آرٹیکل 6 کا مکرر تذکرہ

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت گرانے سے متعلق بیان پر جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کیخلاف آرٹیکل6 یعنی بغاوت کا مقدمہ ہونا چاہئے۔ واضح رہے کہ رواں ہفتے کے اوائل میں مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنا آزادی دھرنا اس لئے ختم کیا کیونکہ انہیں یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ عمران خان کا استعفے دیں گے اور تین ماہ میں نئے انتخابات ہوں گے۔ وزیراعظم کے بیان کے جواب میں سوالات کئے جا رہے ہیں کہ خود ان کے ایک سو چھبیس دن کے طویل دھرنے میں تشدد اور آئینی اداروں پر حملے کے علاوہ سول نافرمانی تک بات جا پہنچی تھی، ایمپائر کی اُنگلی اُٹھنے کی صبح وشام یقین دہانیاں کرائی جا رہی تھیں۔ سیاسی معاملات سے قطع نظر آرٹیکل چھ کا ایک مقدمہ سابق صدر پرویز مشرف پر باقاعدہ چل رہا ہے اور ایک عدالت سے تو ان کو سزا بھی ہوچکی ہے۔ ملکی سیاست میں اپنے وقت میں سب جائز اور دوسرے کی باری آئے تو یکطرفہ موقف اختیار کرنا کوئی نئی بات نہیں، وزیراعظم کا بیان بھی اسی سیاست دوراں کا حصہ ہے۔ وزیراعظم کا بیان صرف سیاسی ہی نہیں بلکہ ان کے بیان کا وہ حصہ خاص طور پر قابل توجہ ہے جس میں انہوں نے ایک مرتبہ پھر فوج کے اپنے ساتھ کھڑی ہونے کا بیان دہرایا ہے۔ وزیراعظم کا بیان بطور وزیراعظم اور حکمران کے فوج کی حمایت حاصل ہونے کا معاملہ درست اس لئے ہے کہ فوج بھی حکومت وریاست کا ایک ادارہ ہے جس کی آئینی ذمہ داری حکومت وقت کی مدد واعانت اور احکامات کی پیروی ہے۔ بلاشبہ عسکری اداروں کے پاس بدعنوانیوں کی معلومات ہوتی ہیں لیکن بدعنوانی کے معاملات کی تحقیقات اور اس پر کارروائی سے ان کا کوئی تعلق نہیں سوائے اس کے کہ کسی مسئلے پر جے آئی ٹی میں عسکری ادارے کے کسی فرد کو شامل کیا جائے اور وہ تحقیقات میں مدد دے۔ اس فرض کی انجام دہی بھی عدالت کے احکامات یا پھر حکومت کی طرف سے ذمہ داری کی تفویض کے بعد ہی آئینی وقانونی طور پر فرائض کی ادائیگی ان کا منصب ہے۔ ایک سیاسی بیان اور سیاسی ارتعاش کے دنوں میں وزیراعظم کے اس قسم کے بیان سے سیاسی تاثر کا اُبھرنا ہی فطری امر ہے اس لئے اس قسم کے تاثرات بننے کے حامل بیانات سے اجتناب کی ضرورت ہے۔ بہرحال اس معاملے سے قطع نظر مولانا فضل الرحمن سے مذاکرات کاری پنجاب میں وزیراعظم کی اتحادی جماعت کے اہم رہنماؤں نے کی، ان کی وساطت سے کسی سے کیا بات چیت ہوئی اور انہی کی وساطت سے کیا یقین دہانیاں کرائی گئیں، آیا مولانا فضل الرحمن کا دعویٰ درست ہے یا سرے سے حقائق کے منافی ہے ان تمام معاملات کا تعین کئے بغیر صرف بیان پر آرٹیکل چھ کے اطلاق کا تعین کیسے ہوسکتا ہے۔ اگر اس قسم کی کوئی یقین دہانی کرائی گئی تھی تو اس ذریعے اور یقین دہانی کرانے والوں پر آرٹیکل چھ کا اطلاق بیان دینے والے سے پہلے ہونا چاہئے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک میں مہنگائی اور معاشی عدم استحکام کی صورتحال سے عوام دوچار ہیں سیاستدانوں کا اسمبلی میں اور اسمبلی سے باہر سیاسی صورتحال کے غیرمستحکم ہونے کا تاثر قائم کرنے والے بیانات ملک کے مفاد میں نہیں۔ کس نے کس کو اور کس کی جانب سے کیا یقین دہانی کرائی گئی تھی فی الوقت یہ الفاظ دعوؤں کی حد تک ہے، آرٹیکل چھ کے اطلاق کیلئے عمل اور ٹھوس شہادتوں کی ضرورت ہے جو فی الوقت دستیاب نہیں۔ بہتر ہوگا کہ ملک میں سیاسی ہم آہنگی اور استحکام کی مشترکہ سعی کی جائے اور مل جل کر عوام کو اس مشکل سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کیا جائے۔
اسفندیار کے بیان کی وضاحت ہونی چاہئے
اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان کا یہ انکشاف کہ صوبہ بھر میں دہشتگرد پھر سے منظم ہو رہے ہیں اور دیر میں طالبان کی ریلی حیران کن اور خوفناک ہے جیسے دعوے کی اگرچہ میڈیا کے کسی ذریعے سے تصدیق نہیں ہوئی اور نہ ہی اس قسم کی کوئی صورتحال رپورٹ ہوئی ہے دوسری جانب اگر دیکھا جائے تو اسفندیار ولی خان اس قسم کے سیاسی رہنماؤں کے زمرے میں نہیں آتے جو بلاوجہ وتحقیق خوامخواہ کے دعوے کرنے کے عادی ہوں۔ اسفندیار ولی خان کے بیانات سے قطع نظر اگر دیکھا جائے تو حالیہ دنوں میں تحریک طالبان پاکستان کے اہم رہنما افغانستان میں مارے جا چکے ہیں اور ان کی ٹوٹی کمر مزید توڑ دی گئی ہے۔ ٹی ٹی پی کا اب کوئی مرکزی نظم نہیں رہا اور نہ ہی مقامی طور پر ان کی کسی علاقے میں موجودگی اور سرگرمیوں کی شنید ہے، البتہ حال ہی میں پشاور کے مضافات کے حوالے سے ایک رپورٹ سامنے آئی تھی لیکن اس کے بعد کسی کارروائی یا ان عناصر کی موجودگی کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا۔ ان تمام حقائق کے تناظر میں اے این پی کے سربراہ کا بیان مبنی برحقیقت نظر نہیں آتا تاہم ان کے دعوے کی جب تک صوبائی حکومت یا دیر کی انتظامیہ کی طرف سے سرکاری طور پر تردید سامنے نہیں آتی اس وقت تک ان کا دعویٰ مکمل طور پر باطل نہیں ٹھہرتا۔ اگر ان کا بیان درست نہیں تو اس کی تردید ووضاحت ہونی چاہئے۔ ان کا بیان کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے تو اسے دور ہونا چاہئے اور اگر ان کے بیان میں وزن ہے تو حکومت بتائے کہ ان عناصر کیخلاف کیا کارروائی کی گئی۔ اس سے بھی قبل اس امر کی وضاحت ہونی چاہئے کہ نوبت ان کے اکٹھے ہونے اور منظرعام پر آنے کی آئی کیسے اور اگر اے این پی کے رہنما کا بیان درست نہیں تو اس کی کھل کر مذمت ہونی چاہئے تاکہ عوام کسی مخمصے کا شکار نہ ہوں۔ خیبر پختونخوا کے عوام ایک دہائی سے زائد عرصے میں بالخصوص اور چار دہائیوں سے بالعموم جن حالات کا شکار ہیں ان کٹھن حالات کا تذکرہ ہی تکلیف دہ ہے کجا کہ خطرہ عود کر آنے دیا جائے۔