افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی پر اتفاق

واشنگٹن: امریکی میڈیا نے کہا ہے کہ پرتشدد کارروائیوں میں کمی کے لیے امریکا طالبان معاہدہ طے ہو گیا ہے، معاہدے کے تحت طالبان ایک ہفتے تک پرتشدد کارروائیوں میں کمی لائیں گے۔امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے 7 روزہ جنگ بندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ افغان مسئلے کا حل سیاسی ہے، معاملے پر پیش رفت ہوئی ہے۔اس معاہدے کے بعد پرتشدد کارروائیوں میں کمی پر مذاکرات اگلے مرحلے میں داخل ہوں گے، معاہدے کے ذریعے امریکی فوج کی خاصی تعداد میں واپسی کی راہ ہم وار ہوگی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ معاہدہ جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ طالبان نے جو یقین دہانی کرائی ہے اس کی پاس داری کی جائے۔امریکا جنگ بندی پیش کش کا جواب دے ورنہ مذاکرات سے نکل جائیں گے میونخ میں افغان صدر اشرف غنی اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو ملاقات میں افغان امن مذاکرات اور افغانستان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا، نیٹو سیکریٹری جنرل اسٹولٹن برگ کا کہنا تھا کہ طالبان کو تشدد میں کمی اور مذاکرات کے لیے نیت ظاہر کرنے کی ضرورت ہے، دیرپا افغان امن کے لییانٹرا افغان مذاکرات ہونے چاہئیں۔ خیال رہے کہ افغان طالبان اور امریکا میں گزشتہ ایک سال سے جاری مذاکرات کا مقصد افغانستان میں 18 سال سے جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔یاد رہے کہ تین دن قبل دوحہ میں افغان طالبان نے امریکا کو دھمکی دی تھی کہ جنگ بندی کی پیش کش کا جواب دیا جائے ورنہ مذاکرات سے نکل جائیں گے، طالبان نے امریکا کو 7 روز کے لیے جنگ بندی کی پیش کش کی تھی۔ طالبان کا کہنا تھا کہ عارضی جنگ بندی کا جلد جواب نہ دیا گیا توامن مذاکرات سے نکل جائیں گے، مذاکرات ختم کرنے کا انتباہ طالبان کے چیف مذاکرات کار عبدالغنی برادر نے دیا تھا۔افغان طالبان کی جانب سے افغانستان میں 7 روز کے لیے پرتشدد کارروائیاں بند کرنے کی پیش کش کا مقصد فریقین کے درمیان مذاکرات کے تحت حتمی معاہدے کی طرف بڑھنا ہے۔ اس سے چند روز قبل عبدالغنی برادر نے افغان امن عمل کے لیے امریکا کے نمایندہ خصوصی زلمے خلیل زاد سے ملاقات کی تھی، طالبان قطر دفتر کا کہنا تھا کہ اس ملاقات میں امریکا اور طالبان کے مابین مذاکرات اور مستقبل کے اقدامات پر بات ہوئی تھی۔