کوٹہ سسٹم کا بتدریج خاتمہ کیا جائے

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف کی جانب سے چالیس سال سے بحال کوٹہ سسٹم کے خاتمے کی سفارش معروضی حقائق کے تناظر میں اس لئے درست ہے کہ اب ملک میں تعلیمی سہولیات اور وسائل کے بناء پر تمام اضلاع میں تو اس کی ضرورت نہیں البتہ بلوچستان،سندھ ،پنجاب اور خیبرپختونخوا کے بعض اضلاع اب بھی ایسے ضرور ہیں جہاں پسماندگی اور تعلیمی سہولیات کی شرح واقعی اس قدر کمزور ہے جسے نہ ہونے کے برابر قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اس تناظر میں مناسب یہ نظر آتا ہے کہ کوٹہ سسٹم کو پوری طرح رائج نہ رہنے دیا جائے اور نہ ہی مکمل طور پر اس کا خاتمہ کیا جائے بلکہ اسے بتدریج ختم کرنے کے اقدام کے طور پر جن اضلاع اور علاقوں میں تعلیمی سہولیات کی صورتحال بہتر ہے اور جہاں لوگوں کو متبال بہتر تعلیمی سہولیات میسر ہیں اور وہ ان سے فائدہ اُٹھارہے ہیں وہاں کوٹہ سسٹم کا خاتمہ کیا جائے۔ اس کیلئے ایک معیار مقرر کیا جائے جس کے تحت ضلع کے جس حصے میں تعلیمی سہولیات بہتر ہوں اور جہاں کے لوگوں کے پاس متبادل ذرائع سے فائدہ اُٹھانے کے مواقع ہونے کیساتھ ساتھ وہ ان سے مستفید ہورہے ہوں وہاں کوٹہ سسٹم کے تحت طالب علموں کو پیشہ وارانہ تعلیمی اداروں اور ملازمتوں میں کوٹہ کی بجائے اوپن میرٹ کا معیار اپنایا جائے۔ جہاں پسماندگی اور غربت کی شرح ایک خاص شرح سے کم ہو وہاں کے بچوں کو آگے آنے کیلئے مواقع دیئے جائیں۔ اگر دیکھا جائے کوٹہ سسٹم اب برائے نام رہ گیا ہے کیونکہ اس نظام کے تحت مقابلہ میں شریک طالب علم بھی اب کم وبیش اوپن میرٹ کے برابر ہی نمبروں سے مقابلہ کررہے ہوتے ہیں۔ کوٹہ سسٹم سے ناجائز فائدہ اُٹھانے اور اس کیلئے راستے تلاش کرکے حقداروں کا حق مارنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ کوٹہ سسٹم جس جذبے اور ضرورت کے تحت رائج تھا اب کم وبیش حالات بد ل چکے ہیں اس لئے اس کی توسیع پر نظر ثانی کرتے وقت ان کو مد نظر رکھا جانا چاہئے بہرحال کوٹہ سسٹم کا بتدریج خاتمہ کیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔
سیکھنے کے مواقع میں اضافہ وبہتری کی ضرورت
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی صوبہ بھر میں تکنیکی تعلیم دینے والے اداروں اور مراکز کے معیار کو بہتر بنانے کی ہدایت کے عملی صورت میں ہونے سے صوبے میں ہنرمند افراد کی کمی دور ہونے اور بیروزگاری میں کمی آنا ممکن ہوگا۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں ہنرمند افراد کی تقریباً پونے تین لاکھ مواقع موجود اور ہنرمندوں کے منتظر ہیں مگر صوبے میں ہنرمند افرادی قوت موجود ہی نہیں یا اگر موجود ہے تو اس کی کوشش اندرون ملک اور خاص طور پر بیرون ملک روزگار کی طرف ہے۔ ہم سمجھتے ہیںکہ جہاں ہنرمندی کی تعلیم کو فروغ دینے اور اس کے معیار کو بڑھانے کی ضرورت ہے وہاں ہنرمندی کی طرف نوجوانوں کو راغب کرنے کیلئے سکولوں کی سطح پر اساتذہ کی تقرری یا پھر اساتذہ کرام کا اپنے شاگردوں کو ہنر سیکھنے کی ترغیب دینے کیلئے معلومات کی فراہمی کی ضرورت ہے۔ ہنرمندی کا فروغ نہ صر ف نوجوانوں کو کم عرصے میں اور بہتر روزگار کے مواقع کی فراہمی کیلئے ضروری ہے بلکہ وہ نوجوان طالب علم جو گھریلو حالات یا پھر اپنے تعلیمی استعداد کے باعث اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں ان کیلئے ہنرمندی ایک بہتر متبادل ہے۔ فی الوقت خیبرپختونخوا میں اس حوالے سے حکومتی اقدامات اور تربیتی مراکز کا جو نظام رائج ہے اس پر نظر ثانی اور زیادہ بہتر ومتبادل انتظامات پر توجہ کی ضرورت ہے جس کے بعد ہی ہنرمندوں کی بہتر کھیپ میسر آئے گی۔
ریگی ماڈل ٹائون کی آباد کاری کیلئے درکار اقدامات
ریگی للمہ ٹائون شپ میں سیکورٹی کی صورتحال کی بہتری کیلئے پی ڈی اے کی جانب سے تھانوں میں واچ ٹاور کی منظوری اور زون ون میں گھروں کی تعمیر کے خواہشمندوں کو مختلف مدات میں پندرہ دن کیلئے رعایت کا اعلان برسوں سے التواء کا شکار ٹائون شپ کی آبادکاری کیلئے سنجیدہ اقدامات ہیں۔ ریگی للمہ ٹائون شپ میں لوگوں کو گھر بنانے پر آمادہ کرنے کیلئے اولین ضرورت سیکورٹی کے نظام کی مزید بہتری پر توجہ ہے۔ ہمارے تئیں صرف تھانوں میں واچ ٹاور بنانا کافی نہ ہوگا بلکہ ریگی للمہ ماڈل ٹائون کے اطراف اور خاص طور پر قبائلی اضلاع سے ریگی میں داخل ہونے کے مقامات کو پوری طرح محفوظ بنانے اور مرکزی سڑک پر ناکہ اور چوکیاں بنانے کی ضرورت ہے تاکہ یہاں کے رہائشیوں کو تحفظ کا احساس دلایا جا سکے۔ ریگی للمہ ٹائون شپ کے آس پاس کے علاقوں اور جن زونز کی زمین متنازعہ ہے اس کے حصول اور اردگرد میں سیکورٹی حصار کا قیام ریگی ٹائون شپ کے مکینوں کے تحفظ کیلئے اہم اقدام ہوگا۔ ریگی للمہ ٹائون شپ کو گیس کی فراہمی کے منصوبے کی تکمیل آبنوشی وبجلی کے مسائل کے حل سمیت سکولوں اور طبی مراکز کے قیام کیلئے بھی ترغیبات کی ضرورت ہے تاکہ یہاں کے رہائشیوں کی تعداد میں اضافہ ہو اور ٹائون شپ میں تعمیراتی کام شروع ہوسکے۔توقع کی جانی چاہئے کہ پی ڈی اے کے حکام عرصہ دراز سے التواء کا شکار اور نامعلوم وجوہات کی بناء پر تاخیر کا شکار ہونے والے اس منصوبے کو اب مزید تاخیر کا شکار نہیں ہونے دیں گے، اس منصوبے کی تکمیل خود پی ڈی اے پر عوام کے اعتماد کی بحالی کیلئے بھی ضروری ہے۔