مہنگائی پر نمائشی اقدامات

وزیراعظم عمران خان نے اپنی زیرصدارت ایک اجلاس کے دوران کہا ہے کہ ملاوٹ کیخلاف ایمرجنسی کا نفاذ کرکے ایک ہفتہ کے اندر نیشنل ایکشن مرتب کیا جائے، وزیراعظم کا عزم ہے کہ کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کرنیوالوں کو لوگوں کی زندگی سے نہیںکھیلنے دیںگے، وزیراعظم عمران خان کے ملاٹ کیخلاف اقدام کی تحسین کی جانی چاہئے کیونکہ یہ انسانی جانوں کے تحفظ کا معاملہ ہے اور انسانی جانوں سے کھلواڑ کرنے والے کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں تاہم اس کیساتھ ساتھ وزیراعظم کو مہنگائی کیخلاف بھی ایمرجنسی کا نفاذ کرکے ٹھوس پلان مرتب کرنے کی ہدایت دینی چاہئے تاکہ غریب عوام کو عزت کیساتھ دووقت کی روٹی مل سکے۔ اب ایسا دکھائی دیتا ہے کہ مہنگائی اور بیروزگاری کی چکی میں پستے اور کراہتے عوام کی چیخیں وزیراعظم عمران خان کے کانوں تک پہنچ گئی ہیں اور انہوں نے ایک ٹویٹ کے ذریعے تسلی دی ہے کہ حکومتی ادارے آٹے اور چینی کی قیمتوں میں اضافے کے اسباب کی جامع تحقیقات کا آغاز کرچکے ہیں، قوم اطمینان رکھے آٹے اور چینی کے بحران کے ذمے داروں کو کڑی سزائیں دی جائیں گی اور ان کا زبردست محاسبہ کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے قوم کو یہ یقین بھی دلایا ہے کہ انہیں تنخواہ دار طبقے سمیت عوام کو درپیش مشکلات کا ادراک ہے اور انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے ان کی حکومت عوام کو بنیادی اشیائے ضروریہ اور غذائی اجناس کی کم قیمتوں میں فراہمی کیلئے ضروری اقدامات کرے گی۔ وزیراعظم کے اس اعلان کی روشنی میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں عوام کو اشیائے خورد ونوش کی رعایتی نرخوں پر فراہمی کیلئے 15ارب روپے کے خصوصی پیکیج کی منظوری دی گئی ہے۔ اس پیکیج کے تحت لوگوں کو یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے آٹا، چینی، گھی، دالیں اور چاول وغیرہ جیسی بنیادی اشیائے خوراک بازار کی نسبت سستے داموں مہیا کی جائیں گی۔ وزیراعظم اور ان کی کابینہ کی جانب سے عوام کی مشکلات کے احساس اور ان کے خاتمے کیلئے اقدامات کی تحسین کی جانی چاہئے کہ ان کے نتیجے میں قوت خرید سے محروم ہوتا ہوا عام آدمی شاید کچھ سہولت محسوس کرسکے۔ تاہم حکومت کے اعلان کردہ پیکیج کا سرسری سا جائزہ بھی یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ یہ پیکیج ”اونٹ کے منہ میں زیرہ” سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا اور ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ یوٹیلٹی اسٹورز کی محدود تعداد تک معاشرے کے کتنے فیصد لوگوں کی رسائی ہو سکے گی؟ اور پھر ان اسٹورز کے سامنے سستی اشیاء کی خریداری کیلئے غریب لوگوں کو قطار اور انتظار کی جو صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں گی اور جس ذہنی وجسمانی اذیت سے گزرنا پڑے گا اس کے بعد کیا لوگ حکومت کے ان اقدامات کی تحسین کریں گے، یا الٹا حکمرانوں کیلئے بے ساختہ بددعائیں ان کے منہ سے نکلیں گی؟ یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے رعایتی نرخوں پر اشیاء کی فراہمی کے ضمن میں ماضی کا تجربہ یہ بھی بتاتا ہے کہ امدادی رقم کا ایک بڑا حصہ یوٹیلٹی اسٹورز اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام کی جیبوں میں چلا جاتا ہے جبکہ ان اسٹورز کی سستی اشیاء چور دروازوں سے بازار میں فروخت کرکے ناجائز منافع کمانے کی شکایات بھی ماضی میں عام رہی ہیں۔ لہٰذا یوٹیلٹی اسٹورز جیسے چور دروازے کھولنے اور نمائشی اقدامات کے بجائے ایسے ٹھوس اقدامات کئے جائیں جن کے نتیجے میں منڈی، بازار اور عام دکانوں پر لوگوں کو معقول قیمتوں پر استعمال کی ضروری اشیاء آسانی سے اور باافراط دستیاب ہوسکیں۔ یوں بھی بھاری ٹیکس عائد کرکے ان کی جبراً وصولی کے ذریعے لوگوں کی زندگی اجیرن کرنے کے بعد ان سے وصول شدہ رقم کا ایک معمولی حصہ انہیں سبسڈی کے نام پر لوٹاکر ان پر احسان جتانا اور اپنی غریب پروری کے ڈنکے بجانا کسی بھی طرح قابلِ ستائش قرار نہیں دیا جاسکتا۔
اس ضمن میں تکلیف دہ حقیقت یہ بھی ہے کہ عوام کی بھاری اکثریت اس بحران کے ذمہ دار وزیراعظم کے دائیں بائیں بیٹھے بعض لوگوں کو تصور کرتی ہے کیونکہ چینی اور آٹے کی تیاری اور تقسیم کا نظام زیادہ تر انہی لوگوں کے کنٹرول میں ہے مگر افسوس کہ وزیراعظم نے اپنی اعلان کردہ تحقیقات کے نتائج کا انتظار کئے بغیر ازخود ہی یہ فیصلہ بھی سنا دیا ہے کہ لوگوں کی نظر میں مجرم، وزیراعظم کے ان ساتھیوں کا آٹے اور چینی کے بحران میں کوئی کردار نہیں۔ سوال یہ ہے کہ تحقیقات کے تکمیل تک پہنچے بغیر وزیراعظم کسی شخص کے بے گناہ ہونے کا اعلان کس طرح کر سکتے ہیں؟ اور پھر یہ سوال بھی نہایت اہم ہے کہ وزیراعظم کے منصب پر موجود شخص کی جانب سے تحقیقات سے متعلق اس طرح کی رائے زنی کے بعد کیا آزادانہ، غیرجانبدارانہ، صاف، شفاف اور قابل اعتماد تحقیقات ممکن بھی ہوسکیں گی؟ صورتحال کا یہ پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے کہ ایک جانب اگر وزیراعظم عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کے عزائم کا اظہار کررہے ہیں تو دوسری جانب ان کی معاشی ٹیم آئی ایم ایف سے قرضے کے حصول کیلئے مذاکرات میں مصروف ہے۔ جناب عمران خان قوم کو آئی ایم ایف کے شکنجے سے نجات دلانے کا وعدہ کرکے برسراقتدار آئے تھے مگر ان کے اقتدار میں یہ شکنجہ مزید سخت ہوچکا ہے۔ جاری مذاکرات کے بارے میں معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے حکومت پر منی بجٹ لانے یا دو سو ارب روپے کے مزید ٹیکس عائد کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے، اس کے علاوہ قومی اداروں کی نجکاری کو تیز تر کرنے کا تقاضا بھی کیا جارہا ہے۔ آئی ایم ایف کو اپنا فراہم کردہ قرض مع سود وصول کرنے سے غرض ہے، سود خور مہاجن کی طرح اسے اس امر سے کوئی غرض نہیں کہ اس کی عائد کردہ شرائط کے بعد مقروض زندہ بھی رہ پائے گا یا زندہ درگور ہونے پر مجبور ہوگا۔