عوامی حافظے کا امتحان

حکومت نے عوام کو سستی اشیائے خورد ونوش فراہم کرنے کیلئے ملک بھر میں چار ہزار یوٹیلیٹی سٹورز کو پندرہ ارب روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے بعد ان سٹورز پر عوام کو عام مارکیٹ سے سستی اشیاء دستیاب ہوں گی۔ یہ سبسڈی آٹے، چینی، چاول، دالوں اور گھی پر ہوگی۔ اس فیصلے کے تحت بارہ نئے کیش اینڈ کیری سٹور قائم کئے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ کی فائلوں کی منظوری روک دی ہے اور آئی ایم ایف کو بھی بتا دیا گیا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ممکن نہیں۔ وزیراعظم عمران خان بارہا مہنگائی میں اضافے اور اس کے نتیجے میں عوام کی مشکلات بڑھنے کا اعتراف کر چکے ہیں۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی بھی ایک ٹی وی پروگرام میں اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔ موجودہ حالات میں حکومت کی سبسڈی اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ عوام اس سے قطعی مطمئن نہیں ہو سکتے مگر گزرے کل کے حکمران اور معجزاتی طور پر آج کی اپوزیشن بننے والے تو کسی طور بھی مطمئن نہیں ہوں گے خواہ قیمتیں جنرل مشرف کے دور تک واپس کیوں نہ پہنچیں۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں مہنگائی کو جیسے تیسے کنٹرول میں رکھا گیا، جنرل مشرف کی حکومت ختم ہوتے ہی مہنگائی کا جن بے قابو ہوگیا۔ توانائی کا بحران بڑھ گیا اور ملک اٹھارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ کی زد میں آگیا۔ موبائل کے سو روپے کے لوڈ پر مشرف دور میں چار پانچ روپے کی کٹوتی ہوتی تھی پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوتے ہی یہ کٹوتی بیس سے پچیس روپے ہوگئی۔ اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں کو اسی وقت سے پر لگ گئے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت میں اسحاق ڈار نے جادو کے کمالات دکھا کر مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی مگر یہ کنٹرول نہ ہو سکی البتہ اسحاق ڈار بہت کاریگری سے منی بجٹ لاکر اور کبھی غیر محسوس طریقے سے اشیائے خورد ونوش کی قیمتیں بڑھاتے رہے جس سے عام آدمی کو مہنگائی کا پوری طرح احساس ہی نہیں ہوتا تھا۔ مشرف دور میں ایک پاؤ کالی پتی کا ڈبہ ساٹھ روپے کا تھا اور دس سال بعد پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کی حکومتوں کے آخر تک یہی ڈبہ دو سو روپے تک پہنچ چکا تھا۔ ان دونوں ادوار میں عالمی مالیاتی ادارے سویلین حکومتوں سے خوش تھے، اس کے سیاسی محرکات تھے کیونکہ عالمی مالیاتی اداروں کے اصل سرپرست یہ سمجھتے تھے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی حکومتیں سویلین بالادستی کی خاطر فوج سے سردجنگ کی کیفیت میں ہیں۔ اس تاثر کو پیپلزپارٹی کے دور میں حسین حقانی نے امریکہ میں خوب بیچا اور فوائد حاصل کئے اور میاں نواز شریف کے دور میں اسحاق ڈار اور کچھ دوسرے کردار بھی عالمی طاقتوں کو یہی باور کراتے رہے۔ اس لئے عالمی مالیاتی اداروں اور ان کی سرپرست طاقتوں کی ان دونوں سویلین حکومتوں سے خصوصی ہمدردی تھی۔ میموگیٹ اور ڈان لیکس وغیرہ نامہ وپیام کا ملفوف انداز تھا، عمران خان کی صورت میں آنے والی تبدیلی کو عالمی طاقتیں اور ان کے زیراثر عالمی مالیاتی اداروں نے قطعی مختلف زاوئیے سے دیکھا اور قبول کیا ہے۔ اس حکومت کیساتھ ان اداروں کا رویہ روزاول سے معاندانہ تھا۔ یہی نہیں بلکہ آج ملک میں جو صورتحال ہے اس کی نشاندہی دس بارہ سال سے مسلسل کی جارہی تھی۔ اس دور کے اخبارات اور ٹی ٹاک شوز اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ عمومی تاثر یہی تھا کہ ہر گزرتا دن پاکستان کے معاشی مستقبل کے حوالے سے کڑا اور مشکل ہوگا، اسی لئے بہت سے لوگ پاکستان کے معاشی طور پر دیوالیہ ہوجانے کا راگ برسوں سے الاپتے چلے آرہے ہیں۔ کئی ایک تو معاشی عدم استحکام کی بنیاد پر پاکستان کو ناکام ریاست قرار دینے لگے تھے۔ پاکستان کی معیشت کو ایک منظم منصوبہ بندی سے زوال کا شکار کیا گیا اور یہ زوال نوے کی دہائی سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ جنرل مشرف نے مغرب کیساتھ آنکھ مچولی کھیل کر وقتی طور پر اپنے اقتدار کے دن اچھے انداز سے گزارنے کی حکمت عملی اپنائی مگر عوام روتے ہی رہے، اسی دور میں عالمی مالیاتی بحران نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور اس بحران نے پاکستان میں بھی بیروزگاری اور مہنگائی میں اضافہ کیا تھا۔ دہشتگردی نے پاکستان کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور منی لانڈرنگ کی حکومتی سرپرستی نے پاکستان کے بے پناہ وسائل کو بیرون ملک منتقل کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ملک کنگال ہوتا گیا اور بیرون ملک محلات اور پلازوں کی صورت حکمرانوں اور بااثر طبقات کی جائیدادوں میں اضافہ ہوتا گیا، ان مشکلات نے پاکستان اور عوام کو اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے۔ یہ برسوں کی حکمت عملی اور منظم منصوبہ بندی سے برپا ہونے والی تباہی ہے جسے اب سال ڈیڑھ سال میں سنبھالا نہیں دیا جا سکتا۔ اس تخریب کو تعمیر میں بدلنے کیلئے عزم صمیم، بہتر منصوبہ بندی اور متحرک اور فعال اس سے بھی بڑھ کر دیانتدار ٹیم کی ضرورت ہے۔ حکومت پر تنقید کرنا آسان ہے مگر ماضی قریب کے حکمرانوں کی زبان سے تنقید جچتی نہیں۔ ووٹر کو متاثر کرنے اور اس کی نگاہیں خیرہ کرنے کیلئے قرض لیکر بڑے منصوبے شروع کرنا ترقی نہیں ہوتی۔ نہ نوٹ چھاپ کر وقت گزارنا اچھی حکمت عملی ثابت ہوتی ہے۔ موجودہ حالات کوئی انہونی نہیں یہ نوشتۂ دیوار تھے مگر ہم نے دیوار پر لکھے ہوئے کو پڑھنے کی بجائے وقت گزاری کو وقتی واہ واہ اور انتخابی ضرورتوں اور مصلحتوں کو ترجیح بنایا تو اس کا نتیجہ یہی برآمد ہونا تھا۔ موجودہ معاشی مشکلات ایک تاریخی عمل کا تسلسل ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ وقت بدلنے کیساتھ ماضی بن جانے والے عوام کے حافظے کا امتحان لیتے ہیں۔