ترکی میں ایردوآن رجیم کے مظالم پرخاتون دانشور چلا اٹھیں

جرمنی میں مقیم ایک خاتون ترک ناول نگار اور دانشور اصلی ایردوآن نے صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں آزادی اور انسانی حقوق کا واویلا کرنے والے طیب ایردوآن کی حکومت نے اپنے ملک میں آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹ رکھا ہے۔

مسز اصلی ایردوآن کو گذشتہ جمعہ کے روز استنبول کی ایک عدالت نے ملکی سالمیت پر سمجھوتہ کرنے اور دہشت گرد تنظیم کی رکنیت اختیار کرنے کے الزامات میں بری کردیا گیا تھا۔ تاہم اس کے باوجود وہ اپنے ملک میں واپس آنے سے کتراتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں ڈر ہے کہ ترکی واپسی پرانہیں دوبارہ گرفتار کرلیا جائے گا۔

ترک ناول نگار اصلی اردگان نے کہا کہ مُجھے مستقبل قریب میں ترکی واپس جانے کا کوئی موقع نظر نہیں آرہا ہے۔ گذشتہ اگست سے میں بہت بیمار ہوں۔ پچھلے دسمبر کے بعد سے میں نے دو بار اپنی سرجری کرائی۔ موجودہ حالت میں ترکی واپس جانا سزائے موت قبول کرنے کے مترادف ہے۔

اصلی نے مزید کہا کہ عدالت کے حکم پربہت سے حکومت کے مخالفین کو رہا کیا گیا تھا لیکن انھیں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔ خیال رہے کہ اصلی ایردوآن نے سنہ 2018ء میں ناول نگاری اور ترجمہ کے فن میں”سائمن ڈی بیوویر” ایوارڈ جیتا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ انقرہ میرے کسی بھی انٹرویو کے نتیجے میں تین سال کے لیے آسانی سے مجھے گرفتار کرسکتا ہے جب کہ میں ایک سو سے زائد بار حکومت پر تنقید کرچکی ہوں۔ جرمنی روانگی سے قبل وہ 130 دن تک ترکی کی ایک جیل میں قید رہ چکی ہیں۔

اپنی رہائی کے بارے میں انہوں‌ں نے کہا کہ مجھے اپنی رہائی کا یقین نہیں‌ہو رہا تھا۔

جب میری والدہ ، میرے دوست ، اور میرا دفاعی وکیل خوشی منا رہے تھے تو مجھے کوئی ہوش نہیں‌تھا۔

انہوں نے مزید استفسار کیا کہ یہ ساری ناانصافی کیوں؟ ہمیں یہ سب کچھ کیوں‌جھیلنا پڑرہا ہے۔