سنگھاڑا کے حیرت انگیز فوائد

سنگھاڑا شکل و ذائقے کے لحاظ سے اتنا اچھا نہیں ہوتااور یہی وجہ ہے کہ ہم اس چیز کو نظر انداز کردیتے ہیں جو سردیوں میں گلی کوچوں میں ریڑھیوں پر بک رہی ہوتی ہے۔
مگر ابھی بھی بہت سے لوگ اس کے خستہ ساخت اور میٹھے ناریل جیسے ذائقے کو پسند کرتے ہیں۔جنوبی ایشیاء میں عام اس میوے یا پھل کو سنگھاڑا کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ پانی پھل سمیت اس کے متعدد نام ہیں۔بہت کم افراد اس کے بارے میں جانتے اور کھاتے ہیں حالانکہ یہ متعدد طبی فوائد کا حامل ہے۔
اس پھل کو خام یا ابال کر کھایا جاتا ہے۔ اس کے خشک پھل کو چکی میں ڈال کر آٹا بھی بنایا جاتا ہے جسے سنگھاڑے
کا آٹا کہا جاتا ہے ۔

غذائیت بخش اجزاء سے بھرپور

تازہ سنگھاڑے کاربوہائیڈریٹس، پروٹین، آئرن، آیوڈین سے بھرپور ہوتے ہیں جبکہ اس میں میگنیشم، کیلشیئم، پوٹاشیم، زنک، کاپر اور ملٹی وٹامنز کی دوگنی مقدار ہوتی ہے۔

ایک متوازن غذا

یہ صحت مند زندگی کے لیے مثالی غذا ہے۔ بھینس کے دودھ سے موازنہ کیا جائے تو آدھا کپ سنگھاڑوں میں صرف 0.1 گرام چربی یا فیٹ، 14.8 گرام کاربوہائیڈریٹس، 0.9 گرام پروٹینز، 22 فیصد مزید ایسے منرلز اور اجزاءشامل ہوتے ہیں۔ صرف 6 کیلوریز، صفر کولیسٹرول، کم نمک اور روزمرہ کے لیے ضروری 10 فیصد وٹامن بی سکس اور بی سیون اس کا حصہ ہیں جو دماغ اور جسم کی قوت مدافعت کو صحت بنانے میں معاونت کرتے ہیں۔

دیگر امراض کے خلاف فائدے مند

زہریلے اثرات دور کرنے کی خصوصیت کے ساتھ یہ پھل ان افراد کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے جو یرقان کا شکار ہو۔ اسی طرح یہ تھائی رائیڈ کو مناسب طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے، جسم کو ٹھنڈا کرنے، منہ میں لعاب دہن کو بڑھاتا ہے اور پیاس بجھانے کا کام بھی کرتا ہے۔

حاملہ خواتین کے لئے مفید

سنگھاڑے کے آٹے سے بنائے جانے والا دلیہ زیادہ کریم والا ہوتا ہے اور بچے کی پیدائش کے بعد ماں کو جریان خون کو کنٹرول کرنے کے لیے اسے دیا جاتا ہے۔ اس کے خشک بیج خون کے بہاؤ کو روک دیتے ہیں اور خواتین میں اسقاط حمل کے مسائل پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ سنگھاڑے کا دلیہ انتڑیوں کے لیے مفید ہے اور اندرونی حرارت کو دور کرتا ہے۔