کشمیری میڈیا عتاب کا شکار

گزشتہ برس پانچ اگست کے بھارتی فیصلے کے بعد کشمیری صحافت کو نہ صرف قتل کر دیا گیا بلکہ 300سے زائد کشمیری صحافیوں اور رپورٹروں کو خاموش کر کے ان پر ایسی دہشت بٹھا دی گئی کہ وہ چھ ماہ گزرنے کے باوجود اپنی صحافتی ذمہ داریاں نبھانے میں اعصابی دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔ ایک رپورٹر کے بقول کشمیر حقیقت میں جہنم بن گیا ہے جہاں زندہ رہنا مشکل ہے، رپورٹ کرنا تو دور کی بات ہے۔ اخباروں اور رسالوں پر پانچ اگست سے پہلے ہی شب خون مارا گیا تھا جب چند اخبار مالکان کو تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے پوچھ گچھ کیلئے دہلی بلایا۔ اس کے فوراً بعد ان اخباروں کی خبروں کی شکل وصورت ہی بدل گئی۔ ہر خبر اور ہر مضمون دہلی حکومت کے اہلکاروں کی نظروں سے گزرنے کے بعد ہی اخبار میں شائع کرنا ضروری بن گیا، یہاں تک کہ تحریک آزادی یا اس سے منسلک قیادت کے بیانات اور خبریں سرے سے غائب کر دی گئیں۔ پانچ اگست کو جموں وکشمیر کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کرنے کے بعد گھروں سے باہر نکلنا محال بن گیا، اخبار چھاپنا یا خبر پہنچانا ہر صحافی کیلئے ایک خواب بن کے رہ گیا ہے۔ بھارت کے چند صحافیوں کو حکومت کی پسندیدہ رپورٹنگ کیلئے کشمیر بلایا گیا اور ان کو سیٹلائیٹ فون دستیاب کر دئیے گئے تھے جبکہ ایک قومی چینل سے وابستہ کشمیری رپورٹر کو جو چند روز کے بعد کسی طرح زمینی صورتحال بتانے میں کامیاب ہوگیا تھا گھر بیٹھنے کا مشورہ دیا گیا۔ عالمی میڈیا سے وابستہ بعض صحافیوں نے تقریباً ایک ہفتے کے بعد سرکاری اہلکاروں سے فون کی سہولت مانگنے کی جرأت کی تو ان کو ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کرنے کا حکم ملا۔ عالمی چینلوں کے شور اور ہنگامے کے بعد بعض رپورٹروں کو سرکاری دفاتر سے رپورٹ فائل کرنے کی اجازت مل گئی لیکن حالات کی صحیح عکاسی کرنے پر جیسے ایمرجنسی نافذ ہوگئی اور ہر رپورٹ کو سرکاری نظریں گھورتی رہیں۔ بیشتر رپورٹر دہلی چلے گئے جہاں سے وہ عالمی میڈیا کیلئے چند حقیقی رپورٹس بھیجنے میں کامیاب رہے جبکہ بعض صحافیوں نے سری نگر ایئرپورٹ سے پین ڈرایو میں رپورٹیں لوڈ کر کے مسافروں کے ہاتھ بھیجیں جس کا پتہ چلتے ہی ایئرپورٹ پر مسافروں کے فون کی جانچ شروع کر دی گئی۔ کشمیر کا پرنٹ میڈیا جان بوجھ کر بند کیا گیا تھا۔ سرکاری ریڈیو سے حسب روایت وہی کچھ نشر ہوا جو حکومت کے حق میں ہے بلکہ ایک سامع کے مطابق حکومت نے حب الوطنی کے نغمے سنا کر ہم کو ہندوستانی بنانے کی کافی کوشش کی مگر ہم کم بخت پھر بھی آزادی کے جذبے کو پالتے رہے۔ چھ ماہ کی شدید پابندیوں کے باوجود اب کشمیری رپورٹروں نے حقائق پر مبنی چند رپورٹیں شائع کیا کر دیں کہ ان میں بیشتر کو کبھی تھانے بلایا جاتا ہے تو کبھی بدنام زمانہ انٹاروگیشن مراکز میں طلب کر کے ان کو ذہنی ٹارچر کیا جاتا ہے۔ دہشت اور خوف کے اس ماحول سے تنگ آ کر کشمیر پریس کلب نے چند روز قبل صحافیوں کی میٹنگ بلا کر ان صحافیوں کے نام ظاہر کئے جنہیں جسمانی اور ذہنی عتاب کا شکار بنایا گیا۔ پہلی بار کشمیر پریس کلب نے حکومتی سختیوں اور ہراساں کرنے کی کارروائیوں پر سے پردہ ہٹا کر میڈیا کو پیشہ وارانہ طریقے سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی پرزور مانگ کی۔ کشمیر آبزرور کے مدیر سجاد حیدر کہتے ہیں! تحریری طور پر تو کوئی پابندی نہیں ہے لیکن جو دہشت اور خوف کا عالم پیدا کیا گیا ہے اس میں کون لکھ یا بول سکتا ہے۔ ہم نے نوے سے سختیاں اور پابندیاں دیکھی ہیں لیکن پانچ اگست کے بعد ایسا ماحول بنایا گیا ہے کہ صحافی خود پر پابندیاں عائد کرنے لگا ہے کیونکہ وہ خوف کے عالم میں جی رہا ہے پہلے 300 صحافیوں کو آٹھ کمپیوٹر دئیے گئے اور ہر رپورٹ سرکاری نظر سے گزرتی رہی۔ ایسے خوف میں حقیقی خبریں عوام تک پہنچانے کی ہمت کون کر سکتا ہے؟ سرکاری میڈیا پر ہمیشہ کشمیری پنڈتوں کی سبقت رہی ہے۔ سن نوے میں جب کشمیری پنڈت کشمیر چھوڑ کر چلے گئے تو وہ اس وقت نیوز روم لے کے چلے گئے تھے اور کئی برسوں تک دہلی سے کشمیری نیوز بلیٹن نشر ہوا کرتا تھا۔ پرنٹ میڈیا میں مسلمانوں کی بھرتی سن نوے کے بعد ہوئی جب پنڈت وادی سے چلے گئے لیکن انہیں آزادی سے کام کرنے کا ایک موقعہ بھی نصیب نہیں ہوا۔ انہیں ہر دور میں ذہنی اور جسمانی عذاب سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ کشمیر میں گذشتہ تین دہائیوں میں درجنوں صحافی تشدد کا نشانہ بنائے گئے، جن میں حالیہ ہلاکت شجاعت بخاری کی ہے۔ انہیں2018 میں 14جون کو اپنے دفتر سے نکلتے وقت گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا تھا اور حکومت نے پاکستانی بندوق بردار نوید جاٹ پر الزام عائد کیا۔ کشمیر میں اگرچہ سات دہائیوں سے ہر شخص مصائب اور مشکلات سے دوچار ہے لیکن ان کے مصائب اور مشکلات بتانے والے صحافیوں کو ہر صورت جسمانی اور ذہنی خوف میں مبتلا کرنے حکومت کی پرانی حکمت عملی رہی ہے۔ اس پر آج بھی سختی سے عمل درآمد ہو رہا ہے اور بھارتی میڈیا عوام کی بجائے حکومت کا ترجمان بن چکا ہے۔
(بشکریہ انڈیپنڈنٹ)