طرابلس کی آزادی اور ایردوآن کے اجرتی قاتلوں کو نکالنے تک جنگ بندی نہیں‌ ہوگی

جنرل خلیفہ حفترلیبیا کی نیشنل آرمی کے سربراہ نے واضح کیا ہے کہ طرابلس کو قومی وفاق حکومت اور اس کی وفادار ملیشیائوں کے قبضے سے آزاد کرانے اور وہاں پر ترکی کے موجود حواریوں کو نکال باہر کرنے تک کوئی جنگ بندی نہیں ہوگی۔
مشرقی شہر بن غازی میں ترکی کی مداخلت کےخلاف نکالی گئی ایک ریلی سے ٹیلفیونک خطاب میں جنرل حفتر نے کہا کہ طرابلس کو غیر ملکی بالخصوص ترکی کے اجرتی قاتلوں سے آزاد کرانے تک کسی قسم کی جنگ بندی اور امن قائم نہیں ہوسکتا۔ لیبی فوج طرابلس کو آزاد کرانے اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے بھیجے گئے اجرتی قاتلوں کی بیخ کنی تک اپنی جدو جہد جاری رکھے گی۔جنرل حفتر نے مزید کہا کہ نیشنل آرمی اس وقت طرابلس کےقلب میں پہنچنے کے قریب ہے۔ کچھ ہی وقت میں ہم طرابلس کو آزاد کرالیں گے۔ طرابلس کو لیبیا سے الگ نہیں ہونے دیا جائےگا چاہے پوری دنیا کے اجرتی قاتل اکھٹے کیوں نہ ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ اجرتی قاتلوں کو نکال باہر کرنے اور ملیشیائوں کے خاتمے تک کوئی جنگ بندی نہیں۔ ہم اسلحہ کے زور پر جنگ بندی قائم کریں گے۔
انہوں‌ نے کہا کہ لیبیا کو اجرتی قاتلوں کا قبرستان بنا دیں‌ گے۔ ترکی کے صدر طیب ایردوآن کی طرف سے بھیجے گئے ایک ایک جنگجو اور ان کی مدد کرنے والے مقامی خائنوں کو چن چن کر ہلاک کریں‌ گے۔