ہنگومیں8سالہ بچی زیادتی کے بعدقتل،ورثاء ،اہل علاقہ کا احتجاج

ہنگو( بیورورپورٹ) ہنگو کے علاقے سروخیل میں آٹھ سالہ بچی کو زیادتی کے بعد بیدردی سے قتل کر دیا گیا،ورثاء اور اہل علاقہ نے دلخراش واقعہ پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کوہاٹ ہنگو پاڑہ چنار شاہراہ بند کرکے ملزموں کی گرفتاری اور سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے،لواحقین کے مطابق آٹھ سالہ مدیحہ گزشتہ شام سے لاپتہ ہوئی تھی اور صبح مقامی شاملات سے اس کی قتل شدہ لاش ملی،ورثاء کے مطابق مقتولہ کے جسم پر چاقو کے نشانات تھے، ایس ایچ او مجاہد حسین کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی اصل صورتحال سامنے آئیگی۔انہوں نے کہا کہ دفعہ 302 اور چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت نا معلوم ملزموں کیخلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، دوسری طرف ایس پی انوسٹی گیشن زین خان جدون نے تین رکنی جے آئی ٹی تشکیل دیکر تین دن کے اندر رپورٹ طلب کر لی ،دلخراش واقعہ پر ہنگو کی فضا سو گوار ہے اور عوام نے سروخیل کے مقام پر احتجاج کرتے ہوئے جرنیلی روڈ کو بند کر دیا اور ملزموں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ڈپٹی کمشنر ہنگو ،ڈی پی او شاہد احمد خان نے معززین اور ورثاء سے کامیاب مذاکرات کئے جس کے بعد قومی شاہراہ ٹریفک کیلئے کھول دی گئی۔ڈی پی او شاہد احمد خان کے احکامات پر ملزموں کی گرفتاری کیلئے سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے ۔ہسپتال ذرائع کے مطابق بچی کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق نو سالہ مدیحہ کو جنسی زیادتی کے بعد فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا ہے جبکہ بچی کا گلہ بھی دبایا گیا ہے، جسم پر تشدد کے نشانات بھی ہیں ، ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ڈاکٹر اسرار حسین نے مزید بتایا کہ بچی کے نمونے ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے لیبارٹری بھیج دیئے گئے ہیں جبکہ فائنل رپورٹ 24گھنٹوں میں آئیگی۔