خدا کرے مری ارض پاک پر اُترے

فروری کے مہینے کا وسط ہے، تیز ہوائیں چلنے لگیں، تاکہ درختوں کی شاخوں سے خزاں گزیدہ مرجھائے ہوئے یا سوکھے پتے اُڑا لے جائیں، ہر سال ہوتا ہے یہ عمل، پتے اپنی شاخوں سے جدا ہوکر یوں خوش نظر آتے ہیں جیسے انہیں خزاں مارے درخت کی قید سے آزادی مل گئی ہو، ان بے چاروں کو اس بات کا علم کب ہوتا ہے کہ تیز ہوائیں ان کو تھوڑی دیر اونچا اور اونچا اُڑانے کے بعد پٹخ دیں گی زمین پر، کوئی پرسان حال نہ ہوگا ان کا، کوئی بہتی ندیا میں گرے گا، کوئی جوہڑ کی سطح پر اور کوئی نکاسی آب گزرگاہ کے کنارے، کوئی بیچ سڑک کے گر کر چلتی ٹریفک کے پہیوں کے نیچے کچلا جائے گا اور کوئی پیدل چلنے والوں کے تلوے چاٹ رہا ہوگا، یہ جو تیز ہوائیں چلنے لگتی ہیں فروری کے مہینے میں، موسموں کے تیور سمجھنے والے انہیں ‘بادمراد’ کہہ کر یاد کرتے ہیں، ان کی یہ بات سن کر یوں لگتا ہے جیسے سوکھے پتوں کو انتظار تھا ان تیز وتند ہواؤں کا اور جب یہ چلیں تو ان کے دل کی مراد بر آئی اور وہ اپنی خزاں گزیدہ شاخوں سے مکتی حاصل کرنے کے بعد ہوا کے دوش پر اُڑ کر موج مستی کر لگے لیکن انہیں اپنی اس موج مستی کے عارضی ہونے کا علم کب تھا، ہائے بہت برا ہوا ہمارے ساتھ، کسی بھٹیارے کا اینڈھن بننے والے ایک پتے نے دوسرے پتے سے کہا، کاش ہم اقبال کا کہا مان کر اس نصیحت پر عمل کرتے کہ
ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے اُمید بہار رکھ
اب کیا ہوگا؟ ہونا کیا ہے، بٹھیارہ آئے گا، ماچس کی ڈبیا سے دیا سلائی نکالے گا، اسے ڈبی پر لگی گندھک پر رگڑے گا، دیا سلائی اپنے سر پر آگ کا شعلہ اُٹھا کر بٹھیارے کی ایما پر ہماری طرف بڑھے گی اور ہم سب کو بھسم کرکے رکھ دے گی، ہماری داستاں تک نہ رہے گی داستانوں میں، مٹھی بھر راکھ میں تبدیل ہوجائیں گے ہم سب، پہنچ جائیں گے اپنے انجام کو، کاش ہم پیوستہ رہتے اپنے شجر کیساتھ مگر کیسے رہتے، ایک پتہ بولا، ہم اپنے حصے کی زندگی گزار چکے تھے اس کیساتھ رہتے ہوئے، ہمیں وہ دن نہیں بھولنے چاہئیں جب ہم کونپلیں بن کر پھوٹے تھے اپنے درخت کی شاخوں پر، درخت کی جڑوں نے ہمیں زندہ رکھنے، پلنے بڑھنے اور کھلنے مسکرانے کیلئے زمین کی اتھاہ گہرایوں سے ہمارے لئے خوراک بھیجی جو، تنے اور شاخوں کے ذریعے ہم تک پہنچی اور پھر ہمارا جوبن اور جوانی چہار سو ہریالی پھیلانے لگی، ہم گرمی کے موسم کی تپتی دوپہروں میں عاجز ہونے والوں کیلئے ٹھنڈا سایہ بن کر ان کو حدت سے بچانے لگے، فضا میں پھیلی آلودگی کو ختم کرنے کیلئے مضرصحت گیسوں کو جذب کرکے اس کے بدلے آکسیجن جیسی حیات افزاء گیس بکھیر کر ختم کرنے لگے۔ فضائی آلودگی، شاید یہی تھا مقصد ہماری زندگی کا، بھٹیارے کی بھٹی میں ایندھن بننے کیلئے تیار پتوں میں سے ایک اور پتہ بولا اور اب ہمارا مقصد ہے کسی کا چولہا گرم کرنا یا کسی کے گھر کی رزق روٹی کیلئے جل مرنا ہے، یا چلتی ہوا کی زد میں آکر یہاں سے وہاں تک اُڑجانا، شاید یہی منظور تھا ہماری تقدیر لکھنے والے کو، معلوم ہے سیانے لوگ کیا کہتے تھے ہمارے متعلق، یہی کہ ایک پتہ بھی نہیں ہل سکتا اللہ کے حکم کے بغیر، بھٹی کا ایندھن بننے کیلئے تیار ایک اور پتہ بولا، سب اس کے حکم سے ہوتا ہے، ہم تیار ہیں اس کی بارگاہ میں اپنے بے وقعت وجود کی قربانی دینے کیلئے، دیکھو دیکھو اس درخت کی طرف دیکھو، بھٹیارے کی بھٹی میں پڑے پتوں میں سے ایک بولا اور سارے پتے درخت کی جانب دیکھنے لگے، انہیں یوں لگا جیسے درخت کی برہنہ شاخیں دست دعا بن کر آسماں کی طرف بلند ہوکر باد مراد چلنے کا شکریہ ادا کررہی ہوں، بادمراد جو سوکھے پتوں کو درختوں سے جدا کرکے انہیں اونچا اور اونچا اُڑانے کیلئے ہی نہیں چلتی بلکہ درختوں کی شاخوں پر فصل بہار کے آتے آتے پھول پتوں کی نئی نسل کے کھلنے کا باعث بھی بنتی ہے، وہ لوگ جو جاڑے کے موسم میں سردی سے بچنے کیلئے اپنے اپنے کمروں اور لحافوں میں دبک کر بیٹھے رہتے ہیں اس موسم میں کمروں اور گھروں سے باہر نکل کر آمد فصل بہار کا استقبال کرتے ہیں، سرسوں پھوٹتی ہے باغوں میں جشن آمد نوبہاراں منانے کیلئے اور بچے ان تیز ہواؤں کے دوش پر پتنگ بازی کا شوق پورا کرنے گھروں کی چھتوں پر یا کھلے میدانوں میں نکل آتے ہیں، فروری کا وسط، تیز ہواؤں کا چلنا، سوکھے پتوں کا ان ہواؤں کے دوش پر اُڑ کر سڑک کے بیچوں بیچ آگرنا، کون کس حال میں ہے، کون کن نظروں سے دیکھ رہا ہے بدلتے موسموں کے ان تیوروں کو، گھڑی کی سوئیوں کی ٹک ٹک کی رفتار سے چلنے والے وقت کو ان باتوں سے کوئی غرض نہیں، موسم آتے اور جاتے رہتے ہیں، بدلتے موسم کسی کیلئے فصل بہار کی نوید بن کر آتے ہیں تو کسی کی ہستی کو نیستی میں بدل دیتے،
سدا نہ باغیں بلبل بولے، سدا نہ باغ بہاراں
سدا نہ ماپے حسن جوانی، سدا نہ صحبت یاراں
جبھی تو ہم بدلتے موسموں کے رنگ دیکھ کر دست دعائے شجر بن کر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے پکار اُٹھتے ہیں کہ
خدا کرے مری ارض پاک پر اُترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے کھلا رہے برسوں
جہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو