ترک صدر کی پاکستان سے محبت

معروف ادارے گیلپ انٹرنیشنل نے عالمی پسندیدہ رہنماؤں کے بارے میں معلوم کرنے کیلئے دنیا بھر میں5ہزار261 افراد سے رائے لی۔ ہر ملک میں ایک ہزار مردوں اور خواتین کا انٹرویو کیا گیا۔ گیلپ سروے کے مطابق مسلم ممالک میں ترک صدر کی مقبولیت30فیصد ہونے کے سبب وہ سرفہرست ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردوان دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان میں ہیں، ترک صدر کو ایوان وزیراعظم میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا جبکہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ترک ہم منصب کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام بھی کیا، ترک صدر وہ عظیم رہنما ہیں جنہیں اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے کسی بھی دوسرے غیرملکی لیڈر سے زیادہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب ہے، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے چوتھی دفعہ خطاب کرتے ہوئے ترک صدر طیب اردوان نے کہا کہ جس طرح سے پاکستان میں پُرجوش استقبال ہوا اور مہمان نوازی ہوئی اس پر پوری پاکستانی قوم کا شکر گزار ہوں۔ رجب طیب اردوان نے کہا کہ پاکستان آکر کبھی خود کو اجنبی محسوس نہیں کرتا، پاکستان میرے لئے دوسرے گھر کا درجہ رکھتا ہے، آج ترکی اور پاکستان کے تعلقات قابل رشک ہیں۔ کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترک صدر نے ایک بار پھر واضح کیا کہ کشمیر ترکی کیلئے وہی ہے جو پاکستان کیلئے ہے، پاکستان کا درد ترکی کا درد ہے اور پاکستان کی خوشی ترکی کی خوشی ہے۔ ترک صدر نے کہا کہ مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان کی جانب سے ساتھ دینے پر ان کے شکر گزار ہیں اور ماضی کی طرح مستقبل میں بھی دونوں ممالک کا تعاون اور ساتھ جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ انسداد دہشتگردی کے معاملات میں ہم پاکستان کیساتھ تعاون کو آئندہ بھی جاری رکھیں گے اور ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو ترکی کی بھرپور حمایت کا یقین دلاتے ہیں۔ رجب طیب اردوان نے کہا کہ پاکستانی حکومت کے مثبت اقدامات سے سرمایہ کاری اور تجارت کا ماحول سازگار ہو رہا ہے لیکن اقتصادی ترقی چند دنوں میں حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کیلئے مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کی دوستی مفاد پر نہیں بلکہ عشق ومحبت پر مبنی ہے، پاکستانی قوم نے جس طرح اپنا پیٹ کاٹ کر ہماری مدد کی تھی اسے کبھی فراموش نہیں کر سکتے، اللہ سے دعا ہے کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان محبت ہمیشہ قائم رہے۔
ترک صدر کے حالیہ دورۂ پاکستان کے موقع پر پاکستان اور ترکی نے معاشی روابط کی شرح کو بڑھانے اور تجارت وسرمایہ کاری میں اضافے کیلئے غیراستعمال شدہ صلاحیت کو متحرک کرنے کیلئے مفاہمت کی دو یادداشتوں (ایم او یوز) کو حتمی شکل دی جس کے مطابق فریقین نے موجودہ دوطرفہ تجارت کا جائزہ لیا اور معاشی روابط کی سطح بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ وہ اپنے تاجروں کی جانب سے صنعتی شعبوں میں مشترکہ منصوبے قائم کرنے اور ای کامرس کے شعبے میں تعاون کیلئے حوصلہ افزائی کریں گے۔ علاوہ ازیں وزارت تجارت اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان (ٹی ڈیپ) نے پاکستان، ترکی بزنس ٹو بزنس (بی ٹو بی) نیٹ ورکنگ سیشن کا انعقاد بھی کیا۔ ترکش کمپنیوں اور ان کے پاکستانی کاروباری ہم منصبوں کے درمیان تقریباً450نتیجہ خیز بی ٹو بی اجلاس منعقد ہوئے۔ یاد رہے کہ دونوں ممالک نے قریبی تجارتی تعلقات کے بارے میں2004 میں بات چیت کا آغاز کیا تھا لیکن متعدد رابطوں کے باوجود آزادانہ تجارتی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام رہے تھے اور کچھ شعبوں کے افتتاحی اختلافات کے باعث گزشتہ برس باضابطہ طور پر بات چیت کا اختتام ہوا تھا۔خیال رہے کہ ترکی شپنگ (ترسیل)، روڈ انفراسٹرکچر نیٹ ورک اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز میں مہارت رکھتا ہے جو پاک چین اقتصادی راہداری اور دیگر ٹرانزٹ روٹس کیلئے مدد دے گا۔ دونوں ممالک میں دفاعی صنعت، فوڈ پراسیسنگ اور پیکنگ، آٹوموٹو انڈسٹری اور آٹوپارٹس، گھریلو آلات، تعمیراتی سامان، ٹیکسٹائل، چمڑے کی مشینری اور تیار مصنوعات، کھیلوں کا سامان اور جریحی آلات میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
پاکستان کی جانب سے کوالالمپور سمٹ میں عدم شرکت کے حوالے سے ترک صدر طیب اردوان کی جانب سے نپے تلے بیان اور پاکستان کی مجبوریوں کے ذکر کے بعد بعض حلقوں کی طرف سے یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ پاکستان نے مسلم ممالک کے انتہائی اہم اجتماع کوالالمپور کانفرنس میں شرکت نہ کرکے ایک بہت بڑی اسٹرٹیجک (تزویراتی) غلطی کا ارتکاب کیا ہے اور عالمی قیادت پاکستان سے ناراض ہے اور اس ناراضی سے پاکستان نہ صرف ان اسلامی ممالک کی حمایت سے محروم ہو گیا ہے جو کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کا بھرپور ساتھ دے رہے تھے بلکہ ایک ایسے فورم یا بلاک کا حصہ بننے کا موقع بھی گنوا رہا ہے جو امریکہ اور اس کے دیگر سامراجی اتحادیوں کی معاشی اجارہ داری اور سیاسی جکڑ بندیوں سے دنیائے اسلام کو نکالنے کیلئے تشکیل دیا جارہا ہے۔ ترک صدرطیب اردوان نے مگر وزیراعظم عمران خان کی دعوت پر پاکستان آکر اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرکے اس تاثر کو ختم کر دیا ہے، مسئلہ کشمیر پر ترک صدر کا دوٹوک مؤقف اس بات کی علامت ہے کہ وہ ہر صورت پاکستان کا ساتھ دیں گے، جس طرح ترک صدر طیب اردوان نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کا ساتھ دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے، ہماری بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ کوالالمپور سمٹ کے حوالے سے ترک صدر کو پہنچنے والی گزند کا ازالہ کرنے کیساتھ پاک ترک تعلقات کو اس سطح پر لے جائیں جو دونوں ممالک کی تعمیر وترقی اور مفید ثابت ہونے کیساتھ ساتھ عالم اسلام کی مشکلات میں کمی کا باعث بنیں۔