احتیاط لازم ہے

احتساب اور انتقام میں فرق واضح نظر آنا چاہئے ورنہ احتساب کی وقعت ختم ہونے لگتی ہے اور لوگوں کیلئے انصاف کے منظر دھندلاتے جاتے ہیں۔ اگر انہیں یہ دکھائی دینے لگے کہ حکومت احتساب نہیں کر رہی ‘ اس کا انصاف سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اپنے انتقام کی خواہش کی تشفی میں مشغول ہے تو انہیں کسی بھی بات کی سچائی کا یقین ختم ہونے لگتا ہے اور یہ معاملہ کسی بھی معاشرے کیلئے بہت خطرناک ہے۔ جب یہ حکم ربی ہے کہ ”لوگ اپنے آقاؤں کے دین پر ہوتے ہیں” اگر رہنما’ لیڈر اور ملک چلانے والے ہی منقسم مزاج دکھائی دیں گے تو لوگوں کا کیا ہوگا؟ یا وہ غصیلے’ منقسم مزاج اور جذباتی فیصلے کرنے والے ہو جائیں گے یا مایوس اور دل گرفتہ ہوں گے اور معاشرہ ان دو طبقوں میں تقسیم ہو کر رہ جائے گا۔ ایسا معاشرہ کبھی بھی صحتمند معاشرہ نہیں ہوتا بلکہ ردعمل کی بنیاد پر زندگی گزارنے والا معاشرہ ہوتا ہے۔ اس معاشرے میں مجرم ہوتے ہیں اور مظلوم ہوتے ہیں اس کے علاوہ کسی تیسری اکائی کا دکھائی دینا مشکل ہوتا چلا جاتا ہے۔ ذرا اپنے معاشرے کو بغور دیکھئے’ ہمارے اردگرد کی یہی کہانی ہے۔ حکومتیں ان سے پہلے بھی یہی کچھ کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ ان کے کسی بھی کام کا اس معاشرے پر’ اس کے لوگوں پر’ ان کے رویوں پر کیا اثر ہوگا۔ ہمارے ہاں تحقیق کا بھی رواج نہیں سو لوگ یہ بھی سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش نہیں کرتے کہ آخر معاشرے میں موجود رویوں کی اصل وجوہات کیا ہیں؟ معاشرے میں انصاف د کھائی نہ دے تو مجرم مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جاتا ہے اور کمزور کے اندر سر اُٹھانے کی خواہش ہی ختم ہوجاتی ہے۔ تبھی بچیاں جن کیساتھ ہر روز زیادتی کی جاتی ہے اور روز یہ معاشرہ ان کی لاشیں اُٹھاتا ہے’ اس معاشرے کی اصل حقیقت کی مجسم صورت میں جہاں طاقتور اور کمزورکے درمیان بس ایک یہی رشتہ باقی رہ گیا ہے اور اس کے ذمہ دار حکمران ہیں کیونکہ انہوں نے عوام میں یہ احساس پیدا کردیا ہے کہ انصاف کیلئے اس معاشرے میں کوئی جگہ باقی نہیں۔ طاقتور کی کوئی پوچھ نہیں اور کمزور کی کوئی شنوائی نہیں۔ اب یہی معاملہ اس حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کا ہے۔ اس وقت حکومت میں وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایک طویل عرصہ اس حکومت کی طاقت ملنے کا انتظار کیا ہے۔ اس انتظار نے ان کے لہجوں اور ان کے رویوں میں کچھ تلخی بھی پیدا کردی ہے، کچھ ترشی بھی بھر دی ہے۔ وہ اپنے اپنے حساب سے اپنے سامنے والوں پر یہ زہر انڈیلتے بھی رہتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ شاید یہ ان کے رویوں کا حصہ ضرور ہونا چاہئے’ انہیں یہ تلخی اور یہ زہر ہر کسی میں تقسیم کرنا چاہئے کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی اس کے اثرات سے محفوظ رہ جائے، تبھی تو احتساب اور انتقام میں نہ کوئی فرق محسوس ہوتا ہے نہ ان کی ہر سچی بات محض سچی محسوس ہوتی ہے۔ ان کی باتوں کی سچائی میں جو کڑواہٹ گھلی ہے وہ ہی انہیں اس بات کی دلیل لگتی ہے کہ وہ اچھے لوگ ہیں اور ان کی اس کسوٹی پر جو پورا اُترے وہ اچھا اور جو نہ اُترے وہ جھوٹا اور ظالم، لیکن یہ طریقہ کار ٹھیک نہیں اس طریقہ کار سے لوگوں پر’ معاشرے پر غلط اثرات مرتب ہونے کے امکانات ہیں۔ اگر اس وقت یہ اپنے روئیے درست نہ کریں گے تو پہلے سے شدید بگاڑ کا شکار یہ معاشرہ اور بھی اُلجھ جائے گا اور اس کے ذمہ دار اگرچہ اس حکومت کو نہ ٹھہرایا جائے گا کیونکہ ہمارے ہاں تحقیق کا رجحان ہی نہیں اور کوئی بھی اس معاملے پر کسی حکومتی روئیے کو ذمہ دار نہ ٹھہرا سکے گا۔
اس وقت جو لوگ حکومت میں ہیں انہیں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔ ان کے رویوں کی اثرپذیری اس معاشرے کے رویوں پر دکھائی دے گی۔ اگرچہ یہ احتیاط تو ہر حکومت کو کرنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن چونکہ یہ حکومت تبدیلی کی علمبردار ہے اسلئے تبدیلی کا یہ سہرا انہی کے سر ہونا چاہئے۔ یہ اپنے دیگر رویوں میں بہت محتاط نہیں ہیں۔ بیورو کریسی کیساتھ ان کا برتائو بھی درست نہیں۔ اپوزیشن اور بیوروکریسی دونوں ہی کیساتھ یہ انتہائی غیرمحتاط انداز کا برتائو رکھتے ہیں جبکہ عدلیہ اور فوج کے بارے میں غیرضروری محتاط اور مودب ہیں۔ اس کا بھی انہیں اس وقت فائدہ محسوس ہو رہا ہے لیکن حکمرانوں کاکسی ایک جانب جھکائو کبھی بھی فائدہ مند نہیں ہوتا۔ اس کا ہمیشہ منفی اثر ہوتا ہے۔ معاشرے میں توازن برقرار رکھنا حکمرانوں کی ذمہ داری ہوا کرتا ہے۔ اس میں منفی رجحانات خواہ وہ کسی د وسری جانب مثبت ہی ہوں کبھی بھی مناسب نہیں ہوتے۔ اس حکومت کو کم ازکم اس توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش ضرور کرنی چاہئے۔ اس میں وہ کس حد تک کامیاب ہوں گے اس کا تعین آج نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا اندازہ تبھی لگایا جاسکے گا جب یہ نہ ہوں گے اور ان کے رویوں کے اثرات معاشرے پر مرتب ہو کر رویوں کی صورت میں دکھائی دینے لگیں گے۔ اس وقت شاید کوئی اس معاملے کادرست طور تجزیہ کرسکے اور ان کے رویوں کے اثرات کا اعادہ کرے۔ تب یہ تعین ہوگا کہ انہوں نے اس معاشرے کے کس روئیے میں کتنا کردار ادا کیا۔
اس وقت اسحق ڈار کے گھر کو پناہ گاہ بنانے سے تو عدالت نے منع کردیا لیکن ان کے گھر کے قریب ایک کنٹینر میں پناہ گاہ بنا دی گئی۔ اس سب کا کیا فائدہ ہے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ مہذب دنیا میں سزا کاٹتے مجرموں کے بھی کچھ حقوق تصور کئے جاتے ہیں۔ بہرحال اس حکومت کو احتیاط لازم ہے ورنہ تاریخ انہیں کئی رویوں کے بگاڑ میں مورد الزام ٹھہرائے گی۔