ماحول سے پارلیمنٹ کی آلودگی تک

اکیسویں صدی کے شروع میں ہی ماحول کی آلودگی کی ایمرجنسی کے نفاظ کی دہائی دی گئی، ماحول دن بہ دن آلودہ ہوتا جا رہا ہے، اسی سلسلہ میں امریکہ کے سابق نائب صدر نے اپنی ایک اکومنٹری فلم بناکر جہاں ساری دنیا کو حیران وپریشان کر دیا وہاں ہماری خوشیاں بھی پھیکی کر دیں، جی ہاں انہوں نے مانا کہ ابتدا میں بارشوں میں اضافہ ہوگا اور گلیشئر پگھلنے سے وافر مقدار میں پانی دستیاب ہوگا لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی درجۂ حرارت میں اضافہ کے اثرات پاکستان پر نسبتاً زیادہ شدید ہوں گے، بعدازاں پاکستان کو شدید خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا اور سطح سمندر میں اضافے سے بلوچستان کے ساحل بھی متاثر ہو سکتے ہیں، ہم پہلے تو سچ بات ہے یہ سمجھے کہ امریکہ ہمارے وطن کی خوشیوں سے ویسے ہی جلتا ہے مگر جب ہمارے اپنے محکمۂ موسمیات نے زمین کے عالمی دن کے موقع کی نسبت سے ایک رپورٹ وزارت ماحولیات کو بھجوائی جس میں فضائی آلودگی، جنگلات کے کٹاؤ سمیت دیگر ذرائع سے پیداشدہ آلودگی کے پاکستان کے موسم پر اثرات زیرغور لائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی درجۂ حرارت میں اضافہ کے اثرات پاکستان پر دنیا کے دیگر ممالک سے زیادہ ہوں گے کیونکہ پاکستان کے پاس طویل ساحل سمندر ہے، دنیا کا بڑا گلیشئر، بلند ترین پہاڑی سلسلے ریگستان اور میدانی علاقے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابتدا میں یہ اثرات مثبت ہوں گے مگر بعد میں عالمی درجہ حرارت میں اضافہ کے اثرات پاکستان پر انتہائی منفی ہوں گے۔
اب کی بار سردی معمول سے زیادہ پڑی تو ہماری نظر پھر اس رپورٹ پر پڑی ہم ابھی یہ رپورٹ پڑھ کر پریشان تھے ہی کہ خبروں نے ہماری پریشانیوں کو دوچند کر دیا۔ قومی اسمبلی کے گزشتہ روز کے اجلاس میں پھر حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں تلخ کلامی ہوگئی، یہ ارکان بھی کوئی عام لوگ نہیں تھے ایک طرف وزیرمواصلات مراد سعید ہیں اور دوسری طرف اپوزیشن کے لیڈر، سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قادر پٹیل تھے۔ دونوں نے پارلیمنٹ میں حسب روایت ایک دوسرے کو اور ایک دوسرے کے لیڈروں کو اور پارٹیوں کو خوب سنائیں۔ پیارے وطن کو درپیش کئی مسائل سمیت آلودگی کا مسئلہ بھی ہے، اس ماحولیاتی آلودگی کیساتھ ساتھ ہماری پارلیمنٹ ہاؤس کی آلودگی بھی کم توجہ کی حامل نہیں۔ ساری دنیا کا تو ہمیں علم نہیں مگر ہمیں اپنے وطن کا خوب علم ہے کہ یہ ساری کی ساری آلودگی ہماری اپنی پھیلائی ہوئی ہے۔ ہم نہ تو درخت کاٹنے سے باز آئے نہ ہی گاڑیوں کے دھوئیں کا کچھ تدارک ہم یا ہماری حکومت کر سکی۔ پارکوں، ندی نالوں، دریاؤں کو آلودہ ہم خود کر رہے ہیں، جی ہاں پارلیمنٹ کے ماحول کو بھی ہمارے اپنے رہنماؤں نے آلودہ کیا ہے۔ کسی زمانے میں وطنِ عزیز میں آلودگی پر قابو پانے کیلئے ایک کونسل بھی بنائی گئی تحفظ ماحولیات کونسل اور اس کے ایک مشہور ومعروف چیئرمین بھی گزرے ہیں، آصف علی زرداری جو اس وقت کی وزیراعظم کے شوہر نامدار تھے، انہوں نے پورے تن من اور”دھن” سے آلودگی کو مٹانے میں بھرپور کردار ادا کیا اور ملک بھر میں موجود آلودگی کی روک تھام کا سدباب کیا۔ اس دوران صحافیوں نے کہا جناب سیاسی اور پارلیمنٹ کی آلودگی کی طرف بھی توجہ دیں، انہوں نے بڑی معصومیت سے جواب دیا کہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں، میں نے نہیں پھیلائی۔ تب ہماری سادہ لوح صحافی بھائیوں نے عرض کیا کہ محترم ماحول کی آلودگی بھی تو آپ نے نہیں پھیلائی مگر اس کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو پارلیمنٹ کی آلودگی کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔ ہمیں ہمارا مذہب یہ درس دیتا ہے، ہماری اقدار ہمیں یہ سکھاتی ہیں مگر ہمارے ارکان اسمبلی جن کے بارے کچھ کہتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ ان کا استحقاق نہ مجروح ہو جائے کیونکہ ان کا استحقاق ہر چھوٹی چھوٹی بات پرمجروح ہوجاتا ہے، اسمبلی میں آتے ہوئے گارڈ نے سلام کیوں نہیں کیا، ان کا استحقاق مجروح ، پولیس نے معمول کی چیکنگ ان سے کیوں کی، ان کا استحقاق مجروح ہوگیا لیکن جب ہر بڑے شہر کی شاہراہوں پر عام آدمی کی ہر طرح سے بے حرمتی کی جاتی ہے تب ان کا استحقاق مجروح نہیں ہوتا۔ ملک میں مہنگائی سے غریب عوام کا جینا دوبھر ہو جائے ان کا استحقاق مجروح نہیں ہوتا اور یہ امتیازی وصف کسی ایک پارٹی یا کسی ایک جماعت کے ارکانِ پارلیمنٹ کا نہیں بلکہ ہر ایک کا ایک جیسا ہے۔ صدر مملکت کے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پر جس اخلاق کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، جس قسم کے نعرے لگتے ہیں اور اسی معزز ایوان میں ایک دوسرے کے آباؤاجداد کو وہ سنائی جاتی ہیں کہ ایک عام معزز شہری کانوں کو ہاتھ لگا لیتا ہے۔ ان ارکان پارلیمنٹ میں سے ایک کہتا ہے کہ تمہارا باپ غاصب تھا لوگوں کے حقوق کھا گیا، غریب عوام کے فنڈ کھا گیا، جمہوریت کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا تو دوسرا فرماتا ہے کہ تمہارا باپ غاصب تھا جس نے جمہوریت کا قتل عام کیا، کوئی کسی کو کہے گا تم مارشل لاء کی پیداوار ہو وغیرہ وغیرہ۔ یہ ارکان پالیمنٹ ایک دوسرے کے وجود کو بھی برداشت نہیں کر سکتے اور آن دی ریکارڈ گالیاں دی جاتی ہیں، وہ تو بھلا ہو سپیکر صاحب کا کہ ان الفاظ کو حزف کروا دیتے ہیں وگرنہ تاریخ پارلیمنٹ کیا ہوتی لیکن پوری دنیا یہ تماشا دیکھ رہی ہوتی ہے۔