لیبیا کے حوالے سے ایردوآن کے الزامات پر روسی نائب وزیر خارجہ کا جواب

شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں تنازع کے پس منظر میں انقرہ اور ماسکو کے درمیان الزامات کا تبادلہ جاری ہے۔

اگرچہ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے میونخ سیکورٹی کانفرنس میں خطاب کے دوران باور کرایا کہ روس اور ترکی کے درمیان تعلقات اچھے ہیں۔ تاہم ترکی کے صدر کا حالیہ بیان دونوں ملکوں کے بیچ اختلافات کو جنم دے سکتا ہے۔ رجب طیب ایردوآن نے اپنے بیان میں کہا کہ روس ،،، لیبیا میں تنازع کو چلا رہا ہے۔

ایردوآن کے بیان کے جواب میں روس کے نائب وزیر خارجہ میخائیل بوگدانوف نے زور دے کر کہا کہ ہے کہ رجب طیب ایردوآن کا دعوی حقیقت سے دور ہے۔ بوگدانوف مشرق وسطی اور شمالی افریقا کے لیے روسی صدر کے خصوصی ایلچی کے منصب پر بھی کام کر رہے ہیں۔ ہفتے کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ “(ایردوآن کی) یہ بات حقیقت سے موافقت نہیں رکھتی ،،، نہ جانے یہ بات کون لے کر آیا ہے؟”۔

اس سے قبل ترک اخبار حُریت نے ایرادوآن کا یہ بیان نقل کیا تھا کہ روسی فوجی قیادت کے نمائندے لیبیا میں نجی عسکری کمپنیوں کی سرگرمیوں کی قیادت کر رہے ہیں۔ ایردوآن کا کہنا تھا کہ روس “اعلی ترین سطح پر” لیبیا میں تنازع کو چلا رہا ہے۔ ساتھ ہی ترکی کے صدر نے زور دیا کہ انقرہ فائز السراج کے زیر صدارت لیبیا کی وفاق حکومت کی سپورٹ جاری رکھے گا۔

یاد رہے کہ شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں جھڑپوں میں اضافے کے ساتھ ہی روس اور ترکی کے تعلقات پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

گذشتہ ہفتے بھی فریقین کے بیچ شدید الزامات کا تبادلہ دیکھنے میں آیا۔ روس کے مطابق ترکی سُوچی معاہدے کی شقوں پر عمل درامد میں ناکام ہو گیا جس کے نتیجے میں شام میں بشار حکومت ادلب صوبے میں فوجی آپریشن کرنے کے لیے حرکت میں آ گئی۔ روس نے ترکی پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ شام میں “ہیئۃ تحرير الشام” (سابقہ النصرہ فرنٹ ، شام میں القاعدہ کی شاخ) کو سپورٹ کر رہا ہے۔

روس نے بدھ کے روز ترکی پر الزام عائد کیا کہ وہ شام کے حوالے سے ماسکو کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کی پاسداری نہیں کر رہا ہے۔ روسی کرملن ہاؤس اور وزارت دفاع نے گذشتہ ہفتے ترکی پر بدنیتی کا الزام بھی لگایا۔ کرملن کے مطابق ترکی نے ادلب میں شدت پسندوں کو “نارملائز” کرنے کے حوالے سے اپنے وعدوں کو پورا نہیں کیا ،،، جو کہ ناقابل قبول امر ہے۔

کرملن کے ترجمان دمتری بیسکوف کا کہنا تھا کہ “معاہدے کے تحت ترکی نے ادلب میں دہشت گرد جماعتوں کو نارملائز کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ تاہم افسوس ناک بات یہ ہے کہ ادلب میں دہشت گرد جماعتیں ابھی تک شامی فوج پر حملے کر رہی ہیں اور ساتھ ہی ہماری عسکری تنصیبات کے خلاف معاند کارروائیاں بھی کر رہی ہیں”۔

یاد رہے کہ روس نے 2018 میں ترکی کے ساتھ ایک معاہدے طے کیا تھا۔ اس کے تحت ادلب صوبے میں ایک “ہتھیاروں سے خالی علاقے” کا قیام عمل میں آنا تھا۔ تاہم یہ معاہدہ اور دنوں ملکوں کے بیچ دیگر سمجھوتے علاقے میں کشیدگی میں اضافے کے ساتھ دباؤ کا شکار ہو گئے۔