سائبر کرائمز کے سدباب کیلئے اقدامات کی ضرورت

پاکستان میں سائبر کرائمز کے اضافے کے پیش نظر چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ حکومت کو سخت ترین سائبر قوانین بنانے ہوں گے’ ہمارے اداروںکو سائبر کرائمز کو عام جرم سے ہٹ کر سمجھنا چاہیے اور متاثرین کو جلد از جلد ریلیف مہیا کرنا ہو گا۔ موجودہ دور ڈیجیٹل دنیا کا دور کہلاتا ہے’ انٹرنیٹ اور سمارٹ فونز کی بدولت کاروباری لین دین اور معمولی گھریلو اشیاء کی آن لائن شاپنگ کا فروغ زور پکڑ رہا ہے’ ماہرین کے مطابق 5Gآنے اور انٹرنیٹ فری ہونے کے بعد زندگی کے معاملات کا ڈھانچہ مکمل طور پر ڈیجیٹل پر منتقل ہو جائیگا ‘ امریکہ ‘ یورپ اور دیگر کئی ممالک میں تو ابھی سے سب کچھ آن لائن ہو رہا ہے ‘ اس ضمن میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب لین دین اور شاپنگ آن لائن ہو جائے گی تو اس میں لازمی طور پر دھوکہ دہی کے واقعات بھی سامنے آئیں گے، سائبر کرائمز سے نمٹنے کیلئے سائبر قوانین کا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ عوام کو سائبر کرائمز سے بچایا جا سکے۔ سائبر قوانین کیساتھ ساتھ ضروری ہے کہ حکومتی سطح پر آگہی مہم کا آغاز کیا جائے ‘ عوام کو یہ بھی بتایا جانا ضروری ہے کہ اگر ان پر سائبر حملہ ہو تو اس کی شکایت کہاں درج کرانی چاہیے ‘ اسی طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سائبر قوانین ‘ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل بزنس سے متعلق ٹریننگ دینی ہو گی۔ پاکستان میں سائبر کرائمز کے حوالے سے پہلا قانون 2016ء میں بنا لیکن افسوس کہ اس کے بعد اس سلسلے میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آ سکی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر سمجھا جائے اور اس کی روشنی میں بہترین سائبر قوانین ترتیب دئیے جائیں تاکہ ہم سائبر کرائمز سے اپنے عوام کو بچا سکیں۔
سول سروس میں اصلاحات کا احسن اقدام
پاکستان میں گورننس کے نظام کا مکمل انحصار سول سروس پر ہوتاہے جس کے ذریعے حکومتی پالیسیوں کے اثرات عوام تک پہنچتے ہیں ‘ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں سول سروس میں اصلاحات کی بات کی جاتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر ہر دور حکومت میں سول سروس میں اصلاحات کے حوالے سے کچھ نہ کچھ کام ضرور ہوا مگر مطلوبہ اہداف کا حصول اور کارکردگی میں بہتری ہنوز دور دکھائی دیتی ہے۔ سول سروس میں اصلاحات کا مطلب یہ ہے کہ سرکاری اداروں اور ان کے نظام میں بہتری لائی جائے تاکہ سرکاری امور بہتر انداز میں چلائے جاسکیں اور عوام کو خدمات کی فراہمی کا عمل بھی بہتر بنایا جا سکے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے اس سلسلے میں اہم فیصلہ کیا ہے کہ سول سرونٹس کی ترقی سے متعلقہ قوانین کے تحت پروموشن کیلئے معیار میں اضافہ کیا گیا ہے اور اسے معیار کے مطابق بھی کر دیا گیا ہے’ ترقی کے امیدوار افسر کو اپنے اثاثوں کی ڈکلریشن جاری کرنے کے علاوہ پروموشن بورڈ سے 15کے مقابلے میں 30نمبروں میں سے اطمینان بخش نمبر حاصل کرنے ہوں گے یوں سول سرونٹس کی ترقی کارکردگی سے مشروط کر دی گئی ہے’ مستعد اور قابل افسران ملازمت پر برقرار رہیں گے جبکہ کارکردگی نہ دکھانے والے افسران کو فارغ کر دیا جائے گا۔ سول سرونٹس کی کارکردگی سے متعلق قوانین میں اصلاحات پاکستان تحریک انصاف کے منشور میں عوام سے کیے گئے اس وعدے پر عمل درآمد کیلئے کیا گیا ہے جس میں کہاگیا تھا کہ درست ملازمت’ درست فرد کیلئے ہوگی ۔ امید کی جانی چاہیے کہ سول سروس میں اصلاحات کے بعد سول سرونٹس کی کارکردگی میں بہتری آئے گی جو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا باعث بنے گی۔
خیبرپختونخوا کے عوام عملی اقدامات کے منتظر ہیں
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے ہری پور اور خانپور کے دورے کے دوران 35کلومیٹر طویل ترنائو کوہالہ بالا روڈ کا افتتاح کیا جس سے آس پاس کے تقریباً 55دیہات کے عوام مستفید ہوں گے۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ محمود خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے عوامی فلاحی منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت نے حقیقی معنوں میں صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے اور صوبے میں سیاحت کے فروغ کیلئے عملی اقدامات اُٹھائے جا رہے ہیں ۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ محمود خان نے گزشتہ حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے ملک میں کرپشن اور لوٹ مار کے سوا کچھ نہیں کیا۔ خانپور میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کے اقدامات کی تحسین کی جانی چاہیے’ تاہم ضروری معلوم ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت صوبے کی تعمیر و ترقی پر اپنی توجہ مرکوز کرے کیونکہ گزشتہ 5سالوں اور موجودہ دو سالوں کو ملا کر مجموعی طور پر پی ٹی آئی کو صوبے میں حکومت کرتے ہوئے 7سال کا عرصہ بیت چکا ہے اور اگر حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرتی ہے تو خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کے 10سال پورے ہوں گے۔ اس تناظر میں ماضی کے حکمرانوں کو حالات کا ذمہ دار ٹھہرانا قرین قیاس نہ ہو گا کیونکہ پلاننگ سے لیکر منصوبوں کی تکمیل کیلئے 7سال کا عرصہ ہرگزکم وقت نہیں ہے، صوبے کے عوام بھی اب یہی چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت حالات کا ذمہ دار ماضی کے حکمرانوں کو ٹھہرانے کی بجائے عملی اقدامات اُٹھائے۔
پی ٹی آئی کے بانی رہنما نعیم الحق کی رحلت
وزیر اعظم عمران خان کے قریبی ساتھی نعیم الحق اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ‘ وہ کچھ عرصہ سے کینسر کے عارضے میں مبتلا تھے۔ نعیم الحق پارٹی کے نظرئیے کے مطابق پاکستان میں حقیقی تبدیلی لانے کیلئے ہر وقت کوشاں رہتے تھے اور ان کا شمار وزیر اعظم عمران خان کے انتہائی معتمد اور قریب ترین لوگوںمیں ہوتا تھا۔ نعیم الحق پاکستان کی خدمت کرنے کے جذبے سے سرشارتھے اور انہیں یقین تھا کہ ملک میں مثبت تبدیلی صرف جمہوری ‘ سیاسی نظام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس سوچ کیساتھ ہی انہوں نے 1984ء میں سیاست میں قدم رکھا اور تحریک استقلال پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ 1996ء میں عمران خان نے جب سیاست میں قدم رکھا اور پاکستان میں پی ٹی آئی کی بنیاد رکھی تو نعیم الحق بھی ان کیساتھ اس پارٹی کو بنانے والے بانی رہنمائوں میں شامل تھے۔ 2008ء میں اہلیہ کی وفات کے بعد نعیم الحق نے خود کو تحریک انصاف کیلئے وقف کر دیا تھا’انہیں 2012ء میں پارٹی چیئرمین کا چیف آف سٹاف مقرر کیا گیا ۔ وہ پارٹی کی کور کمیٹی کے رکن ہونے کیساتھ ساتھ پارٹی کارکنان میں بے حد مقبول تھے۔ نعیم الحق تحریک انصاف کے مستقبل اور ترقی یافتہ پاکستان کیلئے ہمیشہ فکر مند رہتے تھے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کی بشری لغزشوں سے درگزر کرتے ہوئے ان کی مغفرت فرمائے۔