اٹوٹ سمبندھ

ترکی اور پاکستان کا آپس میں انمٹ ناتا ہے، جس کا اظہار عالم اسلام کے رہنماء طیب اردگان نے بھی اپنے دورۂ پاکستان کے موقع پر کیا۔ طیب اردگان نے پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے جو خطاب کیا اس کا ہر لفظ ایک عظیم قوم کے عظیم لیڈر کے احساسات اور جذبات کی عکاسی کر رہا تھا۔ ترک صدر نے فرمایا کہ پاکستان کا دکھ ہمارا دکھ، پاکستان کی خوشی ہماری خوشی، مسئلہ کشمیر جتنا پاکستان کا ہے اتنا ہی ترکی کا بھی ہے۔ مزید یہ بھی کہا کہ مسئلہ کشمیر کے پُرامن اور بات چیت کے ذریعے حل کے مؤقف پر ترکی قائم رہے گا مسئلہ کشمیر کا حل طاقت یا جبری پالیسیوں سے نہیں بلکہ انصاف وحقانیت کے اصولو ں سے ممکن ہے۔ پاکستان کیساتھ ازل سے جاری ہمارے برادرانہ تعلقات تاابد رہیں گے، انہوں نے ایک نہایت نکتے کی بات یہ کہی کہ سرحدیں اور فاصلے مسلمانوں کے دلوں کے درمیان دیوار نہیں بن سکتے۔ دنیا بھر کے مسلم بھائیوں کے دکھ درد میں شریک ہونا اور ان پر ہونے والے ظلم کیخلاف ان کا ساتھ دینا ہم سب کا فرض ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ ظلم کا مقابلہ نہ کرنا ظلم کرنے کے مترادف ہے۔ ترک صدر کی تقریر کا اگر اجمالی جائزہ بھی لیا جائے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان کے منہ سے نکلے الفاظ اُمہ کے دل کی دھڑکنوں سے اُٹھتی ہوئی آواز ہے۔ انہوں نے جو کچھ کہا وہ لفاظی نہیںہے کیونکہ انہوں عملاً کر دکھایا ہے، فلسطین کی آواز وہ اس وقت بنے جب عرب نے راہ فرار اختیار کیا۔ اردگان کی سب باتوں میں ایک نمایاں بات یہ بھی ہے کہ وہ عالمی تاریخ سے کماحقہ واقف ہیں چنانچہ انہوں نے اپنی تقریر میں انتہائی مدلل تاریخی حوالے بھی دئیے مثلاً انہوں نے اپنے خطاب میںکہا کہ ترکی اور پاکستان جیسے برادرانہ تعلقات دنیا میں شاید ہی دیگر ممالک یا اقوام میں دیکھے جا سکتے ہوں، ان کے ان کلمات کا اشارہ اس تاریخی حقیقت کی جانب ہے جب غیرمنقسم ہندوستان کے مسلمانوں نے خلافت کیلئے اہل ترک کا ساتھ بے بدل دیا اور عملاً ساتھ دیا۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی عظیم تحریک جس کا آج تک کوئی بدل نہیں وہ خلافت تحریک تھی، طیب اردگان کا اشارہ اسی جانب تھا، ترک صدر نے اپنے خطاب میں معروف شاعر غالب کا بھی ذکر کیا اور یہ بھی اتفاق ہے کہ غالب بھی ترک نسل تھے، پاکستان کے تعلقات کو شاعراُمت علامہ اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح کا قیمتی ورثہ قرار دیا حتیٰ کہ انہوں نے خلافت عثمانیہ کی مدد کیلئے برصغیر کے مسلمانوں کے چندہ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ مسلم خواتین نے اپنے ہاتھوں کے کنگن، چوڑیاں، بالیاں اور بزرگوں نے اپنی جمع پونجی تک عطا کر دی تھی اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ترک اور پاکستانی قوم کے مابین گہرا تعلق وناتا کسی حکومتی سطح کا مرہون منت نہیں ہے بلکہ دونوں ایمان اور عقیدے کے لازوال رشتے میں جڑے ہوئے ہیں، قیام پاکستان کے بعد سے یہ قطعی واضح ہو چکا ہے کہ دونوں ممالک میں حکومت بدلنے سے کبھی تعلقات اور دوستی ورشتے کو کوئی ضعف نہیں پہنچا ہے بلکہ ہمیشہ کی طرح مضبوطی پر استوار رہا ہے اور رہے گا، توقع یہ ہی ہے کہ صدر ترکی کا خطاب سن کر وزیراعظم پاکستان کا ملائیشیا کانفرنس میں عدم شرکت پر ملال مزید بڑھا ہوگا اگرچہ وہ اپنے حالیہ دورۂ ملائیشیا کے موقع پر اس کا اظہار کر چکے ہیں۔ گمان یہ تھا کہ عمران خان نے جس لمحہ کوالالمپور کانفرنس میں عدم شرکت کا اعلان کیا شاید اس عمل سے دونوں ملکوں کی جانب سے پاکستان کیلئے دراڑ پڑ جائے مگر عمران خان کے حالیہ دورۂ ملائیشیا کے موقع پر جس پُرخلوص انداز میں وزیراعظم مہاتیر محمد نے عمران خان کی پذیرائی کی اس سے ثابت ہوا کہ تعلق شخصیات کی سحرانگیز ی پر مبنی نہیں ہوا کرتے بلکہ قوم کے اقدار کی بنیاد پر اور اسی کی چاہت کے پس منظر میں ہوتے ہیں، یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ شاید کوالالمپور کانفرنس میں عدم شرکت کی بنا پر اردگان اپنا دورۂ پاکستان ملتوی کر دیں مگر انہوں نے پاکستان سے ترک قوم کی انست ومودت کا اظہار ثابت کیا حتیٰ کہ طیب اردگان نے یہ بھی اعلان کر دیا کہ ترکی پاکستان پر دباؤ کے باوجود پاکستان کا ساتھ دے گا، یہ بات رسمی طور پر نہیں کہی گئی ماضی گواہ ہے کہ ترکی نے ہمیشہ پاکستان کا بلاغرض ساتھ دیا ہے۔ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد ترک صدر نے بھی ترکی میں سوگ کا اعلان کیا تھا جو جذبات تر ک عوام کے پاکستانیوں اور اہل پاکستان کے جو جذبات ترکوں کیلئے پائے جاتے ہیں ایسی فضا میں لازم ہے کہ ترکی سے قریبی تعلقات سے فائدہ اُٹھانا چاہئے اور ترقی، اصول پرستی میں ترکی کے نمونے کو اپنانا چاہئے، مطالعہ کی گہرائی اس قدر ہونی چاہئے کہ ترک صدر نے خلافت کے حوالے سے عبدالرحمان پشاوری کی خدمات کا بھی حوالہ شفاف طور پر دیا، تعلقات اسی وقت مفید ہوتے ہیں جب ان کو حقائق سے جڑا رکھا جائے۔ پاکستان اور ترکی میں کئی شعبوں میں تعاون کی راہیں کھلی ہوئی ہیں، دونوں ملکوں میں دفاعی تعاون مزید مستحکم وپائیدار ہو سکتا ہے۔ پاکستان کو ترکی سب میرین ضرورت کے مطابق فراہم کر سکتا ہے، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چار سب میرین جلد ہی پاکستان کے حوالے کر دی جائیں گی، ان میں سے دو پاکستان ہی میں تیار کی جائیں گی، اسی طرح ترکی پاکستان سے پچاس کے لگ بھگ مشاق سیبر طیارے حاصل کرے گا اور تیس کے قریب اٹیک ہیلی کاپٹر بھی فراہم ہوں گے، بہرحال طیب اردگان کے دورۂ پاکستان کی وجہ سے دونوں ممالک کو اقتصادی، معاشی، سماجی اور دفاعی طور پر ایک دوسرے کے قریب ہونے کا موقع ملے گا گوکہ بعض طاقتیں اس دورے سے سٹ پٹائی ہوئی ہیں خاص طور پر مودی کے منہ سے جھاگ اُگل رہا ہے۔ طیب اردگان کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اُمہ کی نشاة ثانیہ کا علمبردار ہے اور ترک صدر نے ثابت بھی کر دیا ہے کہ وہ واحد قوم کی بجائے پوری اُمت مسلمہ کے بارے میں سوچتے ہیں۔ کشمیر اور فلسطین پر ترکی کا جو مؤقف ہے وہ انتہائی مثبت ہے، ان حالات میں پاکستان کیلئے بہتر یہ ہے کہ اگر کسی چوائس کا پاکستان کو فیصلہ کرنا ہو تو اس کو ترکی کی ہی چوائس کرنی چاہئے باقی سب کردار سامنے آچکے ہیں۔