مشرقیات

حضرت لقمان علیہ السلام کسی سردار کے یہاں ملازم تھے ، آپ کے اعلیٰ اخلاق و کردار کی وجہ سے آپ کا سردار آپ سے محبت کرنے لگا ، وہ اس وقت تک نہ کھاتا جب تک پہلے حضرت لقمان نہ کھالیتے ، وہ سردار آپ کے چھوڑے ہوئے کھانے سے ہی کھالینا اپنی سعادت سمجھتا ، ایک دن سردار کے پاس خربوزہ آیا ، سردار نے حضرت لقمان کو بلوا کر خود کاٹ کاٹ کر انہیں قاشیں دینے لگا اور بڑی محبت بھری ادا کے ساتھ حضرت کو کھاتا دیکھ کر خوش ہو رہا تھا ۔ حضرت لقمان بھی مسکراکر اسکی محبت کا جواب دے رہے تھے ۔
ایک قاش باقی رہ گئی تو سردار نے کہا : اجازت ہو یہ میں کھالوں ؟ آپ نے اجازت دیدی ، اس نے وہ قاش منہ میں رکھی ، وہ اتنی کڑوی تھی کہ سردار کے منہ میں چھالیں پڑگئیں اور وہ نازک طبع بے ہوش ہو گیا ، جب افاقہ ہوا تو عرض کی : اے میرے محبوب ! آپ نے اس کی کڑواہٹ کس طرح برداشت کی ؟ حضرت نے فرمایا : میرے آقا ! آپ کے ہاتھ سے ہزاروں نعمتیں کھائی ہیں ، جن کے شکر سے میری کمر جھک گئی ہے ، اسی ہاتھ سے آج اگر کڑوی چیز مل رہی ہے تو میں منہ کیوں ،پھیردوں ؟ اسی طرح ہمیں بھی سوچنا چاہیئے کہ لاکھوں نعمتیں ہمیں روز مل رہی ہیں ، اگر ذرا تکلیف آجائے ہم فوراً ناشکرے بن جاتے ہیں ۔ رب تعالیٰ کے انعامات کو بھول جاتے ہیں ، حق تعالیٰ حکیم بھی ہے حاکم بھی اور حکیم مرض کے موافق ہی دوا دیتا ہے ، کبھی دوائی میں حلوہ ، کبھی بادام اور کبھی گلواور نیم کے پتے کھلا دیتا ہے ، دونوں حالتوں میں فائدہ مریض ہی کا ہوتا ہے ۔ ایک حدیث میں آتا ہے : جب دنیا کے مصائب پر صبر کے عوض قیامت کے دن ثواب ملے گا تو ہر کوئی تمنا کرے گا کاش دنیا میں میری کھال قینچی سے کاٹ دی جاتی ۔ اگر ہمیشہ عافیت رہے تو مزاج عبد یت سے ہٹناشروع ہو جاتا ہے ، بغیر تکلیف کے آہ زاری پیدا نہیں ہوتی ۔ حدیث قدسی ہے : میں ٹوٹے دلوں کے پاس رہتا ہوں ، بندہ کاکام اپنے رب کا شکر ادا کرنا ہے ۔
(سنہرے واقعات)
ایک مرتبہ حضرت ابن الزبیر نے اپنی خالہ ام المومنین حضرت عائشہ کی خدمت میں دو تھیلیوں میں بھرکر اسی ہزار درہم روانہ فرمائے ۔
حضرت سیدہ عائشہ اس دن روزہ سے تھیں ، مگر صبح سے طبق میں درہم رکھ کر فقراء اور محتاجین کو تقسیم کرنے تشریف فرما ہوئیں اور شام تک ساری رقم تقسیم فرمادی ۔ ایک درہم بھی باقی نہیں رہا شام کو خادمہ افطار کے لئے حسب معمول روٹی اور زیتون لائی اور عرض کیا کہ اماں جان ! اگر آپ اس مال میں سے ایک درہم بچا کر اس کا گوشت منگالیتیں تو آج اسی سے افطار کرلیا جاتا ۔ حضرت عائشہ نے فرمایا : اگر تم پہلے سے یا ددلاتیں تو میں تمہاری خواہش پوری کردیتی ۔
(التر غیب والترہیب للیافعی )