پچھتاوے سے بچنا ہے تو کتاب پڑھ لیں

کوئی بھی تخلیق بھلے وہ کوئی پینٹنگ ہو یا تحریر آپ کے دل پر جب ہی اثر کرتی ہے جب آپ خود کو اس کا حصہ سمجھ سکیں، اسے محسوس کر سکیں۔ خود کو اس میں کھڑا پائیں، یہ تب ہی ممکن ہے کہ یا تو تخلیق کار دل کی اتھاہ گہرائیوں سے تخلیق کو وجود میں لائے یا پھر وہ یہ بات جانتا اور سمجھتا ہو کہ اس کے سامعین/ناظرین/قارئین کون ہیں اور اس سے کیا توقع رکھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بہت سی تحریریں پڑھنے والوں کے سر سے یوں ہی گزر جاتی ہیں جیسے کوئی دم دار ستارہ رات کی تاریکی میں اپنی راہ لگ لے، بجلی کی چکا چوند سے، ڈھونڈنا چاہیں بھی تو کوئی سراغ ہاتھ نہ آئے۔
ہم سے نالائق نکمے لکھاریوں کو یہ کہنا جچتا تو نہیں لیکن حق بات یہی ہے کہ کسی کو اس بات سے غرض ہی نہیں کہ پڑھنے والے کے دل میں اُترنے کی کوشش کرے۔ اپنے دل کا حال الفاظ سے نہیں دل کی زبان سے بیان کرے۔
لکھنے والوں کا گلہ بھی اپنی جگہ بجا ہے۔ سب کا یہی رونا ہے کہ پڑھنے والے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ جب تک لوگ کتابیں نہیں پڑھیں گے وہ کسی عام تحریر کو بھی کیونکر سمجھ پائیں گے۔
جس طرح ہمیں پڑھنے والوں کے گلے سے اتفاق ہے اسی طرح صاحب طرز لکھاریوں کی بات کی نفی کا جی بھی نہیں چاہتا۔ یہ بات واقعی سچ ہے کہ ہمارے معاشرے سے کتب بینی یکسر عنقا ہو چکی ہے (اگر مبالغہ محسوس ہوا ہو تو گستاخی معاف کیجئے گا)۔
کتابوں کی دکانیں یا تو رہیں نہیں یا ہیں تو ان پر جس قسم کی کتب دستیاب ہیں ان سے ہم سب بخوبی واقف ہیں۔ ابھی پچھلے مہینے ہی لاہور میں ایک معروف کتابوں کی دکان پر جانے کا اتفاق ہوا جس کو دیکھ کر یوں لگا کہ شاید یہی اس تیز ہوا کی شمع ثابت ہو رہی ہے (خدارا نام کھلم کھلا مت پوچھئے گا۔) جیسے ہی دکان میں داخل ہوئے پہلا خیال یہی آیا کہ اردو کی چند کتابیں تلاش کی جائیں۔
ایک ایک کونا چھان مارا، جو دو چار ناول نظر آئے وہ بھی وہی تھے جن پر بنے ٹیلیویژن ڈرامے خاصے مقبول تھے۔ ناچار دکان کے کاؤنٹر پر بیٹھے صاحب سے استفسار کیا کہ اردو کی کتابیں کہاں ملیں گی؟
وہ صاحب جھٹ بولے ”اردو بازار”
”ہمارے کہنے کا مطلب تھا کہ آپ کی دکان میں کہاں رکھی ہیں؟”
”آپ نے وہ داہنے کونے میں دیکھا؟”
”جی، وہاں تو بس اکا دکا ہی ہیں۔”
”بس یہی ہیں”
”اتنی بڑی دکان ہے آپ کی، اس قدر کم اُردو کی کتابیں کیوں ہیں ؟”
میڈم، آج کل اُردو پڑھتا کون ہے؟ اب تو کتاب بھی کوئی نہیں لیتا۔
جی چاہا کہ ان کو بتائیں کہ گلبرگ سے باہر بھی دنیا ہے۔ پھر یہی خیال آیا کہ وہاں بھی کسی کو کیا پڑی ہے کہ کتاب خریدے، میکڈونلڈ کا برگر نہ لے لے؟ نئی جیکٹ نہ لے لے؟ اول تو کتب بینی ہی گئے زمانوں کی بات ہو چکی ہے اور جو اکا دکا کتابیں بک بھی رہی ہیں وہ انگریزی کی ہیں۔ نئی نسل میں جو اکا دکا لکھاری آئے ہیں وہ بھی انگریزی زبان پر ہی موقوف ہیں۔
کہنا عجیب لگتا ہے کہ ہمیں لگ رہا ہے ہم بھی وہی بزرگ ہیں جنہیں عہد رفتہ کی ہر بات بھاتی ہے لیکن صاحب، ہمیں بھی بچپن میں کتب بینی کی عادت یوں ہی پڑی تھی کہ موبائل فون تو تھا نہیں۔ کتابیں ہی نئی دنیائیں دکھانے کا موجب تھیں۔
اب تو پڑھنے والوں کیلئے آڈیو کتب اور ڈیجیٹل ریڈنگ جیسی سہولیات آچکی ہیں۔ اگر زمانہ ڈیجیٹل ہے تو ہمارے ہاں یہ ڈیجیٹل کتابیں بھی کس بھاؤ بک رہی ہیں؟ ہر کسی کو یہی غرض ہے کہ جو فارغ وقت ہو وہ فیس بک یا ٹک ٹاک کی شان میں پیش کر دیا جائے۔ نیٹ فلکس پر فلم دیکھ لی جائے۔
لیکن شاید ہماری یہ دلیل بھی بودی ہے کہ مغرب کا رخ کیجئے تو کتابوں کی دکانوں پر وہی رش ہوتا ہے جو ہمارے ہاں کپڑوں کی دکانوں پر ہوتا ہے۔ وہاں کی لائبریریاں اس قدر پر رونق ہیں کہ یقین نہیں آتا۔ موبائل فون تو ان کے پاس ہم سے کہیں پہلے کا آچکا تھا۔ انہوں نے کتاب سے رشتہ کیوں نہیں توڑا؟ یہ ٹرینوں میں کتابیں پڑھتے کیوں نظر آتے ہیں؟
شاید یہی وجہ ہے کہ ہم من حیث القوم جس زوال کی جانب تیزی سے گامزن ہیں وہ ہمارا ہی کیا دھرا ہے۔ ہم ہر لطیف جذبے سے عاری لوگ کیسے دیکھتے ہی دیکھتے مکمل کھوکھلے ہوگئے۔ کتاب سے رشتہ کب ٹوٹا، کیسے ٹوٹا، شاید آپ ہم سے بہتر بتا سکیں۔ اگر وقت ملے تو بتائیے گا۔ شاید کوئی حل نکل آئے۔ ہماری یہ کہنے کی نہ تو اوقات ہے اور نہ ہی بساط کہ اپنے بچوں کو کتاب کے قریب کیجئے۔ انہیں کہانیاں سنائیے۔ ان کی زندگیاں محض موبائل فون اور آئی پیڈ کی ویڈیوز تک محدود مت کر دیجئے۔ انہیں کتاب کی تکریم سکھائیے۔ ورنہ وہی حال ہوگا جو اس وقت ہم سب کا ہے۔ ان کو بھی کبھی کسی دقیق تحریر کی سمجھ نہیں آئے گی۔ وہ بھی آپ کی طرح ہم سے نالائق لکھاریوں کو پڑھیں گے اور اپنا سر دھنیں گے۔ شیئر کریں گے، وٹس ایپ اور فیس بک پر لکھی ہر بات کو حرف آخر جانیں گے۔ ان کو بھی یہی لگے گا کہ زندگی صرف ایک ننھی سی سکرین کا نام ہے۔ ہمارا تو جو بگڑا سو بگڑا اپنی آئندہ نسل کو تو اس سطحی دلدل میں ڈوبنے سے بچایا جا سکتا ہے۔
(بشکریہ: اردو نیوز)