کچھ باعث تاخیر آنکہ

محاورہ تو باعث تحریر آنکہ ہے تاہم یہ جو چند روزہ تاخیر کالم کے لکھنے میں ہوئی تو اس حوالے سے باعث تاخیر آنکہ زیادہ موزوں دکھائی دیتا ہے،ہوا کچھ یوں کہ دس فروری کو ایک ٹی وی چینل کے ادبی شومیں شرکت کے بعد رات تقریباً ساڑھے گیارہ بجے دوستان عزیز ڈاکٹر نذیر تبسم اور پروفیسر ناصر علی سید کی معیت میں گھر پہنچا تو طبیعت کسلمند تھی، اگلے روز جناب سکندر شیرپائو کی دعوت پر حیات محمد خان شیرپائو شہید کی برسی میں شرکت کیلئے ان کے علاقے شیرپائو جانا تھا، پکا وعدہ کرچکا تھا مگر صبح تک صورتحال قابو میں نہیں رہی تھی، خدا جانے اتنی احتیاط کے باوجود فوڈ پوائزننگ کیوں کر ہوئی، ان کی جانب سے گاڑی بھجوانے کا پیغام ملا تو معذرت کی، ویسے ایک عجیب اتفاق یہ بھی تھا کہ گزشتہ برس کی طرح اس بار بھی برسی کے روز بارش ہورہی تھی، پھر یہ ہوا کہ گھریلو ٹوٹکوں سے کام چلانے کی کوشش کی مگر شام تک صورتحال خاصی دگرگوں ہوگئی اور ایک دوست ڈاکٹر کے سینئر کارندے نے گھر آکر رات گئے نہ صرف ڈرپ لگائی بلکہ دوا بھی تجویز کی جس سے وقتی طور پر افاقہ تو ہوا مگر مکمل آرام ندارد، دن بھر دوائیں کھانے سے صورتحال قابو میں آگیا تھا لیکن سہ پہر کے قریب ایک اور ڈرپ کی ضرورت محسوس ہوئی کہ اس دوران جسم سے پانی کا اخراج بڑھنے کی وجہ سے نہ صرف بلڈپریشر بہت نیچے آگیا تھا بلکہ شو گرلیول بھی بہت ڈائون تھا اور ظاہر ہے چکر آنے کی وجہ سے اخبار کیلئے کالم لکھنا تو درکنار اخبارات کا مطالعہ تک ممکن نہیں رہا۔ یوں گزشتہ 11فروری سے جو چند اخبارات روزانہ کی بنیاد پر ملتے ہیں ان کا مطالعہ تادم تحریر ممکن نہیں رہا، اس دوران ٹی وی نشریات سے بھی دور رہنے کی وجہ سے یہ تک نہیں معلوم کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے، بس بچوں سے پتہ چلتا تھا کہ سیاسی اُتار چڑھائو کس نہج پر ہے؟ اس دوران کئی اہم ادبی تقریبات میں شرکت سے بھی معذور رہا، محترمہ کلثوم زیب کی دو کتابوں کی تقریب رونمائی 11فروری کو نشتر ہال کے ہمسائے میں موجود چھوٹے آڈیٹوریم میں منعقد ہونے کی دعوت خود محترمہ کلثوم زیب نے دی تھی تاہم انہیں بتادیا تھا کہ اگر اسی روز شیرپائو شہید کی برسی سے بروقت واپس آگیا تو ضرور حاضر ہو جائوں گا مگر یہ کہاں پتہ تھا کہ طبیعت اتنی خراب ہوگی کہ شیرپائو جانے کی نوبت بھی نہیں آسکے گی۔ بزم بہار ادب کی منعقدہ شاندار تقریب کا دعوت نامہ تواتر کیساتھ نہ صرف فیس بک بلکہ واٹس ایپ پر بھی بار بار مل رہا تھا لیکن ادھر اپنی یہ حالت کہ سر میں شدید چکراور پیٹ بے قابو ہونے کی وجہ سے میری آنیاں جانیاں بستر اور واش روم تک محدود ہو چکی تھیں’ اس دوران اپنے قریبی دوستوں تک کو بیماری کی خبر نہیں لگنے دی’ حالانکہ اکثر لوگوں کو ہم نے دیکھا ہے کہ ذرا سا بخار ہوا وغیرہ وغیرہ تو فوراً بستر سے لگنے کی تصویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتے ہوئے نہ جانے کیا کیا اپیلیں کرتے دکھائی دیتے ہیں اور یار لوگ بھی ان پوسٹوں پر طرح طرح کے تبصرے کرکے اپنے ہونے کی دلیلیں بطور ثبوت دیتے رہتے ہیں۔ اس دوران میں دوتین دوستوں نے بعض معاملات کے حوالے سے میسج ضرور بھجوائے تاہم ان کو تشفی کے دو الفاظ جواباً ارسال کرکے ایک آدھ کے سوا کسی سے بھی بیماری کا تبصرہ نہیں کیا’ یعنی بقول شکیل جاذب اتنا کہا کہ
تم سے کیا شہرکے حالات کی تفصیل کہوں
مختصر تم کو بتاتا ہوں میاں خیر نہیں
دو روز قبل حبیب مکرم جناب عزیز احمد کو تشویش لاحق ہوئی تو ان کی جانب سے مختصر سا میسج ملا کہ” السلام علیکم’ مزاج اچھا ہے؟ یہ نہ ہو کہ آپ نے کالم بھیجا ہو اور ہمیں نہ ملا ہو” دراصل ان کی تشویش بھی درست تھی کہ اس سے پہلے وہ جو کالم میں نے بھیجا تھا تو دو روز تک وہ شائع نہ ہونے کی وجہ سے انہیں توجہ دینے کی درخواست کی تو کالم دوبارہ بھیجنے کا انہوں نے کہا تھا شاید وہ اخبار کے دفتر میں کہیں ادھر ادھر ہوگیا تھا’ وہی کالم دوبارہ ارسال کیا تو 11فروری کی اشاعت میں شامل ہوگیا تھا’ یہی وہ کارن تھا کہ انہوں نے تین روز تک کالم نہ ملنے کی وجہ سے اب کی بار میری توجہ دلائی تھی’ تاہم انہیں صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے لکھا کہ اگلے روز نیا کالم ارسال کردوں گا مگر انہوں نے طبیعت مکمل طور پر بحال ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کالم لکھنے کو کہا اور واقعی اس کے بعد بھی دو دن تک طبیعت کا بھاری پن برقرار رہا۔ سر میں چکر کی وجہ سے لکھنا پڑھنا مکمل طور پر موقوف رہا۔ آج قدرے صورتحال بہتر ہوئی ہے تو حاضری لگوانے کا حوصلہ ہو رہا ہے’ اگرچہ اوپر کی سطور میں گزارش کرچکا ہوں کہ 11 فروری سے لے کر آج یعنی 17فروری تک کے اخبارات کے بنڈل ایک دوسرے کے اوپر رکھے پڑے ہیں اور خرابی صحت کی وجہ سے ان کو پڑھنے کا موقع نہیں ملا، تاہم تجزئیے کی بناء پر کہتا ہوں کہ حالات میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا ہوگا’ یعنی بقول محبوب خزاں
اخبار میں روزانہ وہی شور ہے یعنی
اپنے سے یہ حالات سنور کیوں نہیں جاتے؟
ہمیں پتہ ہے کہ اگر ملکی سیاست پر اسی گھسے پٹے بیانئے کا راج ہوگا جو اس ملک کی سیاست کا ازل سے مقدر ہے تو دوسری جانب عالمی سطح پر ہمارے خلاف گہری سازشیں بھی اسی طرح پنپ رہی ہوں گی۔ اس لئے تو ہم بغیر اخبار پڑھے بھی حالات حاضرہ پر تبصرہ کرنے میں کوئی دقت محسوس نہیں کرتے۔ یہاں جو اقتدار سے محروم ہوجاتا ہے وہ تمام برائیوں کا سبب ہوتا ہے اور جو اقتدار میں آتا ہے اس سے زیادہ ایماندار پوری دنیا میں نہیں ہوتا کہ سیاست کی میوزک چیئر کا یہ کھیل ایک عرصے سے جاری ہے۔ اس صورتحال پر حبیب جالب کا تبصرہ بہت کمال کا ہے جو اپنے زمانے میں بھی معتبر تبصرہ تھا’ آج بھی ہے اورآنے والے کل بھی ہوگا۔
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا
کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتائو
وہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا