روح مشرق بدن کی تلاش

یہ بات کسی بھی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں ہونی چاہئے کہ دنیا میں پاکستان کا اگر کوئی سچا اور مخلص دوست تھا’ ہے اور رہے گا تو وہ عظیم ترکی ہے۔ بھلے چین اور سعودی عرب بھی ہیں’ لیکن یہ دونوں بھی اپنے مفادات دیکھ کر ہی پاکستان سے دوستی نبھاتے ہیں اور ان دونوں کی دوستی کی بنیاد میں پاکستان کی ایسی قربانیاں شامل ہیں کہ بعض اوقات پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچا ہے اور بعض اوقات ان دوستیوں کی نزاکت کے پیش نظر دل کی بات زبان پر نہیں لاسکتا’ مثلاً چین میں سنکیانگ کے مسلمانوں کی کسمپرسی پر پاکستانیوں کے جذبات دل ہی دل میں گُھٹ کے رہے ہیں۔ اسی طرح سعودی عرب نے کبھی بھی پاکستان میں اس طرح سرمایہ کاری نہیں کی جس طرح بھارت میں اربوں ڈالر لٹائے اور اُلٹا پانچ چھ ارب ڈالر کے عوض پاکستان کی خارجہ پالیسی اور خودمختاری میں اتنے دخیل ہونے لگے کہ عمران خان کوالالمپور سمٹ میں شرکت سے وعدہ کے باوجود محروم رہ گئے۔
اس وقت اچھی بات یہ ہے کہ عمران خان نے ملائیشیا کا دورہ کرکے سمٹ میں اپنی مجبوری کے تحت عدم شرکت کی کچھ نہ کچھ تلافی کی ورنہ مہاتیر محمد نے اُمت مسلمہ اور پاکستان کی محبت میں مقبوضہ کشمیر پر جو مؤقف اپنایا اس سے ملائیشیا کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ جس کا کچھ مداوا پام آئل کی پاکستان درآمد سے ہوگا۔ اسی طرح ترکی کے صدر رجل وبطل عظیم رجب طیب اردگان نے چوتھی بار پاکستان کے متحدہ پارلیمان سے خطاب کرکے ثابت کیا کہ واقعی ترکی اور پاکستان کی دوستی ازل سے ہے۔ یہ محبت دونوں ملکوں کے عوام کی خمیر میں ہے۔ ترکمانوں کیساتھ عجم اور ظہیرالدین بابر سے بہادر شاہ ظفر تک ہندوستان کے حکمرانوں کے سبب کی بنیاد پر ایک عجیب مضبوط رشتہ وجود میں آیا ہے اور اس کی اصل مضبوطی جناب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دونوں ملکوں کے عوام کی بے پناہ محبت وعقیدت ہے۔
طیب اردگان نے پاکستان کے حالیہ دورہ میں پارلیمنٹ سے اپنے خطاب میں جن باتوں کی طرف اشارہ کیا اس میں ماضی اور مستقبل کے خدوخال اور ارادے واضح طور پر سامنے آتے ہیں۔ پاکستانیوں سے محبت کے بارے میں کیا جملہ کہا کہ ”ہم پاکستانیوں سے محبت نہیں کریں گے تو کس سے کریں گے؟” ہمیں پہلی جنگ عظیم کے دوران غلام ہندوستان کے مسلمان بھائیوں کی محبت اور دعائیں ابھی تک یاد ہیں اور ہمیشہ یاد رہیں گی۔ ہمیں مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی اور ہندوستانی مسلمانوں کی تحریک خلافت اور اس میں مسلمان خواتین کا اپنے زیورات کا چندہ بھی یاد ہے۔ مولانا شبلی نعمانی نے ان ہی دنوں کے حالات کے پیش منظر میں کہا تھا
ہیں جہاں میں مظفر ومنصور ترک
عجب لوگ ہیں چشم بددور ترک
طیب اردگان کا حالیہ دورہ پاکستان تاریخ ساز ہے۔ اس لئے انہوں نے جہاں ایک طرف ترک وپاکستانی قوم کے ماضی کو تازہ کیا تو دوسری طرف دونوں ملکوں کے درمیان تعلیمی’ معاشی’ صنعتی اور دفاعی وتجارتی تعلقات کو مزید بڑھانے کی بات کی۔ ترکی اور پاکستان کے درمیان پانچ سو ملین ڈالر کی تجارت کو پانچ بلین تک لے جانے کا ارادہ کیا۔ انہوں نے ایک بہت اہم بات یہ بھی کی کہ ترقی ایک دن میں نہیں ہوتی اس کیلئے صبر اور تسلسل کی ضرورت ہوتی ہے، اسی تناظر میں آپ نے پاکستانی سیاستدانوں کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا کہ پاکستانی قوم کیلئے اتحاد بہت ضروری ہے۔ ان کو معلوم تھا کہ قوم متحد ہے لیکن سیاستدان ان کو پارٹیوں میں تقسیم کرکے قوم کا بہت نقصان کرچکے ہیں۔
محترم رجب طیب اردگان کو اپنی اور اسلامی تاریخ جس طرح یاد ہے کاش ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کو بھی اس کی کوئی شدھ بدھ ہوتی تو بہتر ہوتا۔ کس خوبی سے آپ نے مولانا محمد علی جوہر کا ذکر کیا اور علامہ محمد اقبال نے جوہر کی حیات میں ان کو جو خراج تحسین پیش کی ہے وہ بہت کم شخصیات کو نصیب ہوئی ہے۔ لیکن افسوس صدافسوس کہ پاکستان کے نصاب سے ان کا ذکر ہی ختم ہوا علامہ اقبال نے محمد علی جوہر کے بارے میں جب وہ انگریز کی قید میں تھے کن بلند خیالات کا اظہار فرمایا تھا۔
ہے اسیری اعتبار افزا جو ہو فطرت بلند
قطرۂ نیساں ہے زندان صدف سے ارجمند
مشک اذفر چیز کیا ہے، اک لہو کی بوند ہے
مشک بن جاتی ہے ہو کر نافہ آہو میں بند
ہر کسی کی تربیت کرتی نہیں قدرت، مگر
کم ہیں وہ طائر کہ ہیں دام وقفس سے بہرہ مند
شہپر زاغ وزغن در بند قید وصید نیست
ایں سعادت قسمت شہباز وشاہیں کردہ اند
پھر علامہ محمد اقبال کا ذکر خیر جس پر عقیدت اور والہانہ انداز میں کہا کہ جب ترکمان سخت کوش خاک وخون میں لوٹ رہے تھے تو علامہ لاہور میں تڑپ رہے تھے۔ علامہ محمد اقبال کے وہ اشعار طیب اردوان کو یاد تھے لیکن پاکستان کے کسی سیاستدان کی قسمت میں یہ سعادت کم ہی آئی ہے۔ علامہ اقبال نے انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں لاہور میں جو اشعار سنائے تھے اس کی بازگشت بھی طیب اردوان کو سنائی دے رہی تھی۔
نکل کے باغِ جہاں سے برنگ بو آیا
ہمارے واسطے کیا تحفہ لے کے تو آیا؟
جھلکتی ہے تیری امت کے آبرو اس میں
طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہو اس میں
یہ پوری نظم طوالت کے خوف سے سپرد قلم نہ کرسکا ورنہ یہی متاع گراں ہے جو آج کی نئی نسلوں کو منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔