مہنگائی وملاوٹ کے خلاف ایمرجنسی کے تقاضے

ملاوٹ کیخلاف وزیراعظم کی جانب سے اقدامات کا حکم اشیائے خوردنی کی قیمتوں کی باقاعدہ مانیٹرنگ، طلب ورسد سیل بنانے کا فیصلہ اور ملاوٹ کی روک تھام کیلئے صوبوں کو حکمت عملی کی ہدایت اپنی جگہ مسئلے سے نمٹنے کیلئے اہم اقدامات ضرورثابت ہوں گے بشرطیکہ اس پر عملدرآمد میں صوبوں کی انتظامیہ سرگرمی دکھائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ طلب ورسد کا توازن بلکہ طلب کے مقابلے میں رسد میں اضافہ اور اشیاء کی وافر مقدار میں مارکیٹ میں موجودگی یقینی بنانا ہی اس امر کی ضمانت بن سکتا ہے کہ ذخیرہ اندوزی کے ذریعے قلت پیدا کر کے اشیاء مہنگی کرنے کی نوبت نہ آئے۔ غذائی اشیاء اور قدرتی اشیاء نے خوراک کے ضمن میں اگر قدرت کی مشیت اور حسن انتظام پر غور کیا جائے تو انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ قدرت کا انتظام دیکھئے کہ کسی بھی غذائی چیز کی زندگی بہت لمبی نہیں ہوتی، کھانا تیاری کے ایک گھنٹے کے بعد تک ہی تازہ رہتا ہے اس کے بعد اس میں تبدیلی اور خرابی، گلنے سڑنے کا عمل شروع ہوجاتا ہے لیکن انسانوں کی ہوس گیری نے اب غذا کو مصنوعی طور پر بنانا اور اس کی ذخیرہ اندوزی شروع کردی ہے جو قدرت وفطرت سے تقابل کے مترادف ہے۔ جس طرح قدرت نے اشیائے صرف کی ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کا بندوبست کیا ہے اور اسلام میں ذخیرہ اندوزی اورملاوٹ کی سختی سے ممانعت ہے اس قانون قدرت سے اثر لیتے ہوئے حکومت کو بھی سخت اقدامات اور تعزیر کی ضرورت ہے تاکہ اشیائے صرف اور خاص طور پر اشیائے خوردنی کی ذخیرہ اندوزی کر کے ناجائز منافع کمانے کی نوبت نہ آئے۔ جہاں تک ملاوٹ اور حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی کا تعلق ہے بد قسمتی سے اب پھل، دودھ، سبزیاں جیسے قدرتی طور پر پکے اور تیار شدہ اشیاء بھی اب پوری طرح ملاوٹ سے پاک نہیں، باقی اشیاء کی ملاوٹ آمیزی نہیں بلکہ سراسر مضر صحت عناصر سے تیاری کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ اسی طرح مشروبات کی تیاری اور ان کا استعمال کس قدر مضر صحت اور قابل تعزیر ہے وہ بھی کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے حالیہ سروے میں نوے فیصد شہریوں نے تعلیمی اداروں میں ان اشیاء کی ممانعت کی رائے دی ہے۔ تازہ جوس اور صحت بخش مشروبات میں گنے کا رس صرف دعوے کی حد تک ہمارا قومی مشروب ہے۔ حکومت اگر مضر صحت مشروبات اور جوسز کی تیاری وفروخت کی قانونی طور پر ممانعت کرے یا کم از کم ان کے مضر صحت ہونے کے حوالے سے کاروبار اور مصلحت سے بالا تر ہو کر عوام کو شعور وآگہی دی جائے تو ملاوٹ شدہ اشیاء اور مضر صحت اشیاء کی روک تھام کی را ہ ہموار ہوگی۔ ان مصنوعات پر پوری طرح پابندی ممکن نہ ہو تو حکومت سکولوں، کالجوں، جامعات اور ہسپتالوں کی حدود میں ان اشیاء کی فروخت کی ممانعت کیلئے قانون سازی کرسکتی ہے۔ جہاں تک ملاوٹ کا تعلق ہے ایسی مصنوعات کی تلاش بہت مشکل کام ہوگا جو ملاوٹ سے پاک قراردیا جا سکے۔خیبرپختونخوا میں ملاوٹ شدہ اشیاء اور حفظان صحت کے اصولوں کے منافی اشیاء کی تیاری وفروخت طعام گاہوں میں صفائی کے انتظامات کو بہتر بنانے کیلئے فوڈ اتھارٹی کی جس احسن کارکردگی سے چیف سیکرٹری نے مستند اعدوشمار کیساتھ وزیراعظم کو آگاہ کیا ہے ان کی وزیراعظم نے بجا طور پر تعریف کی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اتنی جانفشانی اور مستعدی کے باوجود بھی یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ صوبے میں ایک فیصد ہی کام ہوسکا ہے لیکن اس امر کا بہرحال اعتراف کرنا ضروری ہے کہ صوبے میں ممکنہ حد تک ملاوٹ کی روک تھام اور اس کیخلاف کارروائیاں جاری ہیں جن میں تیزی لانے اور پورے صوبے تک اس کا دائرۂ کار پھیلانے کیلئے جن وسائل ،عملے اور ضروری لوازمات واقدامات کی ضرورت ہے ملاوٹ کیخلاف لگے ایمرجنسی کے دوران اس ضمن میں پیشرفت کی بھی ضرورت ہے۔ وزیراعظم کے احکامات پر عملدرآمد میں اگر وسائل کی حاجت پیش آئے تو اس سلسلے میں مرکز سے رجوع کرنے میں تامل کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہئے۔ صوبے میں اس خدمت پر مامور مختلف اداروں کی بجائے اگر اس حوالے سے سارے وسائل کیساتھ اقدامات کو فوڈ اتھارٹی کی ذمہ داری قرار دے کر اسے مرکزی حیثیت دی جائے تو زیادہ مؤثر ہوگا۔ملاوٹ کر کے انسانی جانوں سے کھیلنے والے عناصر کیخلاف حکومت جو بھی سخت اقدامات کرے گی عوام کی تائید وحمایت اور عوام کی خوشنودی حکومت کے شامل حال رہے گی۔ حکومت اس ضمن میں تسلسل کیساتھ اقدامات کر کے ہی اس مسئلے پر قابو پا سکتی ہے یا کم ازکم اس میں کمی ہی لائی جا سکتی ہے۔