اقوام متحدہ کے سیکریٹر ی جنرل کی تجویز اور بھارت کا انکار

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتو ینو گوتریش نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ہے، مذاکرات ہی مسئلہ کا حل ہیں۔ کنٹرول لائن پر صبروتحمل کا مظاہرہ کیا جائے، دونوں ملکوں میں امن کیلئے اقوام متحدہ کردار ادا کر سکتا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے تنازعہ کشمیر کے حل کی پیشکش کو بھارت کی جانب سے رد کیا گیا حالانکہ بھارت استصواب رائے کرانے کی قرارداد پر عملدرآمد کا پابند ہے، یہ بات ضرور ہے کہ اس ذمہ داروں کی ادائیگی میں خود اقوام متحدہ بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں اس درجے کی کوششوں اور سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا جس کی ضرورت ہے۔بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے، کشمیریوں پر مظالم میں اضافہ اور ان کو محصور رکھے جانے کے بعد سے اقوام متحدہ کی ذمہ داریوں کے تقاضے بڑھ چکے ہیں لہٰذا اقوام عالم ہنوز اس معاملے میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے میں ناکام ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا سفارتی لب ولہجہ کا نرم بیان ہے جس قسم کے حالات مقبوضہ کشمیر میں یہاں تک کہ بھارت میں بھی مسلمانوں پر جس قسم کی زیادتیوں اور نا انصافیوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو کم از کم ان کی مذمت کرنی چاہئے تھی۔ہم سمجھتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کا حل بلاشبہ مذاکرات ہی میں مضمر ہیں لیکن اس کیلئے بھارت کو نہ صرف مذاکرات کیلئے ماحول پیدا کرنے اور مذاکرات پر آمادگی کی ضرورت ہے بلکہ اس سے قبل بھارت کو مقبوضہ کشمیر کی پرانی حیثیت بحال کرنے کی ضرورت ہے مگر بھارت مذاکرات سے ہی سرے سے عاری نہیں بلکہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں مسلسل اضافے کے باعث حالات پیدا کر رہا ہے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو کرتارپور راہداری منصوبے پر پاکستان کے اقدامات اور بھارت کی جانب سے اقلیتوں کو شہریت کے حق سے محروم کرنے کیلئے قانون سازی کا جو تقابلی جائزہ لیا ہے وہ بھارت کے کردار کی ایک مثال ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا اس صورتحال میں دونوں ملکوں کے درمیان امن کیلئے کردارمحض خواہش کا اظہار کافی نہیں بلکہ ایسے اقدامات کی ضرورت ہے کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔بھارت جس طرح مقبوضہ ریاست میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظرانداز کرتے ہوئے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررہا ہے اس کا اقوام عالم کو نوٹس لینا چاہئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کی خرابی اور بھارت مظالم کی روک تھام میں اقوام متحدہ اس کردار کا مظاہرہ نہیں کر رہا ہے جو اس کی ذمہ داری بنتی ہے۔ جب تک اقوام متحدہ اس ذمہ داری کی ادائیگی میں سنجیدہ کردار ادا نہیں کرتا دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میںکمی نہیں آسکتی اور خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کے عوام اسی طرح مصائب کا شکار رہیں گے۔