جیل خانہ جات یا تشدد وبھتہ خوری کے مراکز

سنٹرل جیل پشاور میں بھتہ خور گروپ کی موجودگی اور بھتہ نہ دینے پر قیدیوں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام محکمۂ جیل خانہ جات کے حکام کی غفلت اور لاپرواہی یا پھر چشم پوشی وملی بھگت جیسے سوالات کا باعث بننا فطری امر ہے۔ قیدیوں نے نہ صرف الزام لگایا ہے بلکہ انہوں نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی بھی موجودگی کا دعویٰ کیا ہے۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ سنٹرل جیل پشاور میں احاطہ چیف چکر اور احاطہ چکر سنٹرل جیل پشاور بعض قیدیوں کے ذریعے جیل میں قید افراد سے بھتہ لیا جاتا ہے اور بھتہ نہ دینے پر قیدیوں سے غیرمناسب رویہ رکھا جاتا ہے اور اُنہیں جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ گروپ کے افراد نے درخواست گزاروں کو بھتہ نہ دینے پر تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد درخواست گزاروں کو طبی امداد دی گئی اور نہ ہی ڈاکٹر سے معائنہ کروایا گیا۔ سنٹرل جیل پشاور کے قیدیوں پر تشدد کے درون خانہ واقعات کا باہر آنا اور ان واقعات کو باہر لانے کی ہمت کرنا اپنی جگہ ایک سوال ہے، جیلوں میں قیدیوں کیساتھ کیا سلوک ہوتا ہے اس کا شاید ہی متعلقہ وزیر اور حکام کو پرواہ ہو۔ جیلوں کے نظم میں اصلاحات اور قیدیوں کے حقوق کے حوالے سے سابق وزیر جیل خانہ جات سید قمر عباس مرحوم کے دور وزارت میں کافی کام ہوا تھا مگر مطلوبہ سفارشات پر عملدآمد شاید شروع ہی نہ ہوسکیں اس کے بعد قیدیوں سے سلوک اور ان کے حقوق کی بات کم ہی سنی گئی۔ جو صورتحال قیدیوں نے عدالت کو درخواست میں بیان کی ہے یہ چشم کشا ہے جس کا حکومت کو سخت اور فوری نوٹس لے کر جیلوں میں اصلاحات اور قیدیوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے اقدامات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ وطن عزیز میں دو نہیں ایک پاکستان کے نعرے کا بھی تقاضا ہے کہ جیلوں کو بااثر عناصر کیلئے ریسٹ ہاؤسز اور عام قیدیوں سے بھتہ کی وصولی اور تشدد کے مراکز نہ بنائے جائیں بلکہ قانونی طور پر ان کے حقوق دئیے جائیں۔ قیدیوں نے جو الزامات لگائے ہیں ان کو مشتے نمونہ از خروارے گردان کر نہ صرف سنٹرل جیل پشاور میں تحقیقاتی ٹیمیں بھجوائی جائیں جو قیدیوں سے آزادانہ طور پر مل کر اعتماد اور رازداری کی فضا میں ان سے معلومات حاصل کرسکیں جس کی روشنی میں کارروائی کی جائے بلکہ پورے صوبے کے جیلوں میں قیدیوں کی حالت زار کی بہتری اور ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
منشیات فروشوں کے منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کی ضرورت
عبدالولی خان یونیورسٹی کے مین کیمپس کے طلباء وطالبات کو آئس اور دیگر منشیات سپلائی کرنے والے پانچ رکنی گروہ کی سرغنہ سمیت گرفتاری اور ان کے قبضے سے آئس اور چرس برآمدگی اور گروہ میں یونیورسٹی کے تین ملازمین کا شامل ہونا تعلیمی اداروں خصوصاً جامعات میں منشیات فروشوں کے منظم نیٹ ورک کا انکشاف ہے۔ اس قسم کے نیٹ ورک کم وبیش تمام تعلیمی اداروں میں نوجوان نسل کو تباہی سے دوچار کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ اس قسم کے گروہ آزادانہ طور پرکام کرنے کیلئے نہ صرف متعلقہ ادارے کے ملازمین ہی کو ساتھ ملاتے ہیں بلکہ طالب علموں کو بھی اور خاص طور پر نشے کے عادی طالب علموں کو اپنا ایجنٹ بناتے ہیں۔ طالبات کا نشے کی لت میں مبتلا ہونا مزید تشویش کا باعث امر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام تعلیمی اداروں میں خصوصی عملہ تعینات کرکے اس قسم کے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جائے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ مردان کے ایک جامعہ میں سامنے آنے والی اس صورتحال کو ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا جائے گا اور ملزمان سے تفتیش کے نتیجے میں حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں دیگر جامعات اور تعلیمی اداروں میں بھی اس قسم کے گروہوں کی ممکنہ موجودگی اور ان کو بے نقاب کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے اور حکومت نئی نسل کو محفوظ بنانے کی ذمہ داری پوری کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی۔