چین میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 1770 سے متجاوز

چین میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 1770 ہوگئی ہے۔چین کے قومی صحت کمیشن نے سوموار کو اس مہلاک وائرس سے متاثرہ افراد اور ہلاکتوں کے نئے اعداد وشمار جاری کیے ہیں اور بتایا ہے کہ ہفتے کے روز کے بعد سےمزید 105 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

اتوار کو چین میں کرونا وائرس سے سب سے متاثرہ وسطی صوبہ حوبئی میں ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔کمیشن کے مطابق چین میں اب تک 70548 افراد کرونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

ان میں 90 فی صد نئے کیسوں کا تعلق حوبئی کے صوبائی دارالحکومت ووہان سے ہے۔ایک کروڑ دس لاکھ آبادی والے اس شہر ہی میں سب سے پہلے گذشتہ سال کے آخر میں جنگلی جانوروں کی ایک غیر قانونی مارکیٹ سے کرونا وائرس پھیلا تھا۔

چینی حکام کے مطابق کرونا وائرس سے متاثرہ ساڑھے 70 ہزار سے زیادہ افراد میں سے 10844 کا علاج کیا گیا ہے اور انھیں صحت یاب ہونے کے بعد اسپتالوں سے ان کے گھروں کو جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔چین سے باہر دوسرے ممالک میں پانچ سو سے زیادہ کیسوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ان میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو ووہان یا چین کے دوسرے شہروں سے اپنے آبائی ممالک کو لوٹے تھے۔ان میں پانچ افراد کی اب تک ہلاکت ہوئی ہے۔

چین کے صوبہ حوبئی میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے اور اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ چینی حکام نے اس مہلک وائرس سے متاثرہ کیسوں کو شمار کرنے کا معیار تبدیل کردیا ہے۔ اب پھیپھڑوں کے ایکسرے یا امیج کے ذریعے کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تشخیص کی جارہی ہے۔

قومی صحت کمیشن کے مطابق صوبہ حوبئی سے باہر بھی چین کے دوسرے علاقوں میں کرونا وائرس کے کیسوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اس امر کی علامت ہے کہ مہلک وائرس پر اب قابو پایا جارہا ہے۔

تاہم عالمی ادارہ صحت کے سربراہ تيدروس أدهانوم غيبريسوس نے خبردار کیا ہے کہ ’’یہ پیشین گوئی کرنا مشکل ہے کہ یہ وبائی مرض آیندہ کیا رُخ اختیار کرے گا۔‘‘