہیں، اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر جب ایوان میں مہنگائی پر بحث شروع ہے تو پھر ایوان میں صرف اس پر بحث اس کی وجوہات جاننے اور اس کے تدارک کیلئے مشترکہ تجاویز دینے اور منصوبہ بندی کیساتھ اس پر قابو پانے میں اراکین حکومت اور ممبران حزب اختلاف اس فریضے کو نبھانے اور موضوع پر سنجیدگی سے بحث کرنے کی بجائے ادھر ادھر کیوں ہانک رہے ہیں، اصل موضوع اور ایجنڈے پر توجہ کیوں مرکوز نہیں کی جاتی، ایک دوسرے کا کچا چھٹا کھولنے کا شوق کسی اور سیشن میں پورا کرنے کیلئے کیوں اُٹھا نہیں رکھتے ۔جملہ ارکان پارلیمان میں کم ہی ایسے سنجیدہ متین اور موضوع بحث کو سنجیدگی سے لینے والے ممبران نظر آتے ہیں وگرنہ حکومتی صفوں سے لیکر حزب اختلاف کی صفوں تک ہر جگہ سیاست اور غلیظ سیاست چھائی ہوئی ہے۔ بات عوام کی ہوتی ہے لیکن نشانہ کہیں اور باندھا جاتا ہے جواب کسی اور طرز کا ملتا ہے اور راگ کو کوئی اور چھیڑی جاتی ہے۔ ارکان پارلیمان کو اگر عوام کی تکالیف اور مہنگائی کا احساس ہوتا تو یہ صورتحال نہ ہوتی ۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں بحث مہنگائی پر ہورہی ہے اور بحث ابھی ختم نہیں ہوئی جب ختم ہو بھی جائے تو بھی اُمید نہیں کہ پارلیمان سے حکومت کو رہنمائی تجاویز،منصوبہ بندی ملے گی اور عوام کو دلاسہ ملے گا کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے، اس میں کمی لانے اور آئندہ ذخیرہ اندوزی سے نجات کی اُمیدیں بھی کر سکیں۔ کیا یہ پارلیمان کی بے توقیری نہیں اور عوامی نمائندگی کا خون نہیں۔ کیا نظام کی ناکامی کی ذمہ داری سے خود ارکان پارلیمان مبرا ہیں ہر گز نہیں، ملک میں ایک ایسا نظام اور ایسی حکومت ہے جو اسی کا تسلسل ہے جو چلا آرہا ہے اور جب تک یہ تسلسل جاری ہے تو تبدیلی اور عوامی فلاح کی توقع ہی عبث ہے۔ ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے، آئی ایم کی شرائط سخت سے سخت ہوتی جارہی ہیں، عوام کی بدحالی بڑھتی جارہی ہے۔ اگر ہمارے منتخب نمائندوں کا طرزعمل یہی رہا تو خدا نخواستہ ملک دیوالیہ ہونے کا خطرہ ہے۔کم ازکم مہنگائی کے معاملے میں حکومت اور حزب اختلاف کی بنچوں سے تعلق کو بالائے طاق رکھ کر مہنگائی کے تدارک اور اس کا حل سو چا جائے۔ ملک کو معاشی گرداب سے نکالنے کی تدبیریں کی جائیں، ملک رہے گا عوام رہیں گے تو تخت بھی رہے گا اور تاج بھی۔ عوام ہوں گے تو ان پر حکمرانی ہوسکے گی ملک کا نام صرف قطعہ اراضی نہیں اس پر بسنے والے عوام بھی مملکت کا لازمی حصہ ہیں، عوام کو مہنگائی سے نکالنے کی سنجیدہ سعی کریں اور پھر سیاست سیاست کھلیں ۔