سمندر پر بھی پل تعمیر کرنا چاہتے ہیں

کہتے ہیں میاں بیوی ایک ہی گاڑی کے دو پہئے ہیں، اگر ایک پہیہ پنکچر ہوجائے تو گاڑی رک جاتی ہے، دونوں زندگی کی گاڑی مل جل کر کھینچتے ہیں لیکن درحقیقت ایسا بہت کم دیکھنے میں آتا ہے۔ حقیقی زندگی میں بہت سے مسائل سے واسطہ پڑتا ہے، دھوکے بھی ہوتے ہیں اور بے وفائیاں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ حالات ٹھیک ہوں تو سب ٹھیک نظر آتا ہے مگر جب زندگی امتحان لینے پر آئے، کسی گھر کے معاشی حالات خراب ہو جائیں تو پھر گاڑی کے ان دو پہیوں کی اصلیت کھل کر سامنے آجاتی ہے، کون باوفا ہے اور کون بے وفا؟ سب کچھ طشت ازبام ہوجاتا ہے۔ ہمارے اردگرد ایسی بے شمار کہانیاں واقعات بکھرے ہوئے ہیں جنہیں دیکھ کر دنیا کا اصل چہرہ سامنے آجاتا ہے، یوں کہئے انسانی رشتوں سے ایمان اُٹھ جاتا ہے مگر ہماری اسی دنیا میں وفا کے پیکر بھی بستے ہیں، محبت جن کا ایمان ہوتا ہے، وفاداری جن کے رگ وپے میں سمائی ہوتی ہے جن کا مرنا جینا اپنے جیون ساتھی کیلئے ہوتا ہے، جو ایک دوسرے کو دیکھ کر جیتے ہیں حالات جیسے بھی ہوں انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا شاید انہی لوگوں کے دم قدم سے یہ دنیا آباد ہے۔ انہیں دیکھ کر ان کے حالات جان کر انسانیت پر ایمان لانا پڑتا ہے! یہ کہانی ملتا ن کے باسی مختار احمد کی ہے جس کے پاس روزگار کا ذریعہ ایک رکشہ ہے اور رہنے کیلئے ایک چھوٹا سا کمرا جس کی چھت پچھلے دو برسوں سے گری ہوئی ہے، یہ سردی بھی انہوں نے اس بغیر چھت والے کمرے میں گزاری ہے۔ جب بارش ہوتی ہے تو میاں بیوی اپنے اوپر پلاسٹک اوڑھ لیتے ہیں، مختار احمد کی بیوی شمشاد اختر بارہ برس پہلے پے درپے صدمات سہتے ہوئے اپنا دماغی توازن کھو بیٹھی تھی۔ مختار احمد نے ان کو کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑا، مصیبت کے یہ بارہ برس دونوں نے اکٹھے ہی گزارے ہیں۔ وہ انہیں اپنے ساتھ رکشہ میں بٹھا کر کام پر نکلتے ہیں، وہ کہتے ہیں یہ میرے بغیر نہیں رہ سکتی۔ یہ ناممکنات میں سے ہے، یہ اس طرح ہے جیسے آپ سورج سے کہیں مشرق سے نہ نکلے یہ کیسے ممکن ہے؟ دونوں میاں بیوی صبح سویرے قہوے کیساتھ روٹی کھا کر کام پر نکل جاتے ہیں، دوپہر کو کسی چھوٹے سے ہوٹل میں ایک پلیٹ سالن کھا کر پیٹ بھر لیتے ہیں۔ تین سو روپے مختار احمد کی ضرورت ہیں، جب چار سو روپے کی مزدوری کر لے تو گھر واپس لوٹ جاتا ہے۔ ان کی رہائشی کوٹھڑی کیساتھ دو کمرے ہیں، ایک گودام ہے اور ایک گوالے کے استعمال میں ہے۔ اس کی بھینسیں صحن میں کھڑی رہتی ہیں، یہ چارپائی سے پاؤں زمین پر رکھیں تو نیچے گوبر میں پڑتا ہے۔ ان کے کمرے میں کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں یہ کپڑے اُتار کر نہا سکیں، ان کے کپڑے ایک چھوٹے سے صندوق میں پڑے رہتے ہیں۔ اس کمرے میں رہنے کا انہیں یہ فائدہ ہے کہ مالک ان سے کرایہ نہیں لیتا۔ مختار احمد مکینک ہیں، یہ مالک کی موٹر سائیکل مرمت کر دیتا ہے، بارہ برس پہلے ان کی کراچی میں ورکشاپ تھی گھر کرائے پر لے رکھا تھا، اچھی گزر بسر ہورہی تھی، پھر شاہین اختر کا نویں مرتبہ حمل ضائع ہوا تو وہ اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھی۔ اس کا ذہنی توازن بگڑ گیا، یادداشت کھو بیٹھی! اس کا علاج ہوتا رہا، مختار احمد کہتے ہیں میں مرد سے عورت بن گیا، اپنی بیوی کو دوا دینا، کنگھی کرنا، سرمہ ڈالنا، وہ سارا دن گھر پہ رہ کر اپنی شریک حیات کا خیال رکھتے، اس دوران اگر کوئی بائیک مرمت کیلئے آجاتی تو کام بھی ساتھ ساتھ ہوتا رہتا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ محبت یکطرفہ نہیں ہے، میں جب بھی کام سے گھر واپس آتا ہوں کبھی کبھی رات گئے دیر سے بھی آتا ہوں لیکن وہ دروازے کیساتھ لگ کر کھڑی میرا انتظار کررہی ہوتی ہے، بس ہمیں ایک دوسرے سے شدید محبت ہوگئی ہے۔ شادی سے پہلے دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا بھی نہیں تھا بس دونوں ایک دوسرے کی مانتے تھے خیال رکھتے تھے! بس ہر طرف پیار ہی پیار ہوگیا ہے:
عجب پاگل ہیں یہ پاتال سے آئے ہوئے لوگ
سمند ر پر بھی پل تعمیر کرنا چاہتے ہیں
وہ اپنی بیماری کے باوجود اگر کچھ یاد رکھتی ہے تو یہی کہ مختار کے پاس اچھے کپڑے کیوں نہیں ہیں، اس نے کھانا کھایا یا نہیں! وہ بیماری کے زیراثر خود کلامی بھی کر رہی ہو لیکن جب اپنے شوہر کی آواز سنے تو اس کی طرف نہ صرف متوجہ ہوجاتی ہے بلکہ اس کی ہر بات مانتی بھی ہے۔ کبھی کبھی اس طرح بھی ہوتا ہے کہ ان کے پاس کھانے کیلئے کچھ بھی نہیں ہوتا تو دونوں بھوکے پیٹ سو جاتے ہیں۔ مختار احمد کی والدہ، دوستوں اور رشتہ داروں نے ان پر بہت دباؤ ڈالا کہ وہ دوسری شادی کرلیں لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کئی کئی مہینوں بعد ملتان آتے تھے تاکہ انہیں دوسری شادی کیلئے نہ کہا جائے۔ میری بیوی لاکھوں میں ایک ہے ہم ایک دوسرے سے شدید محبت کرتے ہیں، رکشے میں بیوی کی موجودگی کی وجہ سے زیادہ سواریاں ہمیں ہاتھ نہیں دیتیں لیکن ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے، بس ہمارا کام چل رہا ہے۔ جب سے فیس بک پر ہمارا انٹرویو سامنے آیا ہے اب بہت سے لوگ ہمیں پہچان گئے ہیں، کچھ لوگ بیوی کے علاج معالجے کیلئے میری مدد بھی کررہے ہیں اور بہت جلد ہمارے اکلوتے کمرے کی چھت بھی ڈال دی جائے گی! مختار احمد کہتے ہیں اچھے برے دن تو زندگی میں آتے رہتے ہیں یہ کیا کہ ذرا سا برا وقت آیا اور بیوی کو چھوڑ دیا (ذرا سا برا وقت؟ مختار کے حوصلے کی داد دینی پڑتی ہے) خلوت میں وہ دونوں آج بھی ایک دوسرے کو گانے سناتے ہیں! شمشاد اختر کو چائے پلاتے ہوئے مختار احمد نے کہا ہم گاڑی کے دو پہئے ہیں بس چلتے جارہے ہیں!